عرب ممالک میں اونٹوں کے مقابلہ حسن میں بوٹوکس اور پلاسٹک سرجریاں نظر آنے لگی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق مقابلہ حسن تو صدیوں پرانی روایت ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں یہ مقابلے مصنوعی خوبصورتی کے اسکینڈلز کی وجہ سے متنازع ہو گئے ہیں۔
گزشتہ ماہ عمان کے شہر المصنعہ میں منعقدہ کیمیل بیوٹی شو فیسٹیول 2026 میں 20 اونٹوں کو نااہل قرار دیا گیا۔
ویٹرنری ماہرین نے جانچ کے دوران پایا کہ کئی اونٹوں پر بوٹوکس، لپ فلرز، سلیکون امپلانٹس، مصنوعی کوہان پھلانا اور گروتھ ہارمون انجیکشنز جیسے طریقے استعمال کیے گئے تھے۔ یہ سب طریقے مقابلے کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
روایتی طور پر اونٹوں کے مالکان نسل کشی اور دیکھ بھال کے ذریعے اونٹوں کی خوبصورتی بڑھاتے تھے لیکن اب انعامی رقم اور افزائش کے حقوق حاصل کرنے کے لالچ میں مصنوعی طریقے عام ہو گئے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ یہ طریقے اونٹوں کی صحت کے لیے خطرناک ہیں۔ فلرز سے دائمی سوزش، ہارمون انجیکشنز سے تولیدی مسائل اور بوٹوکس سے کھانے پینے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پانچ سال پہلے بھی ایک بڑے اسکینڈل میں 43 اونٹ مختلف کاسمیٹک طریقوں کی وجہ سے نااہل قرار دیے گئے تھے۔