آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 12؍شوال المکرم 1440ھ16؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
SMS: #AJC (space) message & send to 8001
گزشتہ دنوں پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں رات کے آخری پہر میں پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکریٹریٹ پر قائم مبینہ طور پر مورچوں اور رکاوٹوں کو ہٹانے کے لئے انتظامیہ نے پولیس کی مدد سے آپریشن کا آغاز کیا۔ کئی گھنٹوں پر محیط یہ آپریشن چلتا رہا۔ 11افراد کی جانیں گئیں اور 100کے لگ بھگ افراد شدید زخمی ہوئے۔ 2خواتین بھی موت کی آغوش میں گئیں اور اس کے بعد جس قسم کے بحث و مباحثے کا آغاز ہوا ہے، وہ ایک لمحہ فکریہ ہے مجموعی طور پر ہمارے ضمیر اور قومی حمیت کے لئے۔ ایک جانب حکومت نے ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا جسے پاکستان عوامی تحریک کے رہنما نے یکسر مسترد کردیا۔ عمومی طور پر تو یہ طریقہ ہے کہ اس قسم کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کہ پاکستان میں کمیشن کی تاریخ بہت تکلیف دہ ہے۔ وہ نہ تو کسی نتیجے پر پہنچ سکا ، نہ ہی کسی کی داد رسی کرسکا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہونا کیاچاہئے۔ فوری طور پر درجہ حرارت کم کرنے کے لئے پوری پولیس ٹیم کو کم از کم معطل کرکے محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کیاجاتا لیکن اس کے برعکس مشاہدے میں یہ بات آئی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنما ایسے بیانات دیتے نظر آئے جنہوں نے جلتی پر تیل کاکام کیا۔

معاملات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔ صد افسوس! ایسا نہ ہوسکا بلکہ خواجہ سعد رفیق نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو احسان فراموشی کا طعنہ تک دے ڈالا۔ یہاں اس حقیقت کو واضح کرنا ضروری ہے کہ اگر ہم ماضی کے اوراق کو پلٹیں تو پہلی احسان فراموشی 1992ء میں نظر آتی ہے جب موجودہ حکمرانوں نے اپنے اتحادیوں کے خلا ف ہی ملک دشمنی کا الزام لگا کر آپریشن کا آغاز کیا اور آج تک کسی ایک الزام کو بھی پاکستان کی کسی عدالت میں ثابت نہ کیا گیا۔ دوسرا مرحلہ اس وقت آیا جب میاں نواز شریف نے 1997ء میں حکومت سازی کے لئے ایم کیو ایم کی مدد طلب کی اور اکثریت نہ ہونے کے باوجود سندھ کی وزارتِ اعلیٰ حاصل کی اور ایک مبینہ مقدمے میں ایم کیو ایم کی قیادت کو موردِ الزام ٹھہرا کر سندھ میں گورنر راج نافذ کیا۔ بعد ازاں وہ مقدمہ بھی جھوٹا ثابت ہوا اس کے علاوہ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب محمد خان جونیجو مسلم لیگ کے سربراہ تھے تو انہیں کس طرح سے نقب لگا کر عہدے سے الگ کیا گیا۔ یہاں پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا وہ قول بھی صادق آتا ہے کہ جس پر احسان کرو، اس کے شر سے بچو۔ یہاں یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ایم کیو ایم پر کوئی سیاسی احسان نہیں کیا۔ ہاں البتہ اس (PMLN) پر جن لوگوں نے احسانات کیے، اسے جواب اچھا نہیں دیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی ذہنوں میں رہنی چاہئے کہ جب 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی چھتری تلے تحریک چل رہی تھی تو پورے ملک میں خون بہا لیکن جب سرزمین پنجاب خون سے رنگین ہوئی تو حکمرانوں کو بہت بھاری پڑی۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ لہٰذا حکمرانوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اگر انہیں اپنی معاشی و اقتصادی پالیسیاں نافذ کرکے اپنے معینہ اہداف کو حاصل کرنا ہے تو سیاسی محاذوں پر بھی بردباری، تحمل اور حلم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر بعض وزرا کی ہرزہ سرائی پہلے ہی حکومت کو ایک بند گلی میں لاچکی ہے وہ اس قسم کی زبان استعمال کررہے ہیں، اپنے آپ کو سیاسی کارکن گرداننے والے سیاسی اقدار کو پامال کر رہے ہیں، اس پر وزیر اعظم کی خاموشی اس بات کا اظہار ہے کہ وہ اس عمل کو درست سمجھ رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں مسلح افواج ضرب عضب کے نام سے جاری آپریشن میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ایسے موقعوں پر ملک میں خون بہنا، سیاسی درجہ حرارت بڑھنا ملک کی سالمیت اور بقاء کے لئے اچھا شگون نہیں۔
23جو ن 2014ء کی صبح علامہ طاہر القادری کینیڈا سے براستہ لندن اور دبئی اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے لیکن ایک بار پھر طیارہ سازش کیس جیسی صورتحال کا سامنا قوم کو کرنا پڑا۔ ان کا طیارہ کافی دیر تک ہوا میں رہنے کے بعد اس کا رُخ لاہور کی جانب کردیا گیا۔ لاہور کی سڑکیں ایک بار پھر میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگیں۔ گورنر سندھ اور گورنر پنجاب کی مداخلت کے بعد یہ معاملہ سلجھا اور علامہ طاہر القادری 23جون کی شام جہاز سے باہر آئے اور لاہور کے جناح ہسپتال میں اپنے کارکنوں کی عیادت کی اور اس کے بعد اپنے گھر کی جانب روانہ ہوئے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر لعن طعن کی سیاست کو حکومت نے کیوں اختیار کیا ہے؟ ایک بھاری مینڈیٹ ملنے کے باوجود وہ انکساری کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے؟ حکومت کے وزراء مسلسل سخت جملے استعمال کر رہے ہیں جو معاملات میں کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں۔ انقلاب کا لفظ پاکستان کی سیاست میں نیا نہیں۔ عمومی طور پر انقلاب کے معنی اگر ہم سمجھنا چاہیں تو ایک ایسی کارروائی جو اگر کامیاب ہوجائے تو انقلاب اور اگر ناکام رہے تو بغاوت کہلاتی ہے اور طاقت کا استعمال اس کا طرئہ امتیاز رہا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں انقلاب روس، انقلاب ایران کی تاریخ ہمیں ملتی ہے لیکن کیا یہ انقلابات بھی مکمل نتائج حاصل کرسکے؟ جواب نفی میں آئے گا۔ کسی مفکر نے کہا کہ انقلاب لانا تو آسان ہوتا ہے لیکن اس کو برقرار رکھنا اور اس کو سنبھالنا اس سے لاکھ گنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں اس لفظ کو اُس وقت استعمال کیا گیا جب حقوق سے محروم پاکستان کے عوام کی اکثریت اپنے اوپر ظلم کو معمول سمجھنے لگی تو پاکستان کے مختلف علاقوں مثلاً سندھ کے شہری علاقوں سے بلوچستان کے ستم رسیدہ عوام اور اب علامہ طاہر القادری بھی اس فہرست میں شامل ہوچکے ہیں اور کسی حد تک ان کے گرد مجمع اکٹھا ہورہا ہے اوراس کی وجہ حکومت کا نامناسب رویہ ہے۔ حکومتیں اس قسم کی تحریک کا مقابلہ سیاسی بصیرت سے کیا کرتی ہیں، طاقت کے بے محابہ استعمال سے نہیں۔ جتنا بھاری مینڈیٹ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ملا ہے، ان کی ذمہ داریاں بھی اتنی ہی زیادہ ہیں، لیکن ان کا رویہ ہر گزرتے دن کے ساتھ منفی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور وہ اپنے دشمن نہ صرف پیدا کررہے ہیں بلکہ پہلے سے موجود دشمنوں کو بھی توانا کر رہے ہیں۔ لہٰذا وقت تقاضا کر رہا ہے کہ حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام معاملات پر وسیع البنیاد مشاورت کرکے اصلاحات کا روٹ میپ عوام کے سامنے رکھے، بصورتِ دیگر کسی قسم کی غیر جمہوری تبدیلی کی ذمہ دار صرف حکومت ہوگی۔ لہٰذا میاں نواز شریف کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سیاسی ٹیم اور وزراء کو اس بات کا پابند کریں کہ وہ سیاسی مصلحت سے قطع نظر تحمل کا مظاہرہ کریں اور تیز و تند جملوں سے اجتناب کریں، وگرنہ کوئی بھی جملہ ان کی حکومت کو بہا لے جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں