آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حالیہ بھارتی انتخابات میں بی جے پی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے جبکہ دس برس سے برسراقتدار جماعت کانگریس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان انتخابی نتائج کے خطے پر بالعموم اور پاکستان پر بالخصوص گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔مودی حکومت اور پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی ازسرنو مرتب کرنا ہو گی۔
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے۔ گرچہ وہاں رائج سیاست اور سیاسی نظام ہر گز کمزوریوں اور خامیوں سے مبرا نہیں مگر وہاں جمہوریت کی جڑیں ضرور گہری ہیں۔ بھارت میں 1952ء سے اب تک باقاعدگی سے انتخابات کا انعقاد ہوتا رہا اور سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج بھی قبول کرتی رہیں۔ سیاستدانوں کا یہی طرز عمل بھارت میں جمہوریت کی مضبوطی اور اداروں کے استحکام کا باعث بنا جبکہ ہمارے ہاں صورت حال قطعاً مختلف رہی۔ پہلے انتخابات کا انعقاد قیام پاکستان کے3 2 سال بعد یعنی 1970ء میں ہوا۔ سیاستدانوں نے ان کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا ۔ یہ رویہ پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا باعث بنا۔ دوسرے انتخابات 1977ء میں ہوئے، ان کے نتائج بھی متنازع ٹھہرائے گئے۔ یہ صورت حال مارشل لاء اور وزیر اعظم کی پھانسی پر منتج ہوئی۔ 1988ء کے بعد بھی حکومتیں بنائی اور گرائی جاتی رہیں اور آخر

کار ایک بار پھر مارشل لاء کی راہ ہموار ہو گئی۔ 2008ء کے بعد سیاستدانوں نے کسی قدر بالغ نظری کا مظاہرہ کیا مگر تاحال صورت حال قابل رشک نہیں۔
حالیہ بھارتی انتخابات پاک بھارت تعلقات اور خارجہ پالیسی پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں،اس بحث سے قطع نظر یہ انتخابات کئی حوالوں سے پاکستان کے گذشتہ انتخابات سے مماثلت رکھتے ہیں تاہم ہمارے ہاں سیاسی رہنمائوں کے رویے بھارت کی بہ نسبت قدرے مختلف رہے۔ ہمارے ہاں سیاستدان اپنی شکست تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے جبکہ بھارتی نظام سیاست کا حسن سیاست دانوں کا جمہوری طرز عمل ہے۔ بھارت میں برسراقتدار جماعت کانگریس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کی وجہ بیڈ گورننس اور کرپشن تھی۔ پاکستان میں بھی برسراقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی انہی وجوہات کی بنا پر ہار گئی۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے انتخابی نتائج کے فوراً بعد اپنی شکست کو عوام کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا۔ یہ جماعت قریباً ایک سو برس پرانی ہے جس نے آزادی ہند میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اسے حکمرانی کا 50 سالہ تجربہ ہے مگر جماعت کی سربراہ نے کوئی بھی جواز بناتے ہوئے انتخابات کو متنازع بنانے سے گریز کیا جبکہ ہمارے ہاں حکومت کا ایک برس مکمل ہونے کے بعد انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔بھارت میں نریندر مودی کو بی جے پی کی فتح کا سبب قرار دیا گیا۔اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں مودی نے گجرات کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنایا۔ان کی حکومت کی کارکردگی اور گڈ گورننس بی جے پی کی جیت کا سبب بنی۔ پاکستان میں بھی قریباً یہی صورت حال رہی اور پنجاب میں شہباز شریف حکومت کی کار کردگی اور گڈ گورننس مسلم لیگ ن کی بھاری اکثریت سے کامیابی کا باعث بنی۔ پاکستان کی طرح بھارت میں بھی پہلی بار بڑی تعداد میں نوجوان رائے دہندگان انتخابی عمل کا حصہ بنے۔ قریباً 15 کروڑ نوجوان رائے دہندگان پہلی بار انتخابی فہرستوں میں شامل ہوئے۔ پاکستان ہی کی طرح بھارت میں بھی پہلی بار میڈیا کا استعمال بے حد زیادہ ہوا۔ خاص طور پر سوشل میڈیا بیشتر جماعتوں کی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنا رہا۔ ایک اور دلچسپ مماثلت اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی کی صورت میں دیکھنے میں آئی۔اس جماعت کا موازنہ تحریک انصاف سے کیا جا سکتا ہے۔ اروند کجریوال نے بھی موروثی سیاست، کرپٹ نظام کے خاتمے اور عام آدمی کے حقوق کی بات کر کے بے حد مقبولیت حاصل کی۔ پاکستان ہی کی طرح مبصرین اس جماعت کی قابل ذکر کامیابی کے حوالے سے پر امید تھے۔ یہ رائے بھی موجود تھی کہ یہ جماعت کم و بیش 70نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ قیاس آرائیوں کے برعکس یہ جماعت چار حلقوں سے کامیاب ہو سکی تاہم کجریوال نے نہ تو دھاندلی کا شور مچایا اور نہ ہی اپنی مقبولیت گنواتے ہوئے اپنے جلسوں اور ٹوئٹر کے ایک کروڑ اسّی لاکھ مداحوں (follower) کا ذکر کیا بلکہ جمہوری طرز عمل اپناتے ہوئے انتخابات کو تسلیم کیا اور ان چار حاصل شدہ نشستوں کو بھی اپنی کامیابی قرار دیا۔
جہاں تک میڈیا کا معاملہ ہے تو بھارتی میڈیا بالعموم اور چھ بڑے ٹی وی چینلز بالخصوص نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے اور بی جے پی کی جیت کی پیشگوئی کر چکے تھے۔ opinion pollsہوں یا ایگزٹ پولز، نریندر مودی کو وزیر اعظم قرار دیا گیا مگر ہارنے والے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں نے سروے اور میڈیا کی پیشن گوئیوں کو جواز بناتے ہوئے دھاندلی کا نعرہ نہیں لگایا۔
گرچہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروندکجریوال اپنی انتخابی مہم میں نریندر مودی پر نامور بزنس ٹائیکونز کی مدد سے روپے کے بل بوتے پر رائے دہندگان کو متاثر کرنے کا الزام عائد کرتے رہے۔ واقعتاً نریندر مودی کی انتخابی مہم پر ایک ہزار کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ کاروباری اشرافیہ اور آر ایس ایس کی جانب سے میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے رائے عامہ مودی کے حق میں ہموار کرنے کے معاملات بھی سامنے آئے۔ بڑے میڈیا ہائوسز میں صحافتی عہدیداروں کی اکھاڑ، بچھاڑ کے واقعات بھی رونما ہوئے مگر اس سب کے باوجود اروند کجریوال سمیت کسی بھی جماعت نے انتخابی عمل اور نتائج کی ساکھ کو متاثر نہ ہونے دیا۔جبکہ دوسری جانب ہم ہیں کہ اپنے جمہوری نظام کے استحکام اور اداروں کی ساکھ کے درپے ہیں۔حالانکہ ہمارے داخلی اور خارجی حالات تصادم گریز طرز عمل کے متقاضی ہیں۔ حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد تحریک انصاف دھاندلی کا شور مچائے ہوئے ہے۔ ہمارے ہاں رائج سیاست کے تناظر میں انتخابی دھاندلی کے امکانات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا مگر ٹھوس شواہد کے بنا پر ان الزامات کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں۔ بہت اچھا ہوتا اگر عمران خان اس ایک سال کے عرصہ میں شواہد اکٹھے کرتے اور انہیں قوم کے سامنے لاتے مگر ایسا نہ کیا گیا۔ مزید براں عمران خان اپنا واجب الادا کردار ادا کرنے میں بھی ناکام رہے۔ تسلیم کہ ایک سال میں وفاقی حکومت کی کارکردگی مناسب رہی مگر اسے بہترین قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بہت سے معاملات اصلاح احوال کے متقاضی تھے۔ عمران خان بطور اپوزیشن لیڈر ان معاملات پر گرفت کر سکتے تھے مگر صرف نظر برتا گیا۔ انتخابی اصلاحات کا بل ایک سال سے زیر التواء ہے ، احتساب بل،قومی دولت لوٹنے والوں کا محاسبہ، سرکاری اداروں میں کی جانے والی تعیناتیوں سمیت دیگرمعاملات پر عمران خان اپنا مثبت کردا ادا کر سکتے تھے مگر فقط نعرے بازی پر اکتفا کیا گیا۔ بھارت میں عام آدمی پارٹی کے اروند کجریوال نظام بدلنے کا نعرہ لگا کر 2013 ء میں ریاست دہلی کی وزارت اعلیٰ تک پہنچے مگر آئیڈیلزم کے اسیر کجریوال زمینی حقائق کی تاب نہ لاتے ہوئے فقط49روز بعد ہی مستعفی ہوگئے۔ عوام نے ان کا یہ طرز عمل پسند نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی جہاں کچھ ماہ قبل انہوں نے اچھی خاصی اکثریت حاصل کی تھی ، وہاں2014ء کے انتخابات میں ان کی پارٹی بری طرح ناکام رہی اور کوئی سیٹ حاصل نہ کر سکی۔وجہ یہ کہ عوام الناس کھوکھلے نعروں کے بجائے عملی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔عمران خان کو بھی اس صورت حال سے سبق سیکھنا چاہئے۔انہیں خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے اور پارلیمنٹ میں اپنا حقیقی کردار ادا کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ یوں بھی ہمارے داخلی اور خارجی حالات کے تناظر میں ملک کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کا ہر گز متحمل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت میں ہم آہنگی ہو اور وہ قومی معاملات پر متحد ہو۔غلط کاموں پرحکومت کی گرفت اوراختلاف رائے سیاسی جماعتوں کا قابل جواز حق سہی مگر یہ سب جمہوری نظام کی ساکھ اور استحکام کی قیمت پر ہر گز نہیں ہونا چاہئے۔یوں بھی مستقبل قریب میں ہمارے مشرقی اور مغربی محاذ خاص سفارتی اور عسکری توجہ کے متقاضی ہوں گے لہذٰا دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ آپس میں داخلی محاذ کھولنے سے گریز کی راہ اپنائی جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں