جمہوریت اس ملک میں ہمیشہ ایک زخمی مسافر کی طرح رہی ہے چلتی ضرور ہے مگر لنگڑاتے ہوئے، آواز ضرور دیتی ہے مگر کسی تک پہنچتی نہیں، جمہور کے نام پر چلتی ہے مگر جمہور تک پہنچتی نہیں۔اس سارے منظرنامے میں حالیہ ضمنی انتخابات ایک آئینہ ثابت ہوئے۔ ان بارہ حلقوں میں الیکشن کمیشن نے انتخابات اس وقت کرائے جب تحریک انصاف کے اراکین کو مختلف سزائیں دے کر انکی نشستیں خالی کروا لی گئیں۔ ان حلقوں میں تقریباً 80 لاکھ کے قریب ووٹرز رجسٹرڈ تھے۔ اتنا بڑا حجم، اتنی بڑی آبادی، اتنی زیادہ نمائندگی۔ مگر الیکشن کے دن پولنگ اسٹیشنوں پر جو منظر تھا، وہ اس ملک کی سیاست پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ پندرہ فیصد ٹرن آؤٹ۔ساڑھے گیارہ لاکھ لوگ ووٹ ڈالنے گئے، باقی لاکھوں لوگ گھروں میں بیٹھے رہے۔ کیوں؟ اس سوال کی اصل گہرائی وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے جو کہتے ہیں کہ جمہوریت ٹھیک چل رہی ہے۔ جمہوریت تب ٹھیک چلتی ہے جب عوام اس میں چلتے ہیں۔ جب پولنگ اسٹیشنوں کے باہر زندگی ہوتی ہے۔ جب ووٹر قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی اپنی آواز ریاست تک پہنچاتے ہیں۔ یہاں تو پندرہ فیصد لوگ بھی بمشکل نکلے۔یہ محض بے دلی نہیں تھی، یہ اعتماد کا خاتمہ تھا۔ جمہوریت سے وابستہ وہ اعتماد جو برسوں کی انجینئرنگ، سیاسی چھیڑ چھاڑ، بے یقینی اور تبدیلیوں کے شور میں کہیں کھو چکا ہے۔ پندرہ فیصد کا ووٹ اس بات کی علامت ہے کہ لوگ سمجھ چکے ہیں کہ انکے ووٹ سے کچھ بدلے گا نہیں۔ جس حلقے میں جائیے، لوگوں کا ایک ہی کہنا تھا کہ’’جو ہونا ہے وہ تو ہو کر رہتا ہے۔‘‘ یہ جملہ گویاجمہوری نظام کی موت کا اعلان ہے۔چنانچہ ان ضمنی انتخابات کا اصل نتیجہ وہ جماعتیں نہیں جو جیت گئیں، اصل نتیجہ وہ عوام ہیں جو پولنگ اسٹیشنوں تک گئے ہی نہیں۔ دنیا کے کسی جمہوری ملک میں پندرہ فیصد ٹرن آؤٹ پر مٹھائیاں نہیں بانٹی جاتیں، ایسے انتخابات کی بنیاد کو کمزور تصور کیا جاتا ہے، مگر یہاں الٹا جشن منایا گیا، جیسے کوئی بہت بڑی عوامی تائید حاصل ہوئی ہو۔جمہوریت ہی تمام مسائل کا حل ہے، یہ بات سو فیصد سچ ہے، مگر جمہوریت تب ہی مسائل حل کرتی ہے جب اسے مسائل سے نجات کیلئے آزاد فضا میسر ہو۔ یہاں جمہوریت کو سانس لینے تک نہیں دیا جاتا اور پھروہ انہی پندرہ فیصد انتخابات تک محدود رہ جاتی ہے۔یہاں سوال یہ بھی اہم ہے کہ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اگر ٹرن آؤٹ دس فیصد تک گر جاتا تو کئی حلقوں میں انتخابات کالعدم ہو جاتے؟ سسٹم ہی بیٹھ جاتا۔ مگر سسٹم بیٹھنے سے زیادہ اہم یہ تھا کہ اسکے ساتھ عوام کی امید بھی بیٹھ چکی تھی۔ لوگوں کے نزدیک ووٹ ایک رسمی عمل بن چکا ہے، اصل کھیل کہیں اور ہوتا ہے۔لاہور کا حلقہ این اے 129 اس کی بہترین مثال ہے۔ یہ نشست تحریک انصاف کے میاں اظہر کے انتقال کے باعث خالی ہوئی۔ انکے بیٹے حماد اظہر مفرور تھے۔اس حلقے میں تحریک انصاف نے ایسا ماحول بنایا جیسے وہ پہلے ہی اس نشست کو چھوڑ چکی ہو۔ نہ کوئی سنجیدہ امیدوار، نہ کوئی بھرپور مہم، نہ کوئی واضح حکمتِ عملی۔ نتیجے میں یہ سیٹ نون لیگ آرام سے لے گئی۔ اور پھر بھی دونوں جماعتیں خود کو جمہوریت کا چیمپئن کہتی رہیں۔
کیا یہی جمہوریت ہے ؟لوگ سب کچھ جان گئے ہیں۔وہ جب دیکھتے ہیں کہ کہیں مفرور کو رعایت ملتی ہے، کہیں گمنام ووٹ دونوں ہاتھوں سے گنے جاتے ہیں، کہیں ووٹر لسٹیں بدلتی ہیں اور کہیں امیدوار بدل جاتے ہیں، تو وہ کیسے یقین کریں کہ ان کے ووٹ کا وزن برابر ہے؟ عوام بے وقوف نہیں، نہ ہی معاشرتی طور پر اتنے خام کہ انہیں سمجھ نہ آئے کہ اصل کھیل کیا ہے۔ ان کی خاموشی ہی سب سے بڑی گواہی ہے کہ وہ اس کھیل کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں۔جمہوریت ایک دریا کی طرح معاشروں کو بہاؤ فراہم کرتی ہے۔ مگر اس پر بند باندھ دیے جائیں، ہر موڑ پر روک لگا دی جائے، ہر بیچ میں رکاوٹ کھڑی کر دی جائے تو پھر پانی ٹھہرجاتا ہے، سڑنے لگتا ہے، بہاؤ ختم ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی یہی حالت ہے۔ بہنے نہیں دیا جاتا مگر کہا جاتا ہے کہ یہ سب کیلئےبہترین راستہ ہے۔ بہترین راستہ ہے، مگر راستہ صاف تو کریں۔
سیاسی جماعتیں جمہوریت کےبڑے نعرے لگاتی ہیں جب وہ اپوزیشن میں ہوں، مگر اقتدار ملتے ہی وہی جماعتیں اپنی ہی زبان بھول جاتی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ ہو یا آزادیِ رائے کا، یہ اسی وقت تک اچھے لگتے ہیں جب تک اقتدار سامنے نہ آ جائے۔ اقتدار ملتے ہی جمہوریت بھول جاتی ہے، اور آمرانہ مزاج جاگ اٹھتا ہے۔سوال یہی ہے کہ پھر عوام کیسے اعتماد کریں؟ جب عوام کا ووٹ ایک رسمی کارروائی رہ جائے، فیصلہ کہیں اور ہو جائے، اور اقتدار انہی قوتوں کے ہاتھ میں رہے۔پندرہ فیصد کے ٹرن آؤٹ کے پیچھے اصل وجہ یہی ہے۔ یہ ایک اجتماعی، بے آواز، مگر واضح احتجاج تھا۔ عوام نے یہ نہیں کہا کہ ہم جمہوریت کے خلاف ہیں۔ انہوں نے یہ کہا کہ ہم اس نام کی جمہوریت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وہ جمہوریت جس میں نہ اختیار ہے نہ شفافیت، نہ نمائندگی ہے نہ اعتماد۔جمہوریت اب بھی حل ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اسے سانس لینے دیا جائے۔ عوام کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی حکومت بنائیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری اصول زندہ کریں۔ سیاست میں مداخلت سے گریز کیا جائے۔ انتخابی عمل کو صاف، شفاف اور مضبوط بنایا جائے۔ ووٹر کو یہ احساس دلایا جائے کہ اس کا ووٹ ہی حساس ترین فیصلہ ہے، نہ کہ محض ایک خانہ پُری۔یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو آگے لے جا سکتا ہے۔ ورنہ یہی حال رہا تو پندرہ فیصد پانچ فیصد ہو جائے گا۔