• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑی ٹیک کمپنیوں کی AI منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر ماہرین پریشان

کراچی (نیوز ڈیسک) دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے مصنوئی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے منصوبوں میں حالیہ برسوں کے دوران بے مثال سرمایہ کاری کی وجہ سے عالمی مالیاتی نظام کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں کیونکہ یہ کمپنیاں ایک دوسرے میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے گردشی معاہدے (سرکلر ڈیلز) کر رہی ہیں اور اس مقصد کیلئے وہ اپنے وسائل اور سرمایے کی بجائے مالی اداروں سے قرض لیکر اور بانڈز جاری کرکے سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال اور ڈیٹا سینٹرز سے جڑی توقعات پوری نہ ہوئیں تو یہ ایک زبردست مالی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ماہرین اسے ایسے منظر سے تشبیہ دیتے ہیں جس میں ایک غبارے میں روزانہ ہوا بھری جا رہی ہو اور اپنی انتہا پر پہنچنے کے بعد لازماً پھٹ جائے گا۔ ماہرین اسے ’’اے آئی ببل‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر ان سرمایہ کاریوں سے منافع نہ ملا، یا AI کے استعمال میں توقعات پوری نہ ہوئیں، تو یہ صورتحال ایک مالی بحران پیدا کر دے گی جو پوری دنیا تک پھیل سکتا ہے۔  رپورٹ کے مطابق، بڑی ٹیک کمپنیاں جن میں چیٹ جی پی ٹی کی کمپنی اوپن اے آئی، اوریکل اور چپ ساز کمپنی این ویڈیا شامل ہیں، ایک دوسرے پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں، یعنی یہ کمپنیاں ایک دوسرے کی پراڈکٹ استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کو پیسہ دے رہی ہیں۔ اس پروجیکٹ میں مائیکرو سافٹ اور میٹا سمیت مختلف ٹیک کمپنیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے صرف رواں سال کے دوران ڈیٹا سینٹرز، چِپ‑پروسیسرز اور انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالرز خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ مستقبل کی AI صلاحیتوں کو حقیقی موڑ دیا جا سکے۔ بعض مالی تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری کے باوجود ابھی تک منافع یا صارفین کی روزمرہ زندگی میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آیا۔ سرمایہ کاری کے ایک چکر میں ایک کمپنی دوسری کو سرمایہ دیتی ہے، اور دوسری اسی پیسے سے پہلی کی مصنوعات خریدتی ہے، مثلاً چِپ اور سرورز وغیرہ۔ ایسا کرنے سے حقیقی طلب کے بجائے مصنوعی طلب پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ کمپنیاں مالیاتی اداروں سے فنڈنگ لے رہی ہیں اور انفراسٹرکچر کی فنانسنگ کی جارہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کمپنیوں نے اپنا نقد ذخیرہ (cash reserves) کم کر کے، قرض اور دیگر مالیاتی آلات کے ذریعے یہ سرمایہ کاری کی ہے۔ اگر ان سرمایہ کاریوں سے منافع نہ ملا، یا AI کے استعمال میں توقعات پوری نہ ہوئیں، تو یہ صورتحال ایک مالی بحران پیدا کر دے گی جو پوری دنیا تک پھیل سکتا ہے۔
اہم خبریں سے مزید