• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دائرہ اختیار کا فیصلہ کئے بغیر میرٹ پر رائے دینا ناقابل قبول، سپریم کورٹ

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ دائرہ اختیار کا فیصلہ کیے بغیر میرٹ پر رائے دینا ناقابلِ قبول ہے ، اگر کوئی عدالت یا ٹریبونل خود کو دائرہ اختیار سے محروم قرار دے تو اسے مقدمے کے میرٹ میں جانے کے بجائے صرف قابلِ سماعت ہونے کے سوال تک محدود رہنا چاہیے کیونکہ دائرہ اختیار کے بغیر دی گئی میرٹ پر رائے قانونی طور پر موثر نہیں ہوتی۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دو برطرف ملازمین کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کیس دوبارہ سماعت کیلئے واپس بھجوا دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹریبونل نے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے مقدمے کے میرٹ پر بھی رائے دی، جو قانونی اصولوں کے منافی ہے۔ درخواست گزاروں کاموقف تھا کہ انہیں 2019میں نائب قاصد کے طور پر تعینات کیا گیا تھا اور بعد ازاں مبینہ جعلی تقرری خطوط کے الزام میں بغیر باقاعدہ شوکاز نوٹس اور مکمل محکمانہ کارروائی کے برطرف کر دیا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ وفاقی سروس ٹریبونل پہلے یہ تعین کرے کہ آیا درخواست گزار سول سرونٹس کے دائرے میں آتے ہیں یا نہیں، اور صرف اسی بنیاد پر اپنی دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ کرے، جبکہ میرٹ پر حتمی رائے متعلقہ دائرہ اختیار کے تعین کے بعد دی جائے۔

اہم خبریں سے مزید