اسرائیلی فوج کی تحقیقاتی رپورٹ میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں ناکامیوں کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل حماس سے متعلق ایک بڑی غلط فہمی میں مبتلا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے حماس کے ارادوں کو غلط انداز میں سمجھا اور فرض کر لیا کہ فلسطینی گروہ اسرائیل کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں اور وہ وسیع پیمانے پر جنگ میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
اسرائیلی فوج نے یہ تصور کیا کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس سرحدی باڑ کسی بھی خطرے کو روکنے کے لیے کافی ہوگی۔
رپورٹ میں ملٹری انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ حماس کئی سالوں سے اسرائیل کے خلاف بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
انٹیلیجنس نے یہ بھی خیال کیا کہ حماس کے شہید رہنما یحییٰ سنوار اسرائیل کے ساتھ کسی بڑی کشیدگی کے خواہاں نہیں تھے۔
تحقیقات میں یہ بھی پایا گیا کہ حماس نے اپریل 2022 میں حملے کا فیصلہ کیا تھا۔ ستمبر 2022 تک وہ 85 فیصد تیاری کر چکا تھا اور مئی 2023 میں اس نے 7 اکتوبر کو حملے کی حتمی منظوری دے دی۔
7 اکتوبر 2023 کے حملے سے ایک روز قبل اسرائیلی فوج کے اعلیٰ حکام نے غیر معمولی سرگرمی کے 5 نشانات شناخت کیے، مگر فوری حملے کے خدشے کو نظر انداز کر دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیل کے اس تاثر کے باعث کہ حماس جنگ نہیں چاہتا کی وجہ سے فیصلہ سازوں نے وہ اقدامات نہیں کیے جو ممکنہ طور پر اس حملے کو روک سکتے تھے۔
واضح رہے کہ برسوں سے جاری اسرائیلی ظلم و ستم کے ردعمل میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس سمیت دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیل پر ہزاروں راکٹس فائر کیے اور سرحد پر قائم باڑ توڑ کر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی آبادیوں اور فوجیوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 1 ہزار سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے اور سیکڑوں اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو یرغمال بنا کر غزہ لایا گیا۔
7 اکتوبر کے حملوں کو جواز بنا کر اسرائیل نے اگلے ہی دن سے غزہ کے شہریوں پر بدترین فضائی بمباری کا آغاز کیا اور ساتھ ہی کچھ دن بعد زمینی کارروائی بھی شروع کردی جو 19 جنوری 2025 کو ایک جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں رکی تاہم اسرائیلی فوج اب بھی غزہ کے اندر اسرائیلی سرحد کے قریب کچھ علاقوں میں موجود ہے۔
15 ماہ تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں اب تک 48 ہزار 365 فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ 11 ہزار 780 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والے فلسطینیوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔