آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
14 اگست کو ماشاء اﷲ پاکستان 67 سال کا ہو جائے گا ۔ آگ اور خون کے دریا سے گزر کے بننے والی مملکت کو غیروں کی مکاری اور اپنوں کی عیاری نے مستحکم پاکستان نہ بننے دیا ۔ نواب بہادر یار جنگ بے ساختہ یاد آتے ہیں کہ جنہوں نے تحریک پاکستان کے ایک جلسے میں اپنے خطاب کے دوران اسٹیج پر بیٹھی شخصیات کی جانب اشارہ کر کے قائد اعظم ؒ کو کہا تھا ’’ آپ کی ولولہ انگیز جدوجہد کے نتیجے میں ہم پاکستان حاصل کر لیں گے مگر یہ (اسٹیج پر بیٹھی شخصیات ) اِسے پاکستان نہیں بننے دیں گی ۔ 39 سال کی عمر میں پاکستان بننے سے تین سال قبل وہ اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ نواب ہوتے ہوئے بھی نوابی اُن کے قریب سے نہ گزری تھی ، ولی بھی نہیں تھے مگر اُن کی بات کامل ولیوں کی طرح پوری ہو گئی ۔ پاکستان تو بن گیا مگر ہم نے اِس کا کیا حشر کر دیا ؟ ساری خرابیاں اپنی جگہ مگر چند تہوار ہم ایک دوسرے کے شانے سے شانہ ملا کر مناتے تھے ، ٹی وی ، ریڈیو اور لوگوں کے لبوں پر یہ ترانہ ہوتا تھا کہ ’’ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ، ہم ایک ‘‘ 68 ویں سال میں قدم رکھنے کے دن ہم کس منہ سے یہ ترانہ گا سکیں گے کہ ہم ایک ہیں ۔
مولانا فضل الرحمٰن فرماتے ہیں کہ 14 اگست کے احتجاج کے پیچھے ’’ غیر مرئی قوتوں ‘‘ کا ہاتھ ہے ۔ عمران کا احتجاج یوں ہی گزر جائے گا اور غیر جمہوری قوتوں کو

ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ شروع میں حکومت کے اہم کل پرزے بھی مولانا کی طرح کی بیان بازی کر رہے تھے مگر بقول خواجہ سعد رفیق کے جو انہوں نے معروف پروگرام ’’ آپس کی بات میں ‘‘ آ کرکی کہ ’’ ڈھائی مہینے تک میں جس طرح کی بیان بازی کرتا رہا ، وہ میرے شایان شان نہیں تھی ‘‘ صبح کا بھولا لگتا ہے شام ہونے سے قبل ہی واپس گھر لوٹ آیا ہے۔ شیخ رشید صاحب میاں نواز شریف کے نہ صرف قریبی ساتھی رہے بلکہ طویل دور تک وہ ان کا نفسِ ناطقہ رہے ۔ شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کی سیاسی پرورش اسٹیبلشمنٹ کے گملے میں ہوئی مگر موجودہ حکمرانوںکی تو سیاسی پیدائش ہی اس کے میٹرنٹی سینٹر میں ہوئی ۔ الزامات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے جو ہماری سیاسی اشرافیہ ایک دوسرے پر لگا رہی ہے ۔
طاہر القادری صاحب کے انقلاب تو اتنے بوسیدہ ہو گئے کہ کوئی ماننے کو تیار نہیں ۔مگر معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں خرابی پیدا کرنے کے سازو سامان سے وہ مکمل طور پرلیس ہیں ۔ اور ان کی پشت پر چوہدری برادران اور شیخ رشید صاحب موجود ہیں ۔ ایک دور میں چوہدری پرویز الہٰی تو مشرف کو وردی میں دس بار عہدہ صدارت پر دیکھنے کے متمنی تھے معلوم نہیں اب کے وہ کس کا کھیل کھیل رہے ہیں کیونکہ قرآئن تو بتا رہے ہیں کہ جنرل راحیل کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت کی بجائے آئین کی حدود میں رہتے ہوئے موجودہ حکومت کی حمایت کریں گے ۔خواجہ سعد رفیق کا بیان بھی فوج کے آئین کے اندر رہنے کی جانب بہت واضح اشارہ ہے ۔ بعض با خبر حلقے یہی کہتے ہیں کہ فوج کی حکومت سے ’’ کافی حد تک ‘‘ مفاہمت ہو چکی ہے ۔ قادری صاحب کے ’’ ڈراوے‘‘ نے حکومت اور فوج میں مفاہمت میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ عمران خان نے مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت پر قوم سے معافی مانگی تھی ، میرے ایک انتہائی قابل احترام و اعتبار دوست اسلام آباد کی ایک مجلس کے عینی شاہد ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ اُس مجلس میں ایک با اثر خاتون نے ان سے کہا کہ اقتدار کی منزل تک جلد پہنچنے کے لئے ایک تو قاضی حسین احمد سے پیچھا چھڑا لو اور دوسرے میں آپ کی اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کرا دیتی ہوں ۔ یہ ’’ حسین پیشکش ‘‘ سن کر عمران خان کے چہرے پر روایتی مسکراہٹ پھیلی اور انہوں نے کہا کہ کسی کے شانے پر بیٹھ کر ظفر اللہ جمالی وزیر اعظم بنے تھے ، جوں ہی شانہ بدلا جمالی وزیر اعظم نہ رہے ۔ ریفرنڈم کی حمایت میری حماقت تھی مستقبل میں اس کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ میں عوام کی قوت کے ذریعے اقتدارمیں آؤں گا ۔ قابل اعتبار دوست نے رات کی بات جب بتائی تو اس وقت اس راقم نے بھی عمران کو پاکستان کی آخری امید قرار دیا تھا ۔مگر وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ خان صاحب بھی بہت بدل گئے ۔ ’’ تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا ‘‘ جس اشرافیہ کے خلاف انصاف کا پرچم تھام کے انہوں نے تحریک انصاف قائم کی تھی ، بتدریج وہی اشرافیہ ان کی شریک کار بنتی گئی ۔ خان صاحب کا علم تھامنے کی بجائے غیر محسوس انداز میں انہوں نے اپنے ’’ علم ‘‘ خان صاحب کو تھما دئیے۔ خان صاحب موجودہ حکومت کے خلاف دھاندلی کا ڈھنڈورہ پیٹ کے نکلے تھے ۔ ایک بار نہیں درجنوں بار کہا کہ جمہوری نظام کو پٹری سے نہیں اترنے دیں گے ۔ کبھی خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل اور کبھی قومی اسمبلی سے استعفوں کی بات سے کیا جمہوریت پٹری پر رہ سکے گی ؟
آپ کی صوبائی حکومت نے کیا صوبے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں ؟ آپ نے کہا تھا گورنر اور وزیر اعلی ہاوس میں جامعات قائم کریں گے ۔ کیا ایسا ہو گیا ؟ صوبائی وسائل سے چھوٹے ڈیم بنا کر بجلی پیدا کریں گے اور دوسرے صوبوں کو فروخت کریں گے دوسرے صوبوں کو چھوڑئیے خیبر پختونخوا کیا آپ کی اپنی بجلی سے روشن ہو گیا ۔ ؟ چار حلقوں میں ووٹوں کی گنتی تک بات رہتی تو اچھا تھا مگر اس کی آڑ میں آپ نہ جانے دانستہ یا غیر دانستہ کس کا کھیل کھیل رہے ہیں ۔ آپ کے سابق صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی اسلام آباد کےایک ہوٹل میں بیٹھ کر پارٹی کے اندر کی جو باتیں بتاتے ہیں وہ ہوشربا ہیں ۔ ان کے بقول پارٹی کے اندر جس طرح دیرینہ قیادت کی رسوائی ہوئی اور ہو رہی ہے اس سے آپ کی پارٹی آگے بڑھ سکے گی ؟ پاکستان کا کوئی ذی شعور ملک میں لوٹ مار دیکھنا چاہتا ہے اور نہ ہی نا انصافی ، آپ صوبے میں حکمرانی کی بہترین مثال پیش کر کے مرکز میں حکومت کی گرفت کرتے تو اس سے لوٹ مار میں کمی اور آئین کی حکمرانی کی راہ ہموار ہو سکتی تھی ۔ مگر آپ کا حد سے زیادہ جوش و خروش اور احتجاج کی کامیابی کے نتیجے میں جمہوریت پٹری سے اتر سکتی ہے۔ اس جانب توجہ دلانا ضروری ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپریشن سے قبل درد دل سے اس کے نتیجے میں پیش آنے والے چیلنج کے لئے لام بندی کرتی ۔ اس وقت ایک جانب ہمارے با عزت قبائلی سڑکوں پر ذلیل و خوار ہورہے ہیں اور دوسری جانب فلسطین میں قیامت صغریٰ بپا ہے ۔نہ حکومت کی جانب سے کوئی اقدام کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اپوزیشن کی اکثریت کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے ایسے حالات میں 68 ویں سال میں داخلے کی قوم کو مبارکباد کیسے دی جائے ؟