کراچی(سید محمد عسکری/ اسٹاف رپورٹر) او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کے زیر اہتمام "او آئی سی ممالک میں نمکیات سے پاک کرنے اور گندے پانی کی ری سائیکلنگ کے لیے جھلی ٹیکنالوجیز کی صلاحیت کا جائزہ" کے عنوان سے بین الاقوامی ورکشاپ بدھ کے روز اختتام پزیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں ممتاز آبی ماہرین، محققین اور پانی حوالے سے پالیسی سازوں نے شرکت کی اور پانی کی قلت جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید سائنسی حل پر تبادلہ خیال کیا۔ او آئی سی ممالک کو تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور صنعتی ترقی کے باعث پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اگرچہ یہ ممالک دنیا کے تقریباً دو تہائی رقبے پر مشتمل ہیں اور عالمی آبادی کے 50 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں، تاہم ان کے پاس صرف 14.5 فیصد میٹھے پانی کے ذخائر موجود ہیں۔ اس صورتحال میں پائیدار پانی کے انتظام کو ایک فوری ترجیح حاصل ہے۔ ورکشاپ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سائنسی ترقی، موثر پالیسی سازی، اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے ریورس اوسموسس، نینوفلٹریشن، اور الٹرافلٹریشن اس مسئلے کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک نے پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تحقیق، استعداد کار میں اضافے، اور پالیسی پر مبنی اقدامات کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ خوراک کی دستیابی، توانائی کے تحفظ، شہری ترقی اور صحت عامہ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پروفیسر چوہدری نے نینوٹیکنالوجی، سینسر بیسڈ مانیٹرنگ، اور جی پی ایس ڈیٹا اینالیسس کو پانی کے انتظام میں بہتری کے لیے اہم ٹولز قرار دیا۔ انہوں نے او آئی سی ممالک کے درمیان مزید تعاون پر زور دیا تاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی سے متعلقہ چیلنجز کا موثر حل نکالا جا سکے۔