آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
قرطبہ سے ہم اپنے میزبانوں کے ساتھ صبح پانچ بجے غرناطہ کی طرف محو سفر ہوئے وجہ صرف یہی تھی کہ گرمی سے بچا جائے اور سورج نکلنے سے پہلے ہم غرناطہ پہنچ جائیں ،سفر شروع کرنے سے پہلے غرناطہ میں ایک دوست کو فون کیا کہ وہ الحمراء محل کے سامنے ہماری انٹری کی ٹکٹیں لے کر پہنچ جائے ۔قرطبہ سے نکلتے ہوئے ضیا سعید بلوچ نے بتایا کہ ہمیں یہاں ایک پُل دیکھنا چاہئے جو مسلمان سائنس دان عباس ابن فرناس کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ۔عباس ابن فرناس نے سب سے پہلے تخیل پیش کیا تھا کہ انسان اُڑ سکتا ہے ، اس بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے اُس نے مصنوعی پروں کے ساتھ بلندی سے چھلانگ لگائی لیکن وہ پرواز کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا اور اپنی ٹانگیں اور بازُو تڑوا بیٹھا تھا وقت گزرتا گیا۔ عباس ابن فرناس کے اُس خیال کو موجودہ دور کے ہوائی جہازوں اور گلائیڈرز کی ایجاد کا موجب سمجھا جاتا ہے لہٰذا عباس ابن فرناس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے جو پُل بنایا گیا ہے وہ پرندے کے ’’ پروں ‘‘ سے مشابہت رکھتا ہے ۔ہم سب نے ہائی وے پر بنا وہ پُل دیکھا ۔عباس ابن فرناس کے نام کا پُل اور قرطبہ میں مسلمانوں کے دور حکومت کے ریاضی دان اور کیمیا دان ابن رُشد کے نام سے بنائی جانے والی مسجد دیکھ کر داد دئیے بغیر نہ رہ سکے ۔قرطبہ سے غرناطہ جانے کے لئے اگر ہم روڈ ’’ اے

95 ‘‘ اے 45 ‘‘ استعمال کریں تو دونوں شہروں کے مابین فاصلہ 201کلو میٹر بنتا ہے یہ سڑک ا سپین کے معروف شہر ’’ انتے کیرا ‘‘ سے ہو کر غرناطہ تک پہنچتی ہے ،لیکن اگر نیشنل روڈ استعمال کیا جائے جو ایم432کہلاتا ہے وہاں فاصلہ 160کلو میٹر ہے ، ا سی طرح ایک سڑک ’’ اے 40‘‘بھی ہے جس پر قرطبہ سے غرناطہ کا فاصلہ 185کلو میٹر ہے ۔ہمارے قافلے میں کل 12افراد شامل تھے ۔ہم سب قرطبہ میں اپنے میزبان اعجاز احمد بٹ سے اجازت لے کر غرناطہ کی طرف جا رہے تھے ۔ہم نے اے 95 سڑک کا انتخاب کیا تاکہ راستے میں شہر ’’ انتے کیرا ‘‘ کا طرز تعمیر دیکھتے جائیں ،قرطبہ سے غرناطہ تک جاتے ہوئے سڑک کے دونوں طرف زیتون کے پودوں اور پہاڑوں کے علاوہ کچھ دکھائی نہ دیا ، پہاڑوں پر بھی صرف زیتون ہی کاشت کیا گیا تھا ،سڑک کے دونوں طرف تا حد نظر ہر طرف صرف زیتون کے باغات نظر آئے ۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ا سپین میں ہزاروں میل کا علاقہ زیتون کی کاشت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔شہر ’’ انتے کیرا ‘‘ کے پاس لب سڑک ہم نے ایک پٹرول پمپ سے ناشتہ کیا اور منزل کی جانب روانہ ہوئے۔غرناطہ شہر میں ہم تقریباً ساڑھے آٹھ بجے پہنچے جہاں سے ہم سیدھے الحمراء محل جانا چاہتے تھے ۔غرناطہ کے دو لغوی معنی ہیں ، کچھ تاریخ دان کہتے ہیں غرناطہ کا مطلب ہے مسلمانوں کا شہر جبکہ اسپینش زبان میں اس کا مطلب ’’ انار ‘‘ ہے اور اس شہر کا نقشہ بھی تقریباً انار کی شکل کا ہے ، غرناطہ میں ہمیں مرزا کلیم اور مرزا اصغر نے خوش آمدید کہا اور ہماری غرناطہ سے متعلق تاریخی حوالوں سے رہنمائی کی ۔وہ ہمیں الحمراء محل کے قریب ایسی جگہ لے کر گئے جہاں مسلمانوں کے دور میں ایجاد کی گئی سورج سے چلنے والی گھڑی تھی اسے اسپینش زبان میںReloj Del Solیعنی سورج کی گھڑی کا نام دیا گیاہے جبکہ تاریخ میں اس گھڑی کو ’’جانو دے پیردیس‘‘ لکھا گیا ہے۔پہاڑ کی چوٹی پر بنی گھڑی پتھر کا ایک گلوب تھا جس کے دونوں طرف ایک سے بارہ تک گنتی لکھی ہوئی تھی گلوب کے اُوپر لوہے کا ایک پائپ کھڑا تھا جس پر سورج کی روشنی پڑتی تو وہ پائپ سایہ بناتا ہے یہ سایہ جس’’ ہندسے‘‘ پر پڑتا۔ اس سے وقت کا اندازہ گھنٹوں اور منٹوں کی صورت میں لگایا جاتا تھا۔ یہ ایجاد بھی اپنی مثال آپ تھی ۔ہم سب نے اس گھڑی کو بغور دیکھا اور وقت کا اندازہ لگانے کی بہت کوشش کی مگر سائنسدانوں کی اس ایجاد کی حقیقت تک نہ پہنچ سکے ۔پہاڑ کی چوٹی پر چاروں طرف سے جنگل میں گھڑی کے ساتھ تصاویر بنوائیں ،گھڑی سے ملحقہ جنگل میں کسی خانہ بدوش نے الہ دین کا چراغ اور اس میں سے نکلتا ہوا ’’جن ‘‘کا مجسمہ بنا کر رکھا ہوا تھا وہ شاہکار ہم سب کے لئے حیران کن تھا ۔یہاں سے پہاڑوں کی پستی کا سفر طے کرنا شروع ہوئے اور اب ہماری اگلی منزل وہ مسجد تھی جو اس وقت کے مسلمانوں کی رہائشی آبادی میں بنائی گئی تھی ،اب یہ مسجد اسپینش مسلمانوں کے زیر انتظام ہے اسے ’’ جامع مسجد غرناطہ ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔اس مسجد میں کھڑے ہو کر الحمراء محل اورمسجد کا نظارہ کیا جا سکتا ہے ، ہم مسجد پہنچے جہاں کے نقش و نگار نے ہمیں حیران کر دیا تھا ۔ہم غرناطہ شہر کے اس دروازے تک بھی گئے جہاں سے غرناطہ میں داخل ہو اجاتا تھااس دروازے کو اسپینش زبان میں Arco Elvira ( آرکو البیرا ) کہتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب اس دروازے کی بلندی کافی کم ہو چکی ہے اور یہ ایک نشانی کے طور پراپنی جگہ قائم ہے ۔ اسپین میں بنو عبدالمومن (المہیدون ) کے چوتھے بادشاہ خلیفہ عبدالناصر کے دور میں مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں نے فتوحات حاصل کرنا شروع کردیں عیسائیوں کو پہلی فتح 16جولائی 1212 میں ہوئی لیکن غرناطہ کو 280سال تک فتح نہیں کیا جا سکا تھا 2جنوری 1492میں اس وقت کے برسر اقتدار مسلمان بادشاہ اُبو عبداللہ محمد ابن علی نے بغیر جنگ کئے عیسائی بادشاہ فرنیندو اور ملکہ عیسیٰ بیل کوا لحمراء محل کی چابیاں دے دیں جس سے اسپین میں مسلمانوں کا آخری نشان بھی مٹ گیا ۔یہ عبداللہ بادشاہ وہی تھا جس نے اپنی والدہ سلطانہ عائشہ کے ساتھ مل کر اپنے ہی باپ کے خلاف بغاوت کرکے اس سے اقتدار چھینا تھا ۔ہم سب اُسی الحمراء محل کے دروازے جسے ا سپینش زبان میں ’’پورتا دے الحمراء ‘‘ کہا جاتا ہے میں سے گزر کر اندرونی حصے میں پہنچ گئے ۔

.

ادارتی صفحہ سے مزید