ایران کی جانب سے 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے ملک میں پیٹرولیم ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
توانائی کی صنعت کے ذرائع کے مطابق 20 جہاز ملک کی ڈیڑھ ماہ کی پیٹرولیم ضروریات کیلئے کافی ہیں، آبنائے ہرمز سے ایک ماہ میں خام تیل کے 8 سے 9 جبکہ پیٹرول ڈیزل کے 6 جہاز پاکستان آتے ہیں۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق ہر ماہ آبنائے ہرمز کے ذریعہ ایل این جی کے 8 سے 9 جہاز بھی پاکستان آتے ہیں، پی این ایس سی کا پیٹرول کے علاوہ جنرل کارگو و اجناس ایکسپورٹ مال بھی ہرمز سے گزارنے کا منصوبہ ہے۔
شپنگ ذرائع کے مطابق پی این ایس سی کے جنرل کارگو جہاز سے ایکسپورٹ کنٹینرز لے جانے پر غور جاری ہے۔
شپنگ ذرائع کے مطابق کسی دوسرے ملک کے جہاز پر پاکستانی جھنڈا نہ لگانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ کوٹہ مختصر ہے، دوسرے ملک کو دینا ممکن نہیں ہوگا۔