آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ رجب المرجب 1440ھ 23؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ دنوں جب چینی وزیر خارجہ بھارت پہنچے تو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بلوچستان کے حوالے سے جو بیان داغا ہے وہ بلوچستان کے معاملات میں براہ راست مداخلت کا مظہر ہے، دراصل اس طرح بھارتی حکمرانوں نے پاکستان میں مداخلت کا اقرار کیا ہے۔ گزشتہ دنوں جب بلوچستان سے بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا ایک ذمہ دار کلبھوشن یادیو پکڑا گیا تھا تب اس نے بلوچستان اور کراچی میں خصوصاً انڈیا کی مداخلت اور دہشت گردی کا انکشاف کیا تھا اب وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کلبھوشن یادیو نے جو بیان دیا وہ درست ہے۔ بھارتی حکمرانوں نے وزیر خارجہ چین کو پاک چین راہداری پر اپنے تحفظات اور تشویش سے آگاہ کیااور تو اور بھارت نے بلوچستان کے دو غیر معروف اور اجنبی نام نہاد باغی افراد جو بھارت میں پناہ گزین ہیں کے حوالے سے منفی بیانات جو پاکستان کے خلاف ہیں کو تمام اخبارات میں، ٹی وی چینلز پر غیر معمولی اہمیت دے کر نشر کیے۔ بھارتی حکمرانوں کو گلگت، بلتستان میںتو نا انصافیاں نظر آرہی ہیں لیکن کشمیر میں جو وہ مظالم ڈھا رہے ہیں وہ قطعی نظر نہیں آرہے دراصل بھارت اپنی دہشت گردی پر پردہ ڈالنا چاہ رہا ہے جو وہ بلوچستان، گلگت، بلتستان میں کرا رہا ہے یعنی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق، چور مچائے شور کی طرح خود

پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی کرا رہا ہے اور خود ہی شور مچا رہا ہے دراصل بھارتی حکمرانوں کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہے جب سے پاک چین راہداری کا معاہدہ ہوا اس منصوبے نے نہ صرف بھارت بلکہ امریکہ، اسرائیل اور یورپ کو بھی بے چین کردیا ہے ان کا بس نہیں چل رہا کہ گھڑی کی چوتھائی میں اس منصوبے کو اس کے معاہدے کو ختم کردیں۔
13 اگست کو بھارتی وزیر اعظم نے کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا ہے۔ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں اپنی دہشت گردی کا الزام الٹا پاکستان پر لگا دیا ہے اور اپنی وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان سے جواب طلب کیا جائے۔ حیرت ہے کہ وزیر اعظم بھارت کو اپنے مظالم اور دہشت گردی نظر نہیں آرہی جو وہ کشمیر اور پاکستان کے متعدد علاقوں میں کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم جو خود بھی ایک دہشت گرد تنظیم کے سربراہ ہیں جس نے گجرات اور متعدد علاقوں میں کھل کر مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کی اور سینکڑوں مسلمانوں کو تہہ خاک کردیا وہی عمل وہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں ظالم مارے بھی اور رونے بھی نہ دے اپنی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے ہی بھارت نے دو غیر معروف بلوچ جو بھارت میں مقیم ہیں کو بلوچ رہنما کے طور پر پیش کیا ہے جن کا تعلق بلوچ نیشنل موومنٹ سے بتایا گیا ہے۔ حمل حیدر بلوچ اور نائلہ قادری سے بلوچ رہنما تو دور کی بات کوئی بلوچ قوم پرست تک واقف نہیں ہے جنہوں نے نا صرف مودی کے الزامات کی تائید و تعریف کی بلکہ ان سے اپیل بھی کی ہے کہ بھارت 1971ء میں مشرقی پاکستان میں کارروائی کی طرح بلوچستان میں بھی اسی طرح کا آپریشن کرے ان نام نہاد بلوچ رہنمائوں کے اس بیان کو سوچی سمجھی سازش کے تحت بھارت کے تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز نے خوب خوب اچھالا ہے۔ اس طرح بھارت کی انتہا پسند حکومت کھل کر سامنے آگئی ہے بھارت جو روز اول سے پاکستان مخالفت پر کمر بستہ رہا ہے پاکستان کے ہر ہر مثبت قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا ہے۔ اسے چین اور پاکستان کی رفاقت و دوستی کیسے ہضم ہوسکتی ہے اسی لیے جب چینی وزیر خارجہ نے بھارت کا دورہ کیا اور ان کی ملاقات نریندر مودی سے ہوئی تو انہوں نے کھل کر سی پیک منصوبے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا اس سے قبل چینی وزیر خارجہ جناب وانگ ژی سے جب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ملاقات کی تھی تب بھی انہوں نے سی پیک سے متعلق اپنے خدشات اور تشویش کا اظہار کیا ہے دراصل اس طرح وہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ روکنا چاہ رہے ہیں تاکہ بلوچ قوم میں جو احساس محرومی مشرقی پاکستان کی طرح وہ پیدا کرنا چاہ رہے ہیں اس میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اگر یہ سی پیک منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوجاتا ہے تو بلوچوں کو قابو کرنا ممکن نہیں رہے گا بلوچ قوم اور خصوصاً انتہا پسند قوم پرست جو ان کا آسان ہدف ہیں جنہیں وہ مالی اور اسلحہ کی مدد بھی فراہم کر رہے ہیں جو بقول وزیر اعلیٰ بلوچستان کے چند سو افراد پر مشتمل ہیں جو پہاڑوں پر پناہ گزین ہیں کو بھارت اپنا آلہ کار بنا رہا ہے ایسے ہی بھارتی ایجنسیوں نے مشرقی پاکستان میں اپنی سازشوں کے ذریعہ احساس محرومی اور پنجابی قوم سے نفرت کے جذبات کو بھڑکایا تھا وہی پرانا کام یہ بھارتی ایجنٹ بلوچستان میں آزما رہے ہیں حکومت وقت کو اس وقت بلوچستان اور اس کے پس ماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دینےکی ضرورت ہے بلوچستان میں تعلیم کو عام کیا جائے اور موجودہ بلوچ طلبہ پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ بھارت کیلئےاپنی مذموم کارروائیوں کے ذریعے بلوچستان کے بھولے بھالے نا پختہ ذہن نوجوانوں کو اپنی راہ لگا لینا اور ان میں احساس محرومی پیدا کرنا آسان ہے بنسبت پختہ کار تجربہ کار لوگوں کے، اس لیے وہ کالجوں یونیورسٹیوں کی یونین سے منسلک طلبا پر توجہ دیتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے باقی طلبہ کو بھی اپنی راہ پر لگایا جاسکے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ بلوچستان پر سیاسی معاشی اور اقتصادی طور پرخصوصی توجہ دے انہیں خصوصی مراعات دی جائیں۔ بلوچستان پاکستان کا اپنے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے گو کہ آبادی کم ہے ۔اس کا تدارک اگر حکومت کرنا چاہے تو بلوچستان کیلئے آبادی کے بجائے رقبہ کے اعتبار سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کا اہتمام کرے اس طرح ممکن ہے کہ ان کی محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکے ان کو وفاق میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی دی جائے اور سب سے اہم اگر وفاق بلوچستان کے تمام وسائل کو بلوچستان کے لیے ہی مخصوص کردے جیسے گیس کی آمدن، تیل کی آمدن اور دیگر معدنیات کی آمدنی جو بلوچستان کا حق بھی ہے اسے ہی سونپ دے جائیں تاکہ وہ اپنے ترقیاتی منصوبے خود پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔
جب بلوچستان کو خود مختاری ملے گی تو یقیناً اس کے عوام میں پیدا ہونے والا احساس محرومی خود بخود ختم ہوجائے گا اور دشمن اپنی سازشوں میں ناکام رہے گا۔ بلوچ عوام میں جذبہ حب الوطنی کسی سے کم نہیں گزشتہ 69 برسوں میں انہوں نے تمام تر نا مساعد حالات کے باوجود اپنا احتجاج مختلف طریقوں سے ریکارڈ ضرور کرایا ہے اپنے احساس محرومی کا اپنے انداز میں اظہار بھی کیا ہے۔ بلوچستان میں پائی جانے والی قدرتی گیس دور دراز علاقے مری تک تو پہنچادی گئی لیکن جہاں سے گیس نکل رہی ہے اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں ناپید ہے اگر فوری طور پر صرف گیس کو ہی حربے کے طور پر آزمایا جائے اور تمام صوبے کو با آسانی گیس فراہم کردی جائے تو بھی کچھ نہ کچھ مداوا ہوسکتا ہے ۔ بلوچستان کا 80 فیصد علاقہ محروم ہے اور اسی طرح دیگر معاملات میں جنہیں دشمن حربے کے طور پر استعمال کر کے عوام میں احساس محرومی کا احساس پیدا کر رہا ہے بلوچستان بھی پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا کی مانند پاکستان کا حصہ ہے۔ اسے دشمنوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا دشمن نہ صرف ناراض اور انتہا پسند نوجوانوں کو بلکہ افغان مہاجرین کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے ہمارے حکمرانوں کو سوچنا سمجھنا ہوگا اور بلوچستان کی جائز شکایات کا فوری ازالہ کرنا ہوگا ۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں