ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ رقص (ڈانس) کرنا ڈپریشن کے علاج میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات جتنا ہی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
آسٹریلوی محققین کے مطابق ایروبک ورزشیں، جیسے جاگنگ، تیراکی اور ڈانس، ڈپریشن اور بےچینی کی علامات کو کم کرنے میں سب سے زیادہ اثر ڈالتی ہیں۔ یہاں تک کہ ہلکی جسمانی سرگرمیاں، جیسے واک کرنا بھی ذہنی صحت کی علامات میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔
برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ورزش کو ڈپریشن کے روایتی علاج کی طرح اعتماد کے ساتھ تجویز کیا جانا چاہیے۔
آسٹریلوی ریاست کوئنزلینڈ کی جیمز کُک یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے زور دیا ہے کہ جسمانی سرگرمی کو عوامی صحت کی پالیسیوں میں ایک قابلِ رسائی، مؤثر اور سائنسی طور پر ثابت شدہ اولین علاج کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ورزش کے فوائد خاص طور پر نوجوانوں اور ان خواتین میں زیادہ نمایاں ہیں جو زچگی کے بعد کے دور سے گزر رہی ہیں۔
برطانیہ میں ہر چھ میں سے ایک شخص ڈپریشن کا شکار ہے جبکہ خواتین میں اس بیماری کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔