• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر عشرت کی اصلاحات، پی ٹی آئی کی ہاں، نہ،AGP تنظیم نو کا موقع ضائع

اسلام آباد:…پاکستان کے آڈیٹر جنرل (اے جی پی) کے دفتر کو جدید بنانے اور مستحکم کرنے کے لیے 2019میں تجویز کردہ اصلاحات کے ایک جامع پیکیج کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے دوران بڑی حد تک نظر انداز کر دیا گیا، باوجود اس کے کہ اس کی سرکاری منظوری دی جا چکی تھی اور عملدرآمد کے لیے بار بار وعدے کیے گئے تھے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ اصلاحات اُس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین نے اکتوبر 2019 میں اس مقصد کے ساتھ تجویز کی تھیں کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے محکمے کو ایک خودمختار اور پیشہ ورانہ طور پر جدید ادارے میں تبدیل کیا جائے۔لیکن اُس وقت کی حکومت کی جانب سے اُن اصلاحات پر نیم دلانہ پیش رفت کے باعث ڈاکٹر عشرت کے حکومت چھوڑنے کے بعد یہ اصلاحات جو ان کے ماتحت ٹاسک فورس نے تجویز کی تھیں ، عمومی طور پر سب کی جانب سے نظر انداز کر دی گئیں۔دی نیوز کے پاس موجود دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ اے جی پی سے متعلق اصلاحاتی پیکیج میں اے جی پی کو انتظامی اور مالی خودمختاری دینا، جدید آڈٹ طریقہ کار متعارف کرانا، احتسابی نظام کو مضبوط بنانا، اور معمول کے لین دین کے آڈٹ سے توجہ ہٹا کر عوامی خدمات کی فراہمی، انفراسٹرکچر منصوبوں اور ریگولیٹری کارکردگی پر مبنی آڈٹ کی جانب منتقل کرنا شامل تھا۔ان تجاویز میں سخت بھرتی معیارات، مسلسل پیشہ ورانہ ترقی، کارکردگی پر مبنی ترقیوں اور نمایاں افسران کے لیے ترغیبی نظام کے ذریعے آڈٹ ورک فورس کو پیشہ ورانہ بنانا بھی شامل تھا۔ انفارمیشن سسٹمز، قرضہ جات، توانائی اور فرانزک آڈٹس کے لیے خصوصی آڈٹ ونگز کی تجویز بھی دی گئی تھی۔اصلاحات کا ایک بڑا جزو ڈیجیٹائزیشن اور آٹومیشن سے متعلق تھا۔ منصوبے میں آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (اے ایم آئی ایس) کا قیام، ایس اے پی/آر3 اور فنانشل اکاؤنٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم (فیبز) کی اپ گریڈیشن، شہری فیڈبیک ویب پورٹل کی تخلیق، ای آفس سسٹمز کا نفاذ اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ آر ایم آئی ایس) کا تعارف شامل تھا۔دستاویزات میں 2019سے 2021کے درمیان عملدرآمد کے لیے تفصیلی ٹائم لائنز بھی موجود تھیں، جن میں انفارمیشن سسٹمز اور فرانزک آڈٹنگ میں افسران کی خصوصی تربیت اور سرٹیفکیشن بھی شامل تھی۔وفاقی کابینہ نے 12 جنوری 2021 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں’’دی آڈیٹر جنرلز (فنکشنز، پاورز اینڈ ٹرمز اینڈ کنڈیشنز آف سروس) ایکٹ، 2020‘‘ کے عنوان سے ایک نئے قانون کی پیشکش کی منظوری دی اور اے جی پی دفتر کو ہدایت دی کہ وہ کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات (سی سی آئی آر) کو باقاعدگی سے پیش رفت رپورٹس جمع کرائے۔تاہم ان فیصلوں کے باوجود پی ٹی آئی حکومت کے دور میں مجوزہ ساختی اصلاحات میں سے بیشتر پر مکمل طور پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ سرکاری ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ بعض اقدامات جیسے پائلٹ آٹومیشن منصوبے اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگرام شروع کیے گئے لیکن وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈا نامکمل رہا۔ذرائع نے کہا کہ اصلاحات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ملک کے اعلیٰ ترین آڈٹ ادارے کو اُس خودمختاری، جدیدیت اور تکنیکی صلاحیت سے محروم ہونا پڑا جسے سرکاری شعبے میں شفافیت، احتساب اور حکمرانی میں بہتری کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔   

اہم خبریں سے مزید