آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رب العزت نے کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے ہر عمل ہر مخلوق کی فطرت میں ایسا کچھ سمو دیا ہے کہ اگر انسان سیکھنا چاہے تو سیکھ لے۔ امیر تیمور نے اپنی تزک (خود نوشت) میں ایک واقعہ تحریر کیا ہے کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ایک چیونٹی غلے کا ایک دانہ اٹھائے دیوار پر چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ دانہ اس سے گر گیا۔ چیونٹی نے ہمت نہ ہاری اور پھر کوشش شروع کر دی۔ حتیٰ کہ وہ 70/80 بار ، بار بار کی کوشش کے بعد دانے کو دیوار پر لے جانے میں کامیاب ہو گئی۔ اس دن کے بعد سے میں نے کسی کام میں ہمت نہ ہاری۔ اس حوالے کی تشریح سے قبل ایک خبر کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔ انڈیا میں گزشتہ برس بھی اور اس سال بھی 2 ستمبر کو ٹریڈ یونینوں کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق اس ہڑتال میں 15 سے 18 کروڑ مزدوروں اور چھوٹی ملازمت کرنے والےافراد شامل تھے۔ متعدد علاقوں میں بینک ، ٹرانسپورٹ ،ا سکول اور اسپتال اس سے متاثر ہوئے۔ پولیس کی پکڑ دھکڑ بھی سامنے آئی۔ سوال یہ ہے کہ بھارت جس کے فارن ریزرو 367 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکے ہیں وہاں دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال کیونکر وقوع پذیر ہو گئی۔ جواب بالکل واضح ہے کہ ان ڈالروں سے ماسوائے امیر ، امیر تر اور غریب ، غریب تر ہونے کے اور کچھ نہیں ہو رہا۔ ہندو قوم پرستی کی آڑ میں دولت

مند مزید دولت مند ہو رہا ہے جبکہ غریب کا خون چوساجا رہا ہے۔ صرف 4% مزدور لیبر قوانین سے تحفظ حاصل کر رہے ہیں۔ یعنی قوم کی ترقی لا حاصل اور کم آمدنی والے طبقات کی بے چینی میں اضافہ۔ اس خبر کی جانب توجہ مبذول کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب تک کم آمدنی والے طبقات کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل نہیں کیا جاتا، پاکستان میں بھی بے چینی آتش فشاں کی مانند برقرار رہے گی۔ پاکستان کے حالات بھارت سے صریحاً مختلف ہیں۔ بھارت میں مسلسل جمہوریت کے سبب مزدور تنظیمیں فعال اور جڑیں رکھتی ہیں جبکہ پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہچانے کے سبب مزدور تنظیموں کا عملاً گلا گھٹا ہوا ہے۔ اس لئے وہ کوئی منظم تحریک یا ہڑتال کی جانب نہیں بڑھ پاتیں۔ پاکستانی جمہوریت ابھی خطرات کا مقابلہ کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آتے وقت مسائل کے تین اژدھے پھنکارتے ہوئے بڑھے چلے آ رہے تھے۔ توانائی کا بحران ، کراچی، کوئٹہ ، گلگت ، بلتستان اور بالعموم پورے ملک میں دہشت گردی کا بے قابو ہوتا طوفان اور گرتی ہوئی معیشت۔ دہشت گردی میں تو خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ معیشت میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس کا ہدف حاصل کرنا اور مستقبل قریب میں توانائی کے مسائل کا حل اس مشکل دور میں بڑی کامیابیاں تصور ہوگی۔ یہاں اس بات کا کیال رکھنا بھی اشد ضروری ہے کہ اگلے عام انتخابات میں اب زیادہ عرصہ نہیںہے اور سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ امر واضح طور پر سجھائی دے رہا ہے کہ جو جماعتیں جہاں جہاں اس وقت اقتدار میںہیں وہ دوبارہ اقتدار کی سنگھاسن پر براجمان ہو نگی ۔ ممکن ہے کہ کسی صوبے میں کوئی تبدیلی رونما ہو جائے۔ کیونکہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں خیبر پختونخوا میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کی چند اضلاع میں محدود کارکردگی اس کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ بہرحال یہ تینوں جماعتیں انتخابات کی آمد کے سبب اپنے منشور اور پروگرام کو ترتیب دینے کے مراحل کے قریب آتی جا رہی ہیں۔ اس لئے یہ بہت مناسب ہو گا کہ یہ قابل عمل منشور ترتیب د یں مگر ان منشوروں کی اساس کم آمدنی والے طبقات کی زندگی کو آسان بنانا ہوگا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مختلف مقامات پر اسپتالوں کے قیام کا اعلان اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حکمران جماعت کی قیادت اس بات کو اچھی طرح سمجھ بھی رہی ہے۔ مگر اب اس سے بھی آگے اگلے دور حکومت میں قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ بیوروکریسی کا موجودہ نظام گل سڑ چکا ہے۔ اگلے انتخابی پروگرام میں بیوروکریسی کی از سر نو تشکیل اس طرح کی جائے کہ جس میںایک بیوروکریٹ کے پاس قانون سے متصادم احکامات کو رد کرنے کی طاقت ہو جبکہ وہ خود بھی قانون پر عمل کرنے کا پابندہو اور عوام کے منتخب نمائندوں کے سامنے جوابدہ ہو۔ کم آمدنی والے والے طبقات کی فلاح کی غرض سے لیبر قوانین میں بہتری لائی جائے جبکہ اس کا بھی اہتمام ہو کہ ان قوانین پر عمل درآمد بھی ہو نہ کہ بھارت کی طرح صرف 4% مزدور لیبر قوانین سے استفادہ کر رہے ہوں۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہے ۔ اگر کم سے کم معیار زندگی مقرر کیا جائے اور اس معیار کو حاصل بھی کر لیا جائے تو معاشرے میں غیر معمولی تبدیلی وقوع پذیر ہو گی۔ صحت، تعلیم اور انصاف کے شعبوں میں انسانیت کو سسکنے سے بچانا ہی اگلے دور کا ہدف ہونا چاہئے۔ مجھے اندازہ ہے کہ بیوروکریسی کی تشکیل نو،منتخب نمائندوں کے معاملات، لیبر قوانین پرسختی سے عمل درآمد ان اہداف کو حاصل کرنا خطرات کا سمندر عبور کر نے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے بطور وزیر ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے بہترین پروگرام پیش کیا تھا۔ مگر مشکلات کے باعث کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔آج بھی یہ پروگرام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ امیر تیمور نے چیونٹی سے سبق سیکھا کہ ہمت نہیں ہارنی چاہئے تو امیر تیمور بن گیا۔ اگر کوئی اس نظام کو اکھاڑ کر پھینکنے کی ہمت کر لے تو وہ پاکستان کا امیر تیمور بن سکتا ہے۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں