کراچی (نمائندہ خصوصی) محکمہ پولیس سے ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پر آئے بیشتر افسران سرکاری احکامات کے باوجود عہدوں پر براجمان ہیں اور اپنے پیرنٹس محکمے میں واپس رپورٹ نہیں کر رہے۔ اس سلسلے میں عدالتی احکامات موجود ہیں، کئی افسران کی واپسی کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکا ہے تاہم قوانین اور عدالتی فیصلے اثرورسوخ کے آگے بے اثر دکھائی دیتے ہیں، ایک سب انسپکٹرز کی ایف آئی اے میں ڈپوٹیشن کی مدت پورے ہونے پر سندھ پولیس میں واپسی کا نوٹیفکیشن 3اکتوبر 2024کو جاری ہوا۔ جس میں صرف تبادلے کا حکم ہی نہیں بلکہ اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کو افسر کی تنخواہ فوراً روکنے اور متعلقہ محکمے کو ایل پی سی جاری کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے مگر آفس آرڈر کو ایک سال سے زائد گزرنے کے باوجود وہ واپس نہیں گئے۔ واضع رہے کہ سپریم کورٹ کا 22 اکتوبر 2021کا واضح فیصلے موجود ہے کہ کوئی بھی سرکاری افسر مقررہ مدت سے زائد عرصہ ڈیپوٹیشن پر نہیں رہ سکتا۔ مذکورہ افسر تاحال ایف آئی اے کراچی زون میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایک انسپکٹر کا بھی 19 اگست 2025کو واپس اپنے محکمے یعنی سندھ پولیس جانے کے احکامات جاری کئے گئے تاہم موصوف تاحال ایف آئی اے میں براجمان ہیں۔ سندھ پولیس کے سب انسپکٹرز کی 5ستمبر 2025کو ترقیاں ہوئیں۔