آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ ہفتے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو ایک خط کے ذریعے تجویز کیا کہ انتخابی اصلاحات کے لئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعظم نے تجویز دی کہ یہ کمیٹی وسیع تر اختیارات کی حامل ہو جو نگران حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی تعیناتیوں اور اختیارات سمیت انتخابی نظام میں بہتری لانے کیلئے اقدامات تجویز کرے۔ مزید براں اگر یہ کمیٹی ضروری خیال کرے تو انتخابی اصلاحات کے لئے آئینی ترامیم بھی تجویز کرے۔ غیرجانبداری سے دیکھا جائے تو یہ ایک مثبت پیشرفت ہے اور عمومی طور پر وزیراعظم کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔ خوش آئند امر ہے کہ یہ کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ تین ماہ میں پیش کرنے کی پابند ہوگی۔اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ جمہوری معاشروں میں انتخابات کی ساکھ کا معاملہ ان کے انعقاد سے بھی زیادہ اہم گردانا جاتا ہے تاہم بدقسمتی سے ہماری انتخابی تاریخ قابل رشک نہیں ہے۔ 1956ء میں پاکستان کا پہلا آئین تشکیل دیا گیا۔ جس میں ہر پانچ سال بعد انتخابات کا انعقاد آئینی فریضہ قرار پایا۔ 1958ء میں انتخابات کی تیاری جاری تھی کہ مارشل لا نافذ کر دیا گیا، سو انتخابات ملتوی ہوگئے ۔ پہلے انتخابات کا انعقاد قیام

پاکستان کے 23 سال بعد یعنی 1970ء میں ممکن ہوا یعنی قریباً ربع صدی بعد عوام الناس سے پوچھا گیا کہ وہ حق حکمرانی کسے تفویض کرنا چاہتے ہیں۔ گرچہ یہ انتخابات قدرے غیرجانبدار اور شفاف تھے مگر ان کے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے گریز اور اکثریتی جماعت کو اختیارات کی منتقلی میں تاخیر، ملک کو دو لخت کرنے کا باعث بنی۔ بعد ازاں باقاعدگی سے انتخابات کا انعقاد نہ کیا گیا اور جب بھی انتخابات ہوئے، انتخابی نظام مشکوک اور نتائج کو متنازع قرار دیا جاتا رہا۔ اسی طرز عمل کے باعث کبھی مارشل لا کی راہ ہموار ہوئی۔ کبھی جمہوری وزیر اعظم پھانسی چڑھا اور کبھی جلاوطن ہوا۔ سو نہ جمہوریت پنپ سکی اور نہ ہی ادارے مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔انتخابی تاریخ اٹھا کر دیکھئے کوئی ایک بھی الیکشن ایسا نہیں جس کے نتائج خوش دلی سے قبول کئے گئے ہوں۔ آج 67 برس بعد بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے۔ حکومت اپنے عرصہ اقتدار کا ایک برس مکمل کر چکی مگر چند سیاسی جماعتیں انتخابی عمل اور نتائج کو متنازع بنائے ہوئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف بھی چار حلقوں میں دھاندلی کو جواز بنائے پورے انتخابی عمل سمیت عدلیہ، میڈیا اور الیکشن کمیشن کو متنازع قرار دیئے ہوئے ہے۔ گرچہ ہمارے ہاں رائج سیاست کے تناظر میں دھاندلی کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ سو اگر کسی فریق کو دھاندلی کی شکایت ہو تو مناسب تحقیقات کے بعد اس کی تسلی کی جانی چاہئے۔ یوں بھی دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ ہر فریق کا قابل جواز حق ہے مگر یہ سب کچھ جمہوری نظام اور اداروں کے استحکام اور ساکھ کی قیمت پر ہر گز نہیں ہونا چاہئے۔ احتجاج ہو یا تحقیقات کا مطالبہ یہ سب قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کیا جانا چاہئے اور شواہد کی فراہمی کیساتھ۔جہاں تک انتخابی نظام کا تعلق ہے تو واقعتاً یہ اصلاح احوال کا متقاضی ہے۔ بعض معاملات میں قانون سازی کی ضرورت ہے جبکہ بعض میں قوانین کے عدم نفاذ کا معاملہ در پیش ہے۔ مثال کے طور پر دھاندلی اور دیگر شکایات کے لئے الیکشن ٹربیونلز موجود ہیں جو قانونی طور پر چار ماہ کے اندر فیصلہ دینے کے پابند ہیں مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود کیسز نہیں نمٹائے جا سکے۔ بعض معاملات میں کوئی فریق مسلسل غیر حاضر رہتا ہے تو اس کی گرفت کیلئے مناسب قانون موجود نہیں۔ اسی طرح الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ انتخابی ضابطہ اخلاق موجود تو ہے مگر یہ امیدواروں کو مکمل طور پر قواعد و ضوابط کا پابند بنانے سے قاصر ہے ۔ کھلم کھلا خلاف ورزی کے باوجود گرفت اور سزا سے متعلق قوانین بروئے کار نہیں آتے۔ سیاسی امیدواروں کے لئے انتخابی اخراجات کی ایک حد مقرر ہے مگر سیاسی جماعتوں کو کسی حد کا پابند نہیں کیا گیا۔ سو امیدوار سیاسی جماعت کے نام پر لاکھوں کروڑوں روپے اپنی انتخابی مہم پر لگاتے اور کسی قانونی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں۔
اسی طرح اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا معاملہ بھی بے حد اہم ہے۔ انہیں یہ حق توحاصل ہے مگر سہولت میسر نہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی اس پر اصرار کرتی ہیں ۔اس کے لئے کوئی قابل بھروسہ نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ صدارتی نظام کی صورت میں یہ معاملہ قدرے آسان ہوتا ہے مگر پارلیمانی نظام میں بیرون ملک سیکڑوں ڈبوں کے ذریعے ووٹنگ کرانا بے حد مشکل عمل ہے۔ ہرچند انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں کوئی حل نکالا جا سکتا ہے مگر جو بھی نظام وضع کیا جائے وہ ایسا قابل اعتبار ضرور ہوجس کی ساکھ اور اعتبار پر حرف نہ آئے۔
کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں بھی پڑوسی ملک بھارت کی طرز پر AVMs (Automatic voting machines) کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا بھی یہ نظام کو متعارف کرانے پر اصرار ہے۔جدید طریقہ کار ضرور متعارف کرایا جانا چاہئے مگر باقاعدہ چھان پھٹک کے بعد۔ جہاں تک AVM کا تعلق ہے تو یہ بھی کوئی آئیڈیل طریقہ کارنہیں ہے۔ بھارت میں گزشتہ انتخابات کے دوران ان مشینوں کو ٹمپر کرنے کے الزامات سامنے آئے۔ نتیجتاً اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی روشنی میں اس بار مشینوں کے متوازی پرچی کا نظام بھی رائج کیا گیا یعنی وہاں پر بھی سیاستدانوں کو دھاندلی کی شکایات رہتی ہیں مگر جمہوریت کو پٹڑی سے اکھاڑنے کے بجائے اصلاحات پر زور بازو صرف کیا جاتا ہے۔
الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ممبران عام طور پر عدلیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اکثر یہ معاملہ بھی زیر بحث رہتا ہے کہ ججوں کا کام انصاف کی فراہمی ہوتا ہے جبکہ یہ انتظامی نوعیت کا کام ہے۔ سو فقط ججوں پر اکتفا کرنے کے بجائے تعیناتیوں کا دائرہ کار دیگر شعبوں سے متعلق لوگوں تک بھی بڑھانا چاہئے۔ اسی طرح اور بہت سے معاملات ہیں ۔اس بار نگران حکومتوں کا تجربہ بھی بہت زیادہ کامیاب نہ رہا۔ خاص طور پر جس طرح سندھ میں ایم کیو ایم نے آخری وقت پر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ کر اصل اپوزیشن کو نگران حکومتوں کے قیام میں کردار ادا کرنے سے محروم کر دیا۔ سو یہ قانون بھی نظرثانی کا متقاضی ہے۔کوئی ایسی قانون سازی بھی ضرور کی جانی چاہئے جس میں بغیر شواہد دھاندلی کے الزامات کو قابل گرفت عمل گردانا جائے۔
ایک اور معاملہ بھی بے حد اہم ہے۔ عمومی طور پر ہمارے ہاں گورنر سیاسی وابستگی کے حامل ہوتے ہیں۔ ایوان صدر کی بھی یہی صورت حال ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن اور انتخابی قوانین کو اس قدر بااختیار اور توانا ہونا چاہئے کہ وہ گورنر ہائوسز اور ایوان صدر کو انتخابات سے قبل اور انتخابات کے دوران سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بننے اور انتخابی نظام پر اثر انداز ہونے سے روکنے کے لئے پوری قوت سے بروئے کار آ سکیں۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے معاملات توجہ کے متقاضی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر وزیراعظم کی جانب سے اس کمیٹی کا قیام تجویز کیا گیا ہے تو اس موقع کو غنیمت گردانتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اچھا ہو کہ تمام جماعتیں اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور قانونی سمجھ بوجھ رکھنے والے جماعتی اراکین کو تجاویز کی تیاری کا فریضہ سونپیں تاکہ تمام جماعتیں انتخابی نظام کی اصلاح احوال میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں