اسلام آباد (عاطف شیرازی،نامہ نگار) جنید اکبر کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ پی اے سی میں سی ڈی اے کی جانب سے 37 ارب روپے مالیت کے 29 کمرشل پلاٹوں کی نیلامی میں غیرشفافیت کا انکشاف ہوا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سی ڈی اے سے 6ماہ میں فنانشل اسٹیٹمنٹ طلب کرلی۔ کمیٹی نے گنز اینڈ کنٹری کلب کا فنانشل آڈٹ ایک ماہ میں مکمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کردی۔ وزارت داخلہ کے ذیلی اداروں کے آڈٹ پیراز 24-2023کے جائزے کے دوران آئی جی ایف سی خیبرپختونخوا، ڈی جی رینجرز سندھ، ڈی جی گلگت بلتستان سکاؤٹس اور ڈی جی پاکستان کوسٹل گارڈز کی عدم شرکت پر ارکان نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین پی اے سی نے پیراز موخر کردیئے۔ اجلاس میں گن اینڈ کنٹری کلب کی طرف سے بغیر لائسنس کے اسلحہ اور گولہ بارود رکھنے کا آڈٹ پیرا زیر غور آیا، کمیٹی رکن سید حسین طارق نے کہا کہ ایک حکومتی ادارہ بغیر لائسنس کے کیسے اسلحہ خرید رہا ہے، چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ اس معاملے پر ایک ماہ میں انکوائری مکمل کرکے رپورٹ جمع کرائیں۔ چیئرمین پی اے سی نے گن اینڈ کنٹری کلب کا مکمل آڈٹ کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ میں آڈٹ کرکے ہمیں رپورٹ دیں۔ بعد ازاں اجلاس میں وزارت داخلہ کے ذیلی ادارے سی ڈی اے کی آڈٹ رپورٹ برائے سال 24-2023 کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں سی ڈی اے کی جانب سے 29 کمرشل پلاٹس کی غیر شفاف نیلامی کا انکشاف سامنے آیا۔