آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وزیراعظم میاں نواز شریف نے نئی دہلی میں بھارتی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے دوران خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کا قیام ناگزیر ہے اور دونوں ممالک کو تصادم کو تعاون میں تبدیل کرنا چاہئے۔ میاں نواز شریف کے دل میں دونوں ممالک کے درمیان امن کے قیام کی یہ خواہش نئی نہیں ہے بلکہ ماضی میں وہ اس کی بھاری قیمت بھی چکا چکے ہیں۔ پہلی بار 1997ء کی انتخابی مہم کے دوران بطور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما میاں نواز شریف نے جب واضح طور پر اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ان کی اولین ترجیح ہو گی تو بہت سوں کے کان کھڑے اور ماتھوں پر شکنیں نمودار ہو گئی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ برسراقتدار آ کر بھارت کے ساتھ بات چیت کے دوران لچکدار رویہ اختیار کریں گے۔ میاں نواز شریف نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی اپنی خواہش کو پارٹی کے منشور کا حصہ بھی بنایا تھا۔1997ء کے انتخابات میں عوام نے میاں نوازشریف کو دو تہائی اکثریت سے ملک کا وزیراعظم منتخب کر لیا،عنان اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے خواب کی تعبیر کیلئے میاں نواز شریف نے بھارتی وزیر اعظم دیو گوڑا اور ان کے بعد آنے والے اندر کمار گجرال سے راہ و رسم بڑھانے کی بھرپور کوششیں کیں ۔ اس وقت بھی میاں نواز شریف نے اندر

کمار گجرال کو پاکستان اور بھارت کے درمیان اقتصادی شعبے میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا تھا جس کے نتیجے میں 12 مئی 1997ء کو مالے میں سارک سمٹ کے دوران پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات ہوئی ۔بعد میں اسلام آباد میں سیکرٹری خارجہ کی سطح کے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر سمیت 8 نکاتی متفقہ ایجنڈے اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام کی صورت میں اہم پیشرفت بھی سامنے آئی تاہم بھارتی حکومت کے خاتمے سے معاملات تعطل کا شکار ہوگئے۔ مارچ 1998ء کے بھارتی انتخابات میں انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی سے اٹل بہاری واجپائی نے اندر کمار گجرال کی جگہ لی تو میاں نواز شریف نے ایک بار پھر دوستی کا سندیسہ بھیجا جس کے مثبت جواب سے انہیں نیا حوصلہ ملا۔
ستمبر 1998ء میں یو این جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں واجپائی نواز مصافحہ ہوا تو نیو دہلی سے لاہور تک دوستی بس سروس شروع کرنے کی نوید سننے کو ملی۔ بعد میں ایک بھارتی صحافی کو انٹرویو کے دوران میاں نواز شریف نے خواہش ظاہر کی کہ اٹل بہاری واجپائی دوستی بس سروس کے افتتاح کے موقع پر آئیں تو انہیں استقبال کر کے مسرت ہو گی۔ میاں نواز شریف سمیت پاکستان اور بھارتی عوام کے لئے اس وقت خوشگوار حیرت کے لمحات پیدا ہوئے جب واجپائی نے خلاف توقع انتہائی مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے 20 فروری 1999ء کو لاہور آنے کا اعلان کر دیا۔بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے دوستی بس میں بیٹھ کر جیسے ہی واہگہ بارڈر کو عبور کیا تو ان کے استقبال کے لئے موجود وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو پاک بھارت تعلقات کی تصویر میں رنگ بھرتے ہوئے محسوس ہوئے۔حریف ممالک کے امن کے متلاشی رہنماؤں نے جیسے ہی ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما تو واجپائی نے خود بھی ان لمحات کو جنوبی ایشیاء کے لئے تاریخ ساز قرار دیا تھا۔ اس کے بعد جب بھارتی وزیر اعظم نے مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر یہ کہا کہ ان کے دوستوں نے انہیں مینار پاکستان پر جانے سے منع کیا تھا کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ میرا یہاں آنا قیام پاکستان کو تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان ہمارے مفاد میں ہے تو دونوں اطراف کے انتہا پسند عناصر کو یہ بیان ہضم نہ ہو سکا۔اسی دورے میں جب مسئلہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے روڈ میپ پر مبنی تاریخی اعلان لاہور پر دونوں سیاسی رہنماؤں نے دستخط کئے تو کئی حلقوں کو اپنی بالادستی کمزور ہوتی دکھائی دی۔ واجپائی ابھی لاہور کے تاریخی مقامات کی سیر کر رہے تھے کہ ایک مذہبی جماعت کے سیکڑوں کارکنان ان کے دورہ پاکستان کے خلاف سراپا احتجاج ہو گئے ۔ اعلان لاہور کے بعد پاک بھارت عوام اور عالمی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئی شروعات کی امیدیں بندھ گئی تھیں لیکن ابھی اس تاریخی معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ مئی 1999ء میں کارگل کے واقعات کے باعث اعلان لاہور کے ساتھ امن عمل بھی کھوہ کھاتےچلا گیا۔تاریخ کا پہیہ ایک بار پھر گھوم کر فروری 1999ء کے مقام پر پہنچ چکا تھااور وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے بی جے پی کے نو منتخب وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں ایک بار پھر عزم دہرایا ہے کہ وہ دھاگوں کو وہیں سے سلجھانا چاہتے ہیں جہاں 1999ء میں یہ الجھ گئے تھے لیکن میاں صاحب بھاری مینڈیٹ کے باوجود آج15سال بعد بھی ان الجھے دھاگوں کی گھتیاں سلجھانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا دو تہائی اکثریت کیساتھ اس وقت تھا۔ ڈیڑھ ارب افراد کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے امن کے قیام کی آپ کی دیرینہ خواہش اپنی جگہ لیکن یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ اس فاختہ کی اڑان کے مخالف پاکستان اور بھارت دونوں جگہ موجود بھی ہیں اسی لئے ڈوریاں ہلنے پر کوئی یہ راگ الاپ رہا ہے کہ 45 منٹ کی ملاقات میں کشمیر کے مسئلے کو حل کیوں نہیں کیا جا سکا تو کوئی حریت رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے کو جواز بنا کر تنقید کر رہا ہے۔ دوسری طرف بھارت میں بھی یہ حال ہے کہ ابھی وزیراعظم نواز شریف بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد آپ پاکستان پہنچے ہی ہیں کہ بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے فجر کی اذان پر پابندی لگانے اور مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے مطالبات کر دیئے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں امن عمل کو سبوتاژ کرنے والے اس بار بھی کوئی نہ کوئی گل ضرور کھلائیں گے اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ حکمران تنے ہوئے رسے پر چلتے ہوئے امن کی منزل کے حصول کیلئے اپنا توازن درست رکھیں تاکہ اس بار تاریخ خود کو دہرا نہ پائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں