• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت اور پرچون فروش آسان فکس ٹیکس اسکیم پر اتفاق رائے کے قریب

اسلام آباد( مہتاب حیدر) حکومت اور ریٹیلرز کے درمیان مجوزہ آسان فکسڈ ٹیکس اسکیم پر اتفاقِ رائے بنتا دکھائی دے رہا ہے، جسے آئندہ مالی سال 2026-27کے فنانس بل میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ اسکیم اُن ریٹیلرز کے لیے ہوگی جن کا سالانہ کاروبار20کروڑ روپے تک ہے۔ حکومت عیدالاضحی کے بعد اس فکسڈ اسکیم کا اعلان کر سکتی ہے جبکہ اس سے متعلق قانونی تبدیلیاں فنانس بل 2026-27 میں شامل کی جائیں گی۔ آئندہ بجٹ 5 جون 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔اعلیٰ سرکاری ذرائع نے ’’دی نیوز‘‘ کو بتایا کہ یہ مجوزہ اسکیم چھوٹے تاجروں اور ان کی منتخب تنظیموں کے ساتھ زیرِ غور آئی، جس کے تحت 20کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے ریٹیلرز پر ایک فیصد فکسڈ ٹرن اوور ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ تاہم کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا لازمی ہوگا۔ اس اسکیم کے تحت ایف بی آر صرف اسی صورت میں آڈٹ کرے گا جب آمدن یا اثاثوں میں بڑی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ جو تاجر اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے، ان کے لیے ایف بی آر کیو آر کوڈ سرٹیفکیٹ بھی جاری کرے گا۔جو تاجر اس فکسڈ اسکیم میں شامل نہیں ہونا چاہتے، ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، تاہم جو ریٹیلرز نہ عام ٹیکس نظام میں آئیں گے اور نہ ہی فکسڈ اسکیم اختیار کریں گے، ان پر مجوزہ فنانس بل 2026-27 کے تحت جرمانے عائد کیے جائیں گے۔گزشتہ تین دہائیوں میں مختلف حکومتوں نے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے تحت متعدد فکسڈ ٹیکس اسکیمیں متعارف کروائیں، مگر وہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں ناکام رہیں۔سیلز ٹیکس کے شعبے میں، ایک ملین روپے سے زائد کاروبار والے ریٹیلرز اور ہول سیلرز کے لیے سیلز ٹیکس ایکٹ میں سیکشن 3A کے تحت 3 فیصد ٹرن اوور ٹیکس نافذ کیا گیا تھا، مگر یہ اسکیم مطلوبہ نتائج نہ دے سکی اور 2008میں ختم کر دی گئی۔ اسی طرح 2000 میں سیکشن 3AAA کے تحت ریٹیلرز کے لیے ایک فیصد ’’ان لسٹمنٹ ٹیکس‘‘ متعارف کروایا گیا، جسے 2002میں ختم کر دیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید