آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب سے ملنے گیا تو فرمانے لگے کہ میں نے’’جنگ‘‘ میں آپ کا نظریاتی کونسل کے حوالے سے چھپنے والا آرٹیکل پڑھا ہے کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جو ادا رے اجتہادی اپروچ کو برئوے کار لانے کے لئے تشکیل دئیے گئے تھے آج وہ قوم کو مزید قدامت پسندی کی طرف لے جانے کے لئے کوشاں ہیں۔ضرورت اس امر کی تھی کہ تقلید کی بجائے اجتہاد پر یقین رکھنے والے باصلاحیت جدید فکر و ذہن کے اہل علم کو اس ادارے میں لایا جاتا جس طرح محترمہ بینظیر بھٹو ڈاکٹر خالد مسعود جیسے ریسرچ اسکالر کو لائی تھیں لیکن انہی کی پارٹی نے بعد میں اس ادارے کو بعض مولوی صاحبان کے حوالے کردیا ہے جن کی نظروں میں پاکستان کے مسائل کا حل نابالغ بچیوں کی شادیاں ہیں یا پھر دو، دو تین تین اور چار چار شادیاں ہیں۔ ایوب خان کے عائلی قوانین نے خواتین کے حقوق کو تحفظ دینے کے لئے اگر کچھ قدغنیں لگائی تھیں تو یہ لوگ انہیں بھی ختم کردینا چاہتے ہیں۔ عرض کی ڈاکٹر صاحب شکر کریں ابھی یہ لوگ صرف شادیوں کی بات کررہےہیں ورنہ ان کابس چلے تو یہ لوگ اوماملکت ایمانکم کے تحت بازار بھی لگوادیں۔ ڈاکٹر صاحب بولے دور ملوکیت میں ان لوگوں نے یہی ’’کارنامے‘‘ تو سرانجام دئیے ہیں، جب کالے غلام کو ’’عبد‘‘ اور گورے غلام کو’’مملوک‘‘ کہا جاتا تھا عام کنیز یا لونڈی

باندی اور خدمت گزار قرار پائی تھی اور کسی خوبی یا وصف کی مالک لونڈی کو’’جاریہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ہمارے اس سوال پر کہ ڈاکٹر صاحب علامہ اقبالؒ نے ہندوستان میں جس مسلم مملکت کا خواب دیکھا تھا ان کے پیش نظر اس کا سیاسی سسٹم کیا ہونا چاہئے تھا؟ ڈاکٹر صاحب افسردہ لہجے میں گویا ہوئے کہ حضرت علامہ نے جس جدید فلاحی مملکت کا خواب دیکھا تھا موجودہ پاکستان تو کسی بھی حوالے سے وہ ملک نہیں ہے۔ وہ تو’’سلطانی جمہور‘‘ پر یقین رکھتے تھے یعنی مسلمانوں کو اب جمہوری نظام چلانے کی ذمہ داری بجائے خود قبول کرنی چاہئے تھی یہ جمہوریت نہ توتھیو کریسی یا مذہبی پیشوائوں کی جمہوریت ہے اور نہ دین بیزار۔ اقبالؒ اسے روحانی جمہوریت کا نام دیتے ہیں جس سے مراد ایسی جمہوریت ہے جس میں ہر مذہب کے پیروکاران کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔اقبال اس میں صرف اسلام نہیں بلکہ تمام بانیاں ادیان یا مذاہب کی توہین کو قابل سزا کا قانون چاہتے تھے۔ ہمارے ایک سوال پر ڈاکٹر صاحب محترم نے’’جاوید نامہ‘‘ کے فارسی اشعار سناتے ہوئے بتایا کہ اقبال ذات باری تعالیٰ سے کہلواتے ہیں جس کسی میں بھی تخلیق کی قوت موجود نہیں وہ ہمارے نزدیک کافرو زندیق کے سوا کچھ بھی نہیں اس نے ہمارے جمال میں سے اپنا حصہ نہیں لیا وہ زندگانی کے درخت کا پھل کھانے سے محروم رہا۔ تخلیق کے معاملے میں اقبال کے ہاں نیکی اور بدی یا گناہ اور ثواب میں فرق معدوم ہوجاتا ہے بلکہ تخلیقی انداز میں کیا گیاگناہ بھی ثواب میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ نیک لوگ عموما’’بے وقوف‘‘ ہوتے ہیں کیوں؟ اپنی سادہ لوحی کے سبب۔ جاوید نامہ میں منصور حلاج اقبال کو شیطان سے ملواتا ہے کہتا ہے توحید سیکھنی ہے تو شیطان سے سیکھ کیونکہ وہ عاشق اول توحید کا راز جانتا ہے کہ وحدہ لاشریک کے سامنے جھکا سر کسی اور کے سامنے نہیں جھک سکتا۔تقلید اور اجتہاد کی کشمکش کے حوالے سے سوال پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آج سے قریباً83 برس قبل جب جاوید نامہ تحریر کیا گیا تھا تو یہی کیفیت تھی’’فلک عطارد‘‘ میں عالم اسلام کے مسائل پر بحث کے دوران اقبال سعید حلیم پاشا سے سوال کرتے ہیں کہ’’آج کے زمانے میں اسلام کیوں کفر سے زیادہ رسوا و بدنام ہے؟‘‘ جواب دیا جاتا ہے کہ روح دین سے عاری ملانے مومن کو کافر بنانے کا روپ اختیار کررکھا ہے اس کی کج بحثی کے باعث ملت فرقوں میں بٹ گئی اور حرم کی بنیادیں ہل گئیں۔ کہاں ہمارے ملا اور ان کے مدارس کہاں قرآنی اسرار ایک طرف مادر زاد اندھے دوسری طرف نور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ کائنات کے بارے میں فکر و تدبر کرنا اب کافر کا دین ہے جبکہ دین ملا فی سبیل اللہ فساد کا نام ہے۔پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد ارشد نے بزم اقبال کے ڈائریکٹر جناب حنیف شاہد کے توسط سے یوم اقبال کی مناسبت سے کوپر روڈ کی تقریب کے لئے وقت مانگا تو ڈاکٹر صاحب نے اپنی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میری طرف سے تقریب میں میرا مقالہ افضال ریحان پڑھ دیں گے ۔ یہ بھی ہدایت ہوئی کہ جب وقت ہو توفون کرکے ملنے آجایا کروں۔ نیز ڈاکٹر صاحب محترم نے اپنے فکری کام کی تفصیلات سے بھی آگہی بخشی۔ہماری نظر میں ڈاکٹر جاوید اقبال فرزند اقبال کی حیثیت سے جہاں اقبال کی سب سے انمول و خوبصورت یادگار ہیں وہیں ہمارا علمی و فکری اثاثہ ہیں لیکن افسوس جس طرح ان کے والد صاحب کو ان کی زندگی میں روایتی لوگوں کی طرف سے نہ صرف یہ کہ کڑی تنقیدوں سے گزرنا پڑا بلکہ کفر کے فتویٰ بھی سننے پڑے اس طرح فرزند اقبال کے معاملے میں بھی بالعموم اسی روایت کو برقرار رکھا گیا ہے جبکہ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ وقت کے رہنما یا صاحب دانش کی پہچان اور قدر اس کی زندگی میں کی جانی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں