آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 15؍ ذیقعد 1440ھ19؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پراسراریت کے دبیز پردوں میں پوشیدہ ایک لذیذ سے موضوع نے ذہنی دنیا کو سرّیت پسندی اور حیرت آمیزی کی لذتیت سے خوش ساکر دیا ہے، نوّے کے زاویئے پر مزید حیرت، موضوع کسی گم شدہ محبت کے خزینے پر دستک نہیں دے رہا، اس کا تعلق قومی سیاست سے ہے، بھلا قومی سیاست کے عنوان میں سرّیت پسندی اور حیرت آمیزی کا رومانس کہاں سے در آیا؟ در آتا ہے بھائی! کچھ وقوعے ،ہمیشہ، ہر روز، ہر لمحے ان سات آسمانوں کے نیچے اور ان سات زمینوں کے اوپراپنی انگشت شہادت اٹھاتے اور اپنے وجود کا ہانکا لگاتے رہتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی پنجاب کے چوہدری برادران کا سیاسی خاندان، جسے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں 60ء کی دہائی میں سائیڈ پر کرنا محال تھا، 2015میں بھی اس کی ناگزیر سیاسی تجسیم میں سر مو فرق نہیں پڑا، شاید مبالغہ نہ ہو اگر 2015میں اس ناگزیریت کے حجم اور وسعت کے دونوں سائزوں کے ہندسوںکو 99,99کے متوازی خطوط کی قومی حیثیت دے دی جائے۔ ملکی حکمرانی کے نقشے میں جو بھی، جہاں بھی اور جیسے بھی متشکل ہو یا کیا جائے، اسے پنجاب کے اس خانوادےکے ان دونوں وزنی خطوط کے درمیان خود کو Adjust کرناپڑے گا۔ چاہے شراکت اقتدار کے سمجھوتے کی چھتری تلے چاہے اپوزیشن کےطور پراسےبرداشت کرنے کا زادِراہ لےکر! بی بی شہید نےجب پاکستان کے قومی عمل میں ’’چوہدری ایک سیاسی

حقیقت ہیں‘‘ کی حقیقت کا اندراج کرایا، تھوڑا سا اچنبھا ہوا تھا مگر وقت نے اس معاملے میں بھی بی بی کی ظرف نگاہی تسلیم کی ہے! خیالات کی روش پراس اندراج سے ابھرتے منظر کے زاویئے نہایت لطف انگیز اورزندگی آموز ہیں۔ایک نتیجہ خیز حظ اٹھایا جاسکتا ہے جس کا تعلق نتائج کی پیداواری جہت سے ہوتا ہے، وقت کے بنجرپن کی اُس میں کوئی جگہ نہیں ہوتی یعنی چوہدری برادران کی سیاسی حقیقت،خود کو عمل پذیری کے پلڑے میں کیسے قوم کو یاددہانی اوراپنی ناگزیریت کا توازن قائم رکھتی ہے، میدان میں موجود متحارب قوتوں کو انتظارکی صلیب پر لٹکا کر، قومی سیاسی منظرنامے میں اپنی حرکت کے اثرات کو لابدی بنا دیتی ہے، اس کی تصویر کشی ہے تو مشکل، بہرحال اس میں چونکنے کے عناصر ترکیبی کاامتزاج فنکار کی کمال پرکاری سے آپ کو مسحور کئے بغیر نہیں رہتا، یہاں تک کہ معاملات اس عارضی دنیاکے ہیں اور چوہدری برادران ان میں بھی حد درجہ دھیرج مگرچاق و چوبند باطنی سرکشی کے ساتھ اپنی عزت نفس اور خودداری کےتیرچلاتے ہیں جن سے ہدف کا حلق چھد اور جسم ڈھے جاتا ہے۔ اس مہا متوازن قابلیت کی تصویر کشی کے بغیر بات بنتی دکھائی نہیں دیتی۔ چلیں کوشش کر دیکھتے ہیں!
آیئے ،2014 کو مثال بنائیں!
ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے پرشور سیاسی اور مذہبی تلاطم اور عمران خان کی پرعزم جارحانہ سیاسی حملہ آوری کے مابین چوہدری برادران قومی اسکرین پر اپنی متوازن سیاست کے ساتھ، دونوں شخصیتوں کے ہمراہ دکھائی دیتے ہیں،عوامی حافظے میں ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کےوجود شدید تھے، تو چوہدری برادران کا وجود اسی حافظے میں سیاسی لیور کے طور پرہر انفرادی اور اجتماعی فورم پر زیر بحث رہتا، شب و روز کے تغیرات کی بنیادوں میں اس لیور کی جڑت بھی کی جاتی لیکن!
اور ’’لیکن‘‘ وہی جس کے سفر میں چوہدری برادران نے نہ بلند آہنگ لہجہ اپنایا،نہ شرمندگی کی وادی میں اترنے کے باعث دعوئوںکا بازار لگایا، نہ چیلنج کرنے کے غیرپیداواری کی کاشت کی، یہی توازن بی بی شہید کے ذہنی افق پر چودھریوں کے ’’ایک عملی سیاسی حقیقت‘‘ ہونے کی حقیقت ثبت کرگیا۔ ہم افراد اور گروہوں کی حمایت و مخالفت میں بٹے ہوئے لوگ ہیں۔ لابیوں اور تعلقات کی زنجیریں نہیں بلکہ سنگلوںمیںبندھ چکے ہیں، چنانچہ بہت سے دانشوروں نے ان دنوں ’’دسترخوانی قبیلے‘‘ کی اصطلاح کا طبل بجا کر کام چلانے کی کوشش کی تاہم کام چل نہیں سکا۔چوہدری برادران اپنے تحمل کی بساط اور اپنی سیاسی ڈکشنری کے بہی کھاتے کے ہندسوں کی پوزیشن میں کسی جلدبازی یاغصہ ور اتھل پتھل کاشکار نہیں ہوئے۔ اب 2014کی اس قومی سیاست میں نوازشریف، ڈاکٹر طاہر القادری، عمران خان اور چوہدری برادران سمیت، سب کی ممکنہ سیاسی بیلنس شیٹ "Balance Sheet" پر نظرڈالیں!نوازشریف کا آئینی حق حکومت داغدار ہوچکا۔ عوامی عدالت میں تھیلوں کا شجرہ ٔ نسب اورجوڈیشل کمیشن کی عظمتیں تعلیم نہیں ہوتیں ، ایک ماحول کی صدابن چکی ہے جس کی لے کے آخری سرے پر عوام نے ’’مشکوک منتخب حکومت‘‘ کا کتبہ نصب کردیا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری ،سانحہ ماڈل ٹائون کے المیے کی سچائی،اپنے کھاتے میں لے کر خود کو بحال کرنے کی ان تھک جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ ادھر سانحہ ایک دکھوں کا جزیرہ ہے، جس کا وقوعہ، خواہ کوئی بھی ہوتا، قانون اور سماج اس کے فیصل ہونے تک چین نہیں پائیں گے۔ سو ڈاکٹر صاحب کی یہ جدوجہد اس بیلنس شیٹ سے باہر مندرج ہوگی جس کا تذکرہ ہوا ہے، اس کے مطابق ڈاکٹر صاحب قومی سیاست کے میدان کی کسی گیم میں ریزرو کھلاڑی کے طورپرشاید موجود رہیں۔ پاکستان کی لیڈرشپ یا رہنمائی کے رتبے یا آرزو کے دروازوں پر دستک کے امکانات تک نہیںہیں۔ باقی کائنات میں انہونی تو کسی وقت بھی ہوسکتی ہے مگر انسانوں کی عظیم تاریخ کا تسلسل انہونیاں نہیں روٹین کے شب و روز ہی تشکیل دیتے ہیں!
عمران خان نوازشریف کے استعفیٰ سے لے کر چند دوسرے دعوئوںکی انتہاپسندی کے ہاتھوں سوالیہ علامت میں ڈھل چکے، ا ن کی فین نوجوا ن نسل ہی نہیں عوام کی اکثریت بعض دعوئوںکی انتہاپسندی سے مکمل Back out کے بعد فائنل اوور کی کوئی با ل سیدھے بیٹسمین کی ٹانگوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی وکٹ اُڑاتی نظر نہیں آتی نہ کسی بال کے نتیجےمیں ایل بی ڈبلیو کا کوئی سکوپ باقی رہ گیا ہے۔ جبکہ بیٹسمین وہی نوازشریف جن کی کرکٹ سے اک عالم آشنا ہے!
عمران خان چھکوں سےشروع ہوئے، عوامی عدالت اب انہیں ٹک ٹک کے خانے میں فٹ کرچکی،دوبارہ چھکوں پر آنا، وہی انہونی ہوگی، روٹین نہیں، پاکستان کا عوامی ماحول نوازشریف کو مزاحمت کی دونوں دیواروں کے مکمل انہدام کے بعد، مدت پوری ہونےکے Walk overکی صورت میں دیکھ رہا ہے۔
تو پھر چوہدری برادران اس Balance Sheetمیں کہاں ہیں، وہیں جنوری 2014میں تھے! یعنی نہ پاکستانیوںنے انہیں دعوئوں کے انبار کا طعنہ دیا، نہ چیلنج کرنے کی طراریاںیاد کرائیں، نہ انہیں انقلاب کی مبالغہ آرائیوں کا قیدی قرار دیا۔ عوامی عدالت میں وہ پاکستان مسلم لیگ ق نام کی جماعت کے قائد ہیں، یہ جماعت نوازشریف کی ’’ن‘‘لیگ کے عدم اقتدار اور اب اقتدار، دونوںدورانیوں میں اپنی تقریباً پوری کی پوری سیاسی پونجی سمیت، بہترین میانہ روی کےساتھ، کسی کو کامیابی کے گلدستے پیش کئے،یاکسی کو طعنوں کےطوق پہنائے بغیر، وقت کے آخری سیاسی منظرنامے میںاپنی Placing کی منتظر ہے کہ پاکستان کی سیاسی جیومیٹری کی مثلث میں ق لیگی ضلع کے بغیر تکمیل پذیر ہونے کی گنجائش تقریباً معدوم ہے۔ گھاٹے اور آزمائش میں کون رہا؟ نوازشریف، ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان، رہ گئے چوہدری برادران سو بطور ’’سیاسی حقیقت‘‘ کے ان کے دروازوں پر سیاسی ضرورت مندوں کی دستکیں اسی طرح سنائی دے رہی ہیں!
ذہن میں باضابطہ قومی انتخابات یا درمیانی مدت کے قومی انتخابات، دو نوںقومی پہلوئوںسےمتوقع اقتدار کی ایک ہیئت ابھر رہی ہے جسے فی الوقت زیربحث نہیں لایا جارہا، اشارتاً عرض کئے دیتا ہوں اس ہیئت ممکنہ کے دائرے میں غالباً ’’ق‘‘ لیگ کو آئوٹ نہیں کیا جاسکے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں