ملتان(سٹاف رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئلزفورم کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان اورایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین، میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت مکس اشارے دے رہی ہے۔ ایک جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے 1,61,000 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح عبورکرلی ہے جبکہ دوسری جانب ملکی معیشت کے حقیقی شعبے، یعنی انڈسٹری، ایکسپورٹس، ایف ڈی آئی اورریونیوسے متعلق تشویش ناک صورتحال برقرارہے۔میاں زاہد حسین نے خبردارکیا کہ حقیقی معیشت کوسنگین دباؤکا سامنا ہے۔ مالی سال 26۔2025 کے ابتدائی چارماہ (جولائی تا اکتوبر) میں غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جوگزشتہ سال کے ایک ارب ایک کروڑ ڈالرکے مقابلے میں صرف 747.7 ملین ڈالررہی۔ چین سے آنے والی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے راولپنڈی، پشاور (ایف سی) اوربنوں میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کوسرمایہ کاروں کے اعتماد پرمنفی اثرات کا باعث قراردیا۔انہوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیوکی ٹیکس وصولیوں میں بھی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔