آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ رجب المرجب 1440ھ 23؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے آسمان سے اتری ہوئی تین اور چار اپریل کی درمیانی رات میں پھانسی کا جھولتا ہوا رسہ ہم پاکستانیوں کی نارمل سول سوسائٹی کا قتل تھا۔ ہماری سماجی تہذیب کا جنازہ اٹھانے کی شروعات تھی۔ ہمارے سارے ثقافتی رنگوں کی موت کا سفر شروع ہونے والا تھا۔ ہمارے شب و روز میں نیکی اور قانون کے نام پر دلوں کو آسیبی زنگ لگنے کے عہد کی آمد تھی۔ وہ سب لوگ اپنی اصل کے ساتھ عام پاکستانیوں پر غلبہ پا چکے تھے جن کی قلبی لعنت انسانوں کے چہروں سے چمک ختم کر دیتی اور بچوں کی قلقاریاں چھین لیتی ہے۔ ہمارے میلے ٹھیلے، ہماری شامیں، ہماری اقلیتوں کا جینا مرنا، زندگی سے شرابور بسنت کے سارے قصے کہانیاں سب کچھ تمام ہوا، یہ سب کچھ نیکی اور قانون کے نام پر دلوں کو زنگ لگانے کے اسی آسیبی عہد کا آغاز تھا جس کے بعد آج تک کے گزرے چونتیس برسوں میں پاکستان کی سوسائٹی کی پھسلن رک نہیں سکی، ہمالیہ کی بلندیوں سے بہنے والے آنسو اسے نہ جانے کتنی اور کس قسم کی گہرائی تک لے جا کے اپنا سفر روکیں گے!
کبھی میں نے ہی لکھا تھا ’’4؍ اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی موت سے لے کر 17؍ اگست 1988ء تک، 17؍ اگست 1988ء سے لے کر 12؍ اکتوبر 1999ء تک ریاستی جارحیت پسندوں، مذہبی جنونیوں اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے اندرون پاکستان اور بیرون پاکستان طرز کا شعلہ بار فساد

فی الارض برپا کیا، اب وہ شعلے تباہی (واضح رہے، مراد ہے ہماری اپنی تباہی) کی تکمیل کے بغیر بھجتے دکھائی نہیں دیتے۔ مستقبل کا مورخ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور عالم اسلام کے بطل حریت ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کو پاکستان کے بدترین قومی سانحات اور قانون کی ڈکشنری کے خلاف بے دید باغیانہ طرز عمل کے خلاف شمار کرے گا۔ بدطینت ہوس پرستوں اور نظریاتی متشد دین نے بہیمانہ انسانی سفاکیت کے انداز میں ملک کے دو بار منتخب شدہ وزیراعظم کو سزائے موت دلوا دی۔ ان نظریاتی متشددین نے نہایت دیدہ دلیری اور بے حجابی کے ساتھ اس ناقابل تلافی المیے کا دفاع کیا اور گو 4؍ اپریل 1979ء سے لے کر آج تک کسی مقدمہ قتل میں کوئی وکیل یا عدالت ’’بھٹو کیس‘‘کا بطور نظیر حوالہ دینا یا حوالہ سننا خواب و خیال سے بھی پرے سمجھتا ہے، یہ نظریاتی متشددین اسے قانونی فیصلہ قرار دینے پر مصر رہے۔ آج 31(اب چونتیس34) برس گزرتے ہیں، ان میں سے بعض حساس ضمیر افراد کو احساس زیاں نے آ لیا ہے۔ وہ پاکستانی قوم اور پاکستانی دھرتی کے باطنی غم پر اپنے اعترافی ملال کا پھاہا بھی رکھتے ہیں لیکن راتوں کے پچھلے پہر پائوں پسارے ہوئے لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کا سکتہ ٹوٹنے اور متوازن ہونے میں نہیں آتا۔ وہ خاموش منتقمانہ انتظار کے قیدی بن چکے ہیں!
ذوالفقار علی بھٹو کا قتل دراصل خوف زدہ عالمی استعمار کی اجتماعی سازش تھا جس کے لئے انہیں حسب روایت ایک مسلمان ملک میں ریاستی جارحیت پسند اور خود ساختہ اخلاقیات و مذہبی عقائد پر مبنی افراد گروہ در گروہ میسر تھے۔ (1977ء کا قومی اتحاد (پی این اے) اس گروہ بندی کا کالا پہاڑ تھا جس کی چوٹی خونی دیوی کے آدم خور منہ اور جبڑوں سے مشابہ تھی) استعمار نے اپنی منفی ذہانت کے ساتھ انہی کے ہاتھوں انہی کے ایک ایسے فرزند جلیل کو ختم کروا دیا جو صدیوں کا سفر لمحوں میں طے کرانے کے وژن اور صلاحیت کا مالک تھا۔ بین الاقوامی منصوبہ گروں کے نزدیک پاکستان کے اندر آئینی اور فوجی اقتدار کی چپقلش ذوالفقار علی بھٹو کو بھینٹ چڑھانے کا نایاب سنہری موقع تھا جس کے استعمال میں انہوں نے پلک جھپکنے کی بھی دیر نہ کی۔ چنانچہ پروفیسر وارث میرؔ جیسے سچے قلمکار نے اس ٹریجڈی کو درد انگیز سچائی کے ساتھ بیان کیا۔ ’’میں ذوالفقار علی بھٹو کا شمار ان دانشور سیاستدانوں میں کرتا ہوں جنہوں نے اپنی تمام تر شخصی اور طبقاتی کمزوریوں کے باوجود پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کے عوام کو ان کی ہستی کا احساس دلایا، ان میں حقوق کا شعور پیدا کیا۔ ان کی سیاست کو ان کے پس منظر میں سمجھا اور سمجھایا اور ایک وسیع تر ایفرو ایشیائی اور عالمی تناظر میں پاکستان کے لئے ایک نیا اور قابل احترام رول متعین کرنے کی کوشش کی لیکن بھٹو کو سازش کے تحت نہ صرف اقتدار بلکہ زندگی سے بھی محروم کر دیا گیا، اس طرح وہ کام بھی ادھورا رہ گیا جو وہ عام آدمی اور امت مسلمہ کے لئے کرنا چاہتے تھے۔ عوام کے لئے بہتر مستقبل کا خواب آخری سانسوں تک ان کے ساتھ رہا۔ فرانس کے صدر جسکارو کو انہوں نے موت کی کوٹھڑی سے خط لکھا، جس میں انہوں نے کہا ’’مجھے قتل کیا گیا تو میرا لہوبرصغیر کے نوجوان مردوں اور عورتوں کے چہروں پر وہ سرخی بن کر ابھرے گا جو بہار کے موسم میں فرانسیسی گلاب کی پتیوں میں جھلکتی ہے۔‘‘ اسی ذوالفقار علی بھٹو نے دوران مقدمہ کہا تھا ’’میرا مقام ستاروں پر رقم ہے۔ میرا مقام بندگانِ خدا کے دلوں میں ہے۔ میں محکوموں اور نوکروں کا نمائندہ ہوں۔ میری رائے میں یہ عوام ہی ہیں جو مملکت کو مناسب اور صحیح تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔ میں مفلوک الحال اور بے گھر لوگوں کی نمائندگی کا نمائندہ ہوں اور تم امیروں کی نمائندگی کرتے ہو، میں تو بنانے پر یقین رکھتا ہوں تم بنائی گئی اشیاء کی واپسی پر یقین رکھتے ہو۔ میں ٹیکنالوجی پر یقین رکھتا ہوں، تمہارا ایمان ریا کاری پر ہے، میرا دستور پر یقین ہے، تم سمجھتے ہو کہ دستور کاغذ کا ایک پرزہ ہے، میں سمجھتا ہوں ملاں کا مقام مسجد ہے، تم اسے پاکستان کا مالک بنا دینا چاہتے ہو۔ میں خواتین کی آزادی چاہتا ہوں، تم انہیں اندھیرے میں چھپائے رکھنا چاہتے ہو، میں نے سرداری نظام ختم کیا، تم سبی میں شاہی دربار منعقد کر کے اسے بحال کرنا چاہتے ہو۔ میں مشرق پر یقین رکھتا ہوں تمہارا یقین دولت مشترکہ پر ہے۔ ہم ایک دوسرے سے قطبین کی دوری پر کھڑے ہیں اور میں اس دوری پر خدا کا شکر بجا لاتا ہوں، تم تو تعفن زدہ ماضی کی بھی نمائندگی نہیں کرتے، میں مستقبل کی درخشانیوں کا نمائندہ ہوں۔ تم نے تو ہمارے مقدس مذہب کی تبلیغ کو پراگندہ کر دیا ہے یہاں تک کہ قتل و غارت پورے منتقمانہ قہر کے ساتھ شروع ہو گئی ہے۔ جب تم پاکستان کی سلامتی کی بات کرتے ہو تو براہ کرم ہمیں بتا دو، تم پاکستان کو غرناطہ بنانا چاہتے ہو یا کربلا!‘‘
4؍ اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ان ’’چونتیس‘‘ برسوں میں ایک اور نسل پروان چڑھ چکی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے سانحہ کا آسیب تپش، حسرت اور بے بسی کی شکلوں میں آج بھی پاکستانیوں کو ان کی بے وقعتی پر کسی پل چین نہیں لینے دیتی!
ضیاء الحق کائناتی زندگی میں جاری و ساری روح نہیں تھی، لفظ ’’مذمت‘‘ بھی اس کا استحقاق نہیں بنتا، اس نے انسانیت کے سفر میں علم اور ارتقاء کی راہوں پر کھلنے والے شگوفوں اور پھولوں کے لئے خود کو آکاس بیل کے طور پر منتخب کیا۔ بھٹو تاریخ کا استعارہ اور ضیاء تاریخ کا جنازہ کہا جائے گا۔ وقت کے پاس مہر تصدیق دیکھی جا سکتی ہے۔
پاکستان کربلا بنتا ہے یا غرناطہ؟ ملاں کا مقام مسجد ہے یا وہ اس ملک کا مالک ہے؟
بھٹو کی پھانسی سے افغان جنگ تک، افغان جنگ سے مشرق وسطیٰ کی باہمی کشمکش سے ابھرنے والی دوسری متوقع جنگ تک میں ہمارے کردار تک، پورے پاکستان کی ہر گلی اور مسجد سے لے کر وزیرستان کے مجاہدین تک، پاکستانی اسی دائیں بازو اور ملاں کے پاس ہے، اس مقدمے میں ہم سے کسی نے کبھی گواہی لی ہی نہیں، ہم تو صرف مقتول سول سوسائٹی کے قیدی ہیں!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں