کوئٹہ ( اسٹارپورٹر) نواکلی بائی پاس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ۔ ابھی تقریباً دو سال قبل تعمیر ہونے والے اس بائی پاس پر جگہ جگہ دراڑیں پڑ چکی تھیں اور سڑک اکھڑنا شروع ہو گئی تھی۔ ابھی چند روز قبل اس بائی پاس پر مشینری کے ذریعے جب سڑک کو کھرچا گیا تو وہاں بمشکل ڈیڑھ انچ موٹی تہہ نکلی حالانکہ سڑک پر ڈالے جانے والے بلیک ٹاپ کی ہر پرت کا چار انچ موٹا ہونا ضروری ہے۔ اس ناقص تعمیر کی وجہ سے یہ سڑک دو سال ہی میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اور اب اس کی مرمت پر کروڑوں روپے کے اخراجات آئیں گے۔ اسی طرح بائی پاس ایک مقام پر جا کر جب دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ایک حصہ ہنہ یا شیخ زاید ہسپتال کی جانب اور دوسرا زرغون ہاوسنگ اسکیم سے ہوتا ہوا کوئٹہ چمن روڈ سے جا کر ملتا ہے۔ اس حصے پر بنائے گئے پل بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں اور ایک پل میں باقاعدہ شگاف پڑ چکا ہے جبکہ دوسے پل کی کنکریٹ بھی اکھڑ چکی ہے اور با قاعدہ سرئیے کا جال نظر آ رہا ہے ۔ اس روڈ کے آخر میں برساتی ندی پر بنایا گیا پل دو مرتبہ ٹوٹ چکا ہے اور ایک بارپھر اس کی تعمیر کا کام چل رہا ہے۔ سڑکو ں کی ادھیڑ بن میں کروڑوں روپے کے فنڈز خورد برد کی نذر ہو رہے ہیں عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئٹہ شہر کوپیرس بنانے کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگردوسری جانب اداروں میں تعائون کے فقدان کے باعث شہر کو کھنڈرات بنا دیا گیا ان کا کہنا تھا کہ شہر سے نو ایم پی ایز اور تین ایم این ایز پارلیمان میں موجود ہیں جو سالانہ اربوں روپے فنڈز بٹور تے ہیں مگر عوام کی فلاح بہود پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرتے عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ شہر سمیت نواکلی بائی پاس کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں جلد از جلد تعمیر کیا جائے تاکہ عوا م کو سفر کی سہولیات میسر آ سکے ۔