آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ چند ہفتوں سے ملکی سیاست میں جو خلفشار برپا ہے اس سے ریاستی مشینری متاثر ہورہی ہے۔ کپتان کا بنیادی نقطہ انتخابات کی دھاندلی کا ہے۔ جس کی وجہ سے آج پوری قوم تشویش کا شکار ہے۔ کپتان اور ڈاکٹر قادری جو ردعمل دکھا رہے ہیں۔ اس کا مسودہ اور منظر نامہ کس نے لکھا ہے۔ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کے بارے میں رائے عامہ مختلف طریقہ سے سوچتی ہے۔ ایک طرف جمہوری اداروں کے تحفظ کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں تو دوسری طرف .........اگر کچھ عرصہ پہلے کے معاملات اور تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو تبدیلی اور انقلاب کے لیے نت نئے طریقے اختیار کیے گئے۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد جنرل پرویز مشرف کے لئے ملکی نظام کو پرامن طریقہ سے بدلنے کے لئے انتخابات کا راستہ چنا گیا۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ بیرون ملک دوستوں اور سرپرستوں کی مدد سے ایک ایسا مسودہ اور معاہدہ تیار کرے جس سے ملک کی سیاسی قوتوں کو آسانی اور سہولت فراہم ہو۔ اس سلسلہ میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے طارق عزیز اور بے نظیر کی جانب سے رحمان ملک نے ابتدائی طور پر مذاکرات کا آغاز کیا۔ شروع میں پرویز مشرف نے احتساب کے نام پر سیاسی جماعتوں اور افراد پر الزامات لگانے اور کچھ لوگوں سے سودے بازی بھی کی گئی۔ جو بعد میں پرویز مشرف سرکار میں نظام کا حصہ بن گئے۔ مسلم لیگ ق کے چوہدری

برادران پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں میاں نوازشریف کے ساتھ رہے۔ مگر بعد میں جب میاں نوازشریف اپنے خاندان کے ساتھ سعودی عرب چلے گئے تو احتساب کا سارا زور پیپلز پارٹی پر رہا۔پیپلز پارٹی کے اکثر لوگ احتساب کی کارروائی سے خوف زدہ تھے دوسری طرف بے نظیر بیرون ملک میں مستقبل کی منصوبہ بندی میں مصروف تھیں۔ کچھ سال جیل میں رہنے کے بعد آصف علی زرداری چند معاملات پر بات چیت کے بعد زبان بندی کے وعدے کے ساتھ بیرون ملک چلے گئے۔ اس وقت تک بے نظیر محفوظ طریقہ سے پاکستان میں پارٹی کو دوسرے سیاسی لوگوں سے رابطہ کے لئے تیار کر چکی تھیں۔ پرویز مشرف کی سرکار اس تمام صورت حال سے واقف تھی۔ وہ تو پہلے ہی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ میں نقب لگا چکے تھے اور ان لوگوں کی مدد سے سرکار چلا رہے تھے۔ پھر بین الاقوامی طور پر امریکہ کو بھی پاکستان میں ایسی حکومت کی ضرورت تھی جو امریکی دوستی کے تناظر میں حلیف کے طور پر کام کرتے۔ بے نظیر کو ان معاملات کا اندازہ تھا۔ بے نظیر نے برطانوی دوستوں کی مدد سے امریکی انتظامیہ سے رابطہ کیا اوران کو قائل کر لیا کہ اگر کوئی سیاسی سرکار بنی تو وہ بھی امریکی دوستوں کو مایوس نہیں کرے گی۔ اس معاملہ میں امریکی مہربانوں نے آصف زرداری کے ساتھ روابط رکھنے شروع کیے اور ان کے قول و قرار کے حوالہ سیاسی تدبر کے لئے مدد بھی کی، بے نظیر کو ان معاملات کا اندازہ تھا اور وہ اس صورت حال سے خوش نہ تھی۔ پھر مصالحت کا مسودہ یعنی این آر او کی دستاویز تیار کی گئی۔ جس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو ہوا اور اس ہی وجہ سے ایم کیو ایم ان کی ہمنوا بنی اور آصف زرداری پاکستان کے صدر بنے۔ اس ساری صورت حال کا اندازہ مسلم لیگ نواز کو تھا۔ ابتدائی معاہدہ کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان مشترکہ حکومت سازی شامل تھی۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد نوازشریف کو امید تھی کہ اب وہ آئندہ کے وزیراعظم بن سکیں گے۔ اس ہی وجہ سے میاں صاحبان نے کبھی آصف زرداری اور جنرل مشرف پر بے نظیر کے قتل کا الزام نہیں لگایا۔ پھر یہ بات بھی ہوئی کہ دونوں جماعتیں آدھا آدھا وقت حکومت کریں گی۔ جب صدارت کے لئے پیپلز پارٹی کی طرف سے آصف زرداری کا نام آیا تو میاں صاحبان کو اندازہ ہوا کہ ان کے ساتھ ہاتھ کردیا ہے۔ پھر این آر او کے تناظر میں وہ اپنے معاملات میں بے بس نظر آتے تھے۔ آصف زرداری کے اصرار پر وہ مخلوط سرکار کا حصہ بننے کو تیار ہوگئے اور این آر او کےمسودہ کے مطابق پنجاب میں مناسب وقت پر شہباز شریف کو وزیراعلیٰ بنوانے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ پنجاب نے صدر زرداری کو دل سے قبول نہ کیا۔ صدر زرداری نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے کارن اور این آر او کے فوائد کو مدنظر رکھ کر اپنا کردار محدود کرلیا اور جیسے تیسے اپنے پانچ سال مکمل کیے اور اپنے دو وزیراعظم بھی قربان کردیئے۔آج کی صورت حال میں انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کو اندازہ ہوا کہ اب ان کو عوام سے نیا مکالمہ کی ضرورت ہے۔ مگر میاں صاحبان نے ان کو سندھ تک محدود کر کے مرکز میں اپنی حیثیت مضبوط کرلی۔ صدر زرداری کے پانچ سال میں میڈیا نے پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیا چونکہ میڈیا کو این آر او (NRO) کا اندازہ پھر مشرف کے دور میں امریکہ کی محبت میں حساس ادارے کا کردار ایک سوالیہ نشان بن چکا تھا۔ مشرف کے جانے کے بعد جنرل کیانی جب افواج کے چیف بنے تو انہوں نے میڈیا سے تعلقات بہتر بنائے۔ دوسری طرف پنجاب کی سرکار ان کے معاملات میں اپنی حیثیت میں مدد ضرور کرتی اور ان سے مشاورت بھی کی۔ جس کی وجہ سے امریکی دوست پنجاب سرکار سے خاصے خوش رہے۔ مگر میڈیا کے معاملات کی وجہ سے امریکی اکثر پاکستانی سرکار سے ناراض رہتے اور صدر زرداری اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف رکھنے کے باوجوداپنی صفائی پیش کرنے میں کامیاب ہو اب یہ ساری صورت حال میاں صاحبان کے لئے قابل قبول نہ تھی۔ جب اس دفعہ کے انتخابات ہوئے تو میاں صاحبان نے جو زبان آصف زرداری کے لئے استعمال کی۔ وہ این آر او کے معاہدہ کے خلاف تھی اور مقتدر حلقے بھی خوش نہ تھے۔حالیہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ نواز اکثریتی پارٹی کے روپ میں نظر آئی۔ اپوزیشن میں دو جماعتیں نظر آرہی تھیں ایک پیپلز پارٹی اور دوسری کپتان کی تحریک انصاف، میاں صاحبان اور حلیفوں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح ماضی میں مسلم لیگ نواز فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ہے ویسا ہی کردا
ر اب پیپلز پارٹی کرے گی۔ پھر خورشید شاہ کو حزب مخالف کا لیڈر بنایا گیا۔ کپتان کی پارٹی کو خیبرپختونخوا میں سرکار مل چکی تھی۔ وہ وہاں مصروف ہوگیا۔ درمیان میں تعلقات خراب ہوئے تو کپتان کے دوست چوہدری نثار نے مدد کی اور میاں صاحب کپتان سے ملنے اس کے گھر چلے گئے۔ مقتدرحلقوں نے سابقہ انتخابات میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کیا تھا اور اس کو اندازہ تھا کہ اندرون خانہ کیا کچھ ہوا ہے۔میڈیا کے لوگ میاں نواز شریف کو جمہوریت کا تحفہ اور عوام کا اوتار بتا رہے تھے۔ دوسری طرف حساس ادارے طالبان کے معاملات میں سرکار کے کردار سے مطمئن نہ تھے۔ اور وہ طالبان کے حوالہ سے کارروائی کرنا چاہتی تھی مگر سرکار اس معاملہ میں سنجیدہ نظر نہ آتی تھی پھر بھارت کے معاملہ میں دفتر خارجہ کی پالیسی بھی ملکی انا کے لئے قابل تعریف نہ تھی۔ مسلم لیگ کے سرکردہ لوگ مالی معاملات کو شفاف نہ رکھ سکے اور ان کے اعتماد کو متاثر کیا۔ پھر اس مسودہ کو لکھا گیا جس کے نتیجہ میں آج کی صورت حال ہے۔اب صورت حال یہ ہے کہ اسمبلی میں حاضر لوگوں میں کوئی بھی حزب اختلاف نہیں ہے۔ میاں صاحب کا کہنا ہے کہ وہ استعفی نہیں دیں گے۔ پھر دوستوں کا خیال ہے کہ اگر اندرون خانہ معاملات طے ہو جائیں تو میاں صاحب مستعفی ہو سکتے ہیں ورنہ میاں صاحب اور مسلم لیگ ایک دفعہ پھر معصوم بن سکتی ہے۔ اس بات کا اندازہ پیپلز پارٹی کو بھی ہے۔ اب آصف زرداری میاں صاحب کی مدد کے لئے آرہے ہیں۔کیونکہ کپتان اورڈاکٹر قادری جس مسودہ اور منظر نامہ پر کام کررہے ہیں وہ خاصہ طویل ہوگیا ہے۔ دونوں اطراف کے لوگ تھک گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اندر بھی میاں صاحب کے ہمدرد نظر نہیں آتے میاں صاحب کی مسلم لیگ نے اندرون خانہ معاملات ٹھیک کرنے میں خاصی تاخیر کردی۔ اس وقت میڈیا کا کردار بھی وہ نہیں جو ہونا چاہئے ۔کیا کپتان اور ڈاکٹر قادری ہمارے فرشتوں کے مسودہ اورمنظر نامہ پرعمل کر کے کچھ حاصل کرسکیں گے۔ دوسری طرف اس کے بعد تبدیلی اور انقلاب کے نتیجہ میں میڈیا کا کردار محدود ہوتا نظر آتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ میڈیا کی آزادی ہی سلب ہو جائے۔ قربانی دیتے دیتے خود ہی قربان ہو جائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں