آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے توقع سے زیادہ طویل ہوگئے ہیں اور سیاسی بے یقینی میں بھی توقع سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے قافلے 14اگست کو الگ الگ لاہور سے روانہ ہوئے تھے اور 15اگست کو اسلام آباد میں پہنچ کر دھرنوں میں تبدیل ہو گئے ۔ عام طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ دھرنے زیادہ سے زیادہ دو تین روز میں ختم ہو جائینگے اور فریقین کے درمیان معاملات طے پا جائینگے لیکن ایسا نہیں ہے ۔ تادم تحریر بھی معاملات طے ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ آج ہی معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے اراکین ِقومی اسمبلی کے استعفے سیکریٹری قومی اسمبلی کو پیش کردیئے۔ ڈاکٹر طاہر القادری قومی حکومت کے قیام کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ عمران خان وزیر اعظم کے استعفیٰ کے اپنے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف دونوں رہنماؤں کے یہ انتہائی مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں ۔ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں موجودہ اسمبلیوں اور نظام کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے کئے جانیوالے مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے ۔ کوئی ایسا راستہ نظر نہیں آ رہا ہے ، جو سب کیلئے قابل قبول ہو ۔ بقول فیض
تیرگی ہے کہ امڈتی ہی

چلی جاتی ہے
شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے
میں سمجھتا ہوں کہ سیاست دانوں نے بڑی بصیرت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس تمام صورت حال کا نہ تو حکومت کوئی حل پیش کر سکی ہے اور نہ تو اسکے پاس کوئی حل تھا۔ حکومت اور اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنا کوئی کردار ادا نہیں کر سکی ہیں ۔ ان سیاسی جماعتوں کے پاس بھی کوئی حل نہیں ہے ۔ دھرنوں کی طوالت سے اب یہ نظر آنے لگا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی تحریکیں اپنے منطقی انجام تک پہنچنے والی ہیں ۔ انہوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرادیا ہے کہ پاکستان کے لوگ کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں ، بالکل اسی طرح ،جس طرح دنیا کے دیگر ملکوں کے عوام تبدیلی کے لئے تحریکیں چلارہے ہیں ۔ پاکستان کے عوام ’’ اسٹیٹس کو ‘‘ کی سیاست سے تنگ آگئے ہیں ۔ انہیں جمہوریت یقیناً بہت زیادہ عزیز ہے لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے ثمرات ان تک پہنچیں ۔ انہیں نچلی سطح تک اپنے مسائل حل کرنے کا اختیار ہو ۔ انہیں موٹر ویز اور میٹرو بس سے زیادہ پکی سڑکوں ، پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولتوں کی ضرورت ہے ان کو اسکول‘ کالج اور اسپتال چاہئیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے فیصلے اسلام آباد کی بجائے مقامی سطح پر ہوں ۔ پاکستان کے عوام کی یہ بھی خواہش ہے کہ گڈ گورننس ہو ۔ کرپشن اور اقرباء پروری کا خاتمہ ہو ۔ سب کو انصاف ملے ۔ میرٹ اور قانون کی بالادستی ہو ۔ اسکولوں میں اساتذہ موجود ہوں اور وہاں معیاری تعلیم کا بندوبست ہو ۔اسپتالوں میں ان کا مناسب علاج ہو سکے ۔ پاکستان ، جو ترقی کا سفر الٹے پاؤں کررہا ہے ، وہ دنیا کے ساتھ آگے بڑھے ۔ سیاسی جماعتوں نے ان کی آنکھوں میں جو خواب سجائے تھے ، وہ پورے ہوں ۔ پاکستان ترقی کا سفر وہاں سے شروع کرے ، جہاں سے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے چھوڑا تھا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو سے لوگوں کو امیدیں وابستہ تھیں ۔ وہ غربت،جہالت اور استحصال کے خاتمے ، خواتین اقلیتوں اور دیگر مظلوم طبقات کے حقوق کیلئے جدوجہد کی علامت تھیں ۔ انہوں نے ہی 2007ء میں اپنی وطن واپسی کے موقع پر ایک نئے پاکستان کی تشکیل کا ایجنڈا دیا تھا اور انہوں نے ہی لوگوں کی امیدوں کو بھڑکایا تھا ۔ لوگ اپنی آنکھوں میں وہی خواب سجائے اسلام آباد میں موجود ہیں اور ان کے عزم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ10دن گزرنے کے باوجود بھی وہ تھکے نہیں ہیں ۔
اب کسی تاخیر کے بغیر معاملات طے کرنے کے لئے پیش قدمی کی جائے ۔ معاملات کو طے کرنے کا بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہئے کہ پاکستان کے عوام کو اپنا مستقبل نظر آئے اور انہیں یقین ہو کہ ان کا ملک جلد ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں ہوگا ان میں مایوسی پیدا نہ ہو اور فریقین اپنی شکست اور ہزیمت محسوس نہ کریں ۔ اس کیلئے جو فارمولہ طے کیا جائے ، اس میں چند ضروری باتوں کو ضرور پیش نظر رکھا جائے ۔ مثلاً ایک سال میں مڈٹرم الیکشن منعقد کرائے جائیں یا موجودہ اسمبلی کی مدت کم کی جائے اس سے پہلے وسیع تر مشاورت کے ذریعے انتخابی اصلاحات کا عمل بھی مکمل کیا جائے ۔ اسی عرصے میں الیکشن کمیشن کی بھی تشکیل نو کی جائے ۔ اگلے وسط مدتی یا عام انتخابات سے پہلے ایسا ماحول بھی پیدا کیا جائے کہ 11مئی 2013ء کے الیکشن کی طرح انتہا پسند یا دیگر قوتیں سیاسی عمل پر اثر انداز نہ ہو سکیں ۔ انتخابات سے قبل آئین کے آرٹیکل ۔ 62اور63پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہئے ۔ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی وسط مدتی اور عام انتخابات سے پہلے ہونا چاہئے ۔ معاملات طے کرانے والے اس امر کو یقینی بنائیں کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو کیونکہ سیاسی حکومتیں کبھی بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کراتیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے اس مطالبے کو بھی تسلیم کر لیا جانا چاہئے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر قانون کے مطابق درج ہو ۔ اگر معاملات کو فوری طور پر طے نہیں کیا گیا تو پاکستان کی تاریخ میں ایک اور ناکامی سیاست دانوں سے منسوب ہو جائے گی ۔
اس وقت پاکستان سیاسی تصادم اور محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ہماری قومی سیاسی قیادت کو اس خطے اور دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں حالات کی سنگینی کا ادراک کرنا چاہئے ۔ امریکی اور نیٹو افواج افغانستان سے نکلنے والی ہیں ۔ ان کا سب سے بڑا راستہ پاکستان ہے ۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ پاکستان اور اس خطے میں امریکہ ، چین اور روس کے کیا مفادات ہیں اور ان کے مفادات کے ٹکراؤ سے پاکستان کی سیاست میں کیا پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں ۔ پاکستان کی مسلح افواج کے پاس ایک ’’ آرگنائزڈ تھنک ٹینک ‘‘ ہے اور وہ اس خطے اور دنیا میں رونما ہوتی ہوئی تبدیلیوں پر بہت گہری نظر رکھتی ہیں ۔ انہیں اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ بھارت ، ایران ، افغانستان اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں اور کیسے ہونے چاہئیں اور کون سے ملک پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیاں کررہے ہیں ۔ مسلح افواج پاکستان کے خارجی اور داخلی امور کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور انہوں نے یہ ادراک ہے کہ ملک کسی بڑے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کے بعد حکومت اور دھرنا دینے والوں کے مابین مذاکرات کی کوششیں شروع ہوئیں ، جو ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے ہیں لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اگر قوم میں مایوسی پھیلی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری دبئی سے کراچی سے پہنچ گئے ہیں ۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے ۔ ان کی مفاہمت کی پالیسی کے پہلے بھی بہت مثبت نتائج نکلے ہیں ۔ ہمیں جمہوریت اور نظام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لوگوں کو بھی مایوسی سے بچانا ہے ۔ اگرچہ فی الحال کوئی راستہ نظر نہیں آرہا لیکن کوئی نہ کوئی راستہ موجود ہے ۔ مایوسی کی انتہائی کیفیت میں بھی فیض نے امید کی شمع روشن کی ہے ۔
یہی تاریکی تو ہے غازہ رخسار سحر
صبح ہونے کو ہے اے دل بے تاب ٹھہر

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں