کراچی (نیوز ڈیسک) وادیِ سندھ کی قدیم تہذیب کے اچانک زوال کی ممکنہ وجہ دریافت، نئی موسمیاتی تحقیق نے ہڑپہ و موہنجودڑو کے اچانک غائب ہونے کی حقیقت بیان کردی۔ آب و ہوا میں شدید تبدیلیاں اور بارشوں کے طویل مدتی پیٹرن میں بگاڑ اہم عوامل قرار، دریائے سندھ کے بہاؤ میں کمی نے زراعت تباہ، آبادی اور شہروں کی بقا کو خطرے میں ڈالا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نئی ماحولیاتی اور موسمیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وادیِ سندھ کی مہذب اور ترقی یافتہ تہذیب، جس کے آثار ہڑپہ اور موہنجودڑو میں ملتے ہیں کا اچانک زوال دراصل آب و ہوا میں بڑی تبدیلیوں کا نتیجہ تھا۔ سائنسدانوں کے مطابق ہزاروں سال پہلے بارشوں کے نظام میں شدید کمی اور دریائے سندھ کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ نے زرعی نظام کو تباہ کر دیا، جس کے باعث شہر خالی ہونے لگے اور تہذیب بتدریج بکھر گئی۔