تہران ، واشنگٹن (اے ایف پی، جنگ نیوز، رفیق مانگٹ)امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کیلئے زیادہ تر معاملات طے پاگئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران ایک ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، حتمی معاہدے کیلئے دونوں ممالک کے مذاکرات کار بہت قریب آگئے ہیں، حتمی معاہدہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکے گا،افزودہ یورینیم کا معاملہ اطمینان بخش طریقے سے حل ہوگا،جنگ شروع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آج کرسکتے ہیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ تہران کے ساتھ " معاہدہ بڑے پیمانے پر طے پا چکا ہے"، معاہدے کے آخری پہلو زیربحث ہیں، ایران ڈیل کا اعلان جلد متوقع ہے،صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے ایران اور امن سے متعلق مفاہمت کی یادداشت سے جڑے تمام امور کے حوالے سے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے محمد بن زید النہیان، قطرکے امیر شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ، ترک صدر رجب طیب ایردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے ساتھ ایک انتہائی اچھی فون کال مکمل کی ہے،انہوں نے بتایا کہ ایک معاہدہ بڑے پیمانے پر طے پا چکا ہے، جو کہ امریکا، ایران اور فہرست میں شامل دیگر مختلف ممالک کے درمیان حتمی شکل دیئےجانے سے مشروط ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "معاہدے کے حتمی پہلوؤں اور تفصیلات پر اس وقت تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، اور جلد ہی اس کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا"۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ "معاہدے کے کئی دوسرے عناصر کے ساتھ ساتھ، آبنائے ہرمز کو بھی (بحری ٹریفک کے لئے) کھول دیا جائے گا"۔انہوں نے ایران کے معاملے میں دلچسپی لینے پر عاصم منیر سمیت تمام رہنمائوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ٹرمپ نے مزید بتایا کہ انہوں نے ایک علیحدہ ٹیلی فون کال میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی گفتگو کی ہے۔ ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کیلئے مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے مرحلے میں ہیں، تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان اب بھی اختلافات موجود ہیں ، اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے "جوہری پروگرام کے بجائے، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کی توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جوہری پروگرام کا تنازع ابتدائی مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا،14دفعات پر مشتمل ایک فریم ورک معاہدے میں ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہوگا ،ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز نے اتوار کے روز رپورٹ دی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تبادلہ کئے گئے حالیہ ترمیمی متن کے مطابق، آبنائے ہرمز کا انتظام اور نگرانی ایران کے زیر انتظام ہی رہے گی۔برطانوی نیوز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مجوزہ فریم ورک تین مراحل میں سامنے آئے گا،پہلا مرحلہ جنگ کا باضابطہ خاتمہ،دوسرا مرحلہ، آبنائے ہرمز میں جاری بحران کا حل،تیسرا مرحلے میں ایک وسیع تر معاہدے پر مذاکرات کے لئے 30 دن کی مہلت دی جائے گی جس میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہائوس میں ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے ، صدر ٹرمپ کی کابینہ کے تمام ارکان پہنچ گئے ہیں، امریکی اخبار کے مطابق آئندہ 48گھنٹے دنیا کا چہرہ بدل کر رکھ دیں گے ،عرب اخبار العربیہ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ چند گھنٹوں کے دوران امریکا ایران معاہدے کا اعلان ہوجائے گا ، عرب نیوز نے پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ایران جنگ کا عبوری معاہدہ حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، معاہدہ کافی حد تک جامع ہے،مذاکرات سے باخبر دو پاکستانی ذرائع نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ایران اور پاکستان نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے امریکا کو ایک ترمیمی تجویز پیش کر دی ہے،ذرائع کے مطابق، اس تجویز پر اتوار تک امریکی ردِعمل متوقع ہے۔قطر کے امیر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اورقطر ی امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ٹیلی فون پر گفتگو میں ثالثی کی کوششوں پر گفتگو کی ہے۔امیر قطر نے ٹرمپ کو بتایا کہ قطر "ڈائیلاگ اور سفارت کاری کے ذریعے بحران کو قابو میں کرنے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے"۔ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دوبارہ جنگ زیادہ تباہ کن ہو گی، ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار قالیباف نے مزید کہا کہ ایران میدانِ جنگ اور سفارت کاری، دونوں محاذوں پر اپنے "جائز حقوق" کا تحفظ کرے گا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران "ایک ایسے فریق پر بالکل بھی بھروسا نہیں کر سکتا جس میں دیانت داری نہ ہو۔دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس معاملے پرامید کا اظہار کیا ہے۔اپنے دورۂ نئی دہلی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا: "اس بات کا امکان ہے کہ آج دیر گئے، کل، یا ایک دو دنوں میں ہمارے پاس کہنے کے لیے کچھ ہو۔" انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ جلد ہی کوئی "اچھی خبر" سنانے کے قابل ہوں گے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ بالآخر ایک معاہدے کا مسودہ قریب ہو سکتا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے کہا: "ہمارا مقصد سب سے پہلے مفاہمت کی ایک ایسی یادداشت تیار کرنا تھا جو 14 دفعات پر مشتمل ایک فریم ورک معاہدے کی شکل میں ہو۔" انہوں نےفریقین کے "قریب آنے کے رجحان" کا ذکر تو کیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ "اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ اہم مسائل پر ہمارا اور امریکا کا اتفاق ہو جائے گا۔"امریکی اخبار فنانشل ٹائمز نے ہفتے کے روز مذاکرات سے باخبر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ثالثوں کا خیال ہے کہ وہ ایران کے ساتھ امریکی جنگ بندی میں 60 دنوں کی توسیع اور تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا ایک فریم ورک طے کرنے کے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنا، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے یا اسے منتقل کرنے پر بات چیت، اور واشنگٹن کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو نرم کرنے اور پابندیوں میں ریلیف کے اقدامات شامل ہوں گے۔ برطانوی نیوز ایجنسی فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔کئی صحافیوں کا کہنا ہے کہ وائٹ ہائوس کے باہر 30گولیاں چلائی گئیں۔ فائرنگ کے اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔ٹرمپ کو سیکرٹ سروس نے فوری محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ فائرنگ کے وقت وہ ایران سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ روسی میڈیا کے مطابق وائٹ ہائوس کے باہر گولیاں چلانے کی درجنوں آوازیں سنی گئیں۔