آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
شروع ربّ ذوالجلال کے نام کے ساتھ جو عزت دیتا ہے تو انسان کی خامیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ اور جب ذلت دینا چاہے تو خوبیوں کو بھی چھپا دیتا ہے۔
زنجیرِ عدل میں نے ہلائی نہ اس لئے
ہرجرم تیرے شہر کا دستور سا لگا
سانحہ پشاور کی صورت میں بہت بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف (20)نکاتی ایکشن پلان پر متفق ہوگئیںلیکن اس پلان میں خامیاں نمایاں طور پر دیکھی اور محسوس کی جا سکتی ہیں۔ اس پلان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے جن اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں بیشتر پولیس کے ذریعے عمل درآمد ہونا ہے لیکن پورے پلان میں پولیس کا ذکر تک نہیںہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت انتہا پسندی، عسکریت پسندی اور دہشت گردی کیخلاف جنگ جیتنے میں سنجیدہ ہے تو پولیس کے کردار کا واضح تعین انتہائی ضروری ہے۔ پولیس کے سربراہ سے تھانہ انچارج تک اختیارات اور حقیقت کا تعین پولیس کارکردگی کو بہتر اور مؤثر بنانے میں مددگار ہو گا۔ جس کی مثال خیبرپختونخوا میں ملتی ہے۔ جہاں انسپکٹر جنرل آف پولیس بااختیار ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انتظامی سربراہ یہاں آئی جی پولیس کے اختیارات استعمال کرنے یا اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس صوبے میں پولیس کے نظام میں بہتری کے آثار ملتے ہیں

کیونکہ آئی جی پولیس کا آفس پولیس ڈیپارٹمنٹ کی تمام اچھائیوں اور برائیوں کا ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔ اس کے برعکس باقی صوبوں میں آئی جی پولیس کے اختیارات انتظامی سربراہ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن غلطیوں کی ذمہ داری پولیس سربراہوں پر ڈال دی جاتی ہے اور وہ عدالتوں میں سیاسی مداخلت کے نتیجے میںپیدا ہونے والی برائیوں کیلئے جوابدہ ہوتا ہے ۔توقع تھی کہ موجودہ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کرنے کی کوشش کریگی لیکن یہ مداخلت سنگین صورت اختیار کرچکی ہے۔ پولیس حکام کی اس نوعیت کی شکایات میں سیاسی مداخلت بنیادی اعتراض ہے ،جس کے نتیجے میں پولیس ڈیپارٹمنٹ تنزلی کا شکار ہے۔ سفارش اور پسند نا پسند کی بنیاد پر پولیس اہلکاروں اور افسروں کی تعیناتی کے بڑھتے ہوئے رحجان نے اس ادارے کو تباہ کردیا ہے۔ جس سے عوام کو میرٹ پر انصاف حاصل کرنا ممکن نہیں رہا ۔ پولیس کا جو افسر سیاسی مداخلت قبول کرنے سے انکار کرتاہے اسے اس کے عہدے سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ اب تو یہ دستور بن چکا ہے کہ نچلے عہدے پر تعیناتی کیلئے بھی اعلیٰ ترین انتظامی آفس کی اجازت اور خوشنودی حاصل کرنا ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ قانون اور قاعدے کے تحت تمام عہدوں پرافسروں کی تعیناتی صرف آئی جی پولیس کی صوابدید ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں پولیس کے functionsدوسری ایجنسیوں کو سونپ دئیے گئے ہیں۔ ان شہروں میں پولیسOperationalامور میں غیر فعال ہوکر رہ گئی ہے اور رفتہ رفتہ افادیت کھو رہی ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ حکومت اپنی فرنٹ لائن فورس کی تربیت اور اسے جدید ترین تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی منصوبہ بندی کرتی لیکن اس ادارے کو غیر فعال اور اسے اصل ذمہ داریوں سے علیحدہ کردیاگیا۔ جس سے پولیس پر سرکاری سطح پر عدم اعتماد اور عدم اطمینان کے اظہار کا تاثر ملتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حالات کی ذمہ دار کوئی ایک حکومت نہیں بلکہ پولیس کا محکمہ اپنی غیر مقبول اور غیر پیشہ ورانہ کارکردگی اور عوام دشمن رویہ کی وجہ سے خود اس کا ذمہ دار ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ محکمہ ناقابل اصلاح تصور کیا جانے لگاہے۔ بہرحال پولیس کی اصلاح حکومت کی ذمہ داری ہے جو مہذب معاشرے کی تشکیل کی اولین شرط ہے۔پولیس حکام کا خیال ہے کہ سیاسی مداخلت کی موجودگی میں پولیس کی اصلاح ممکن نہیں ہے اگر حکومت اس محکمے کی اصلاح کیلئے سنجیدہ ہے تو اسے سیاسی مداخلت کو مکمل طور پر ختم کرکے پولیس کے سربراہ کو پولیس کی تنظیم نو کے اختیارات دینے ہونگے ۔پولیس کو معروضی حالات کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف مؤثر جنگ کیلئے وسائل مہیا کرنے ہوں گے جبکہ پولیس حکام کو پولیس کی تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی اور تربیت یافتہ اسکواڈ تیار کرنے ہونگے جو دہشت گردی کے واقعہ کی صورت میں پیشہ ورانہ انداز میں فوری عمل کریں تاکہ دوسری ایجنسیوں کے مستعار لینے کا سلسلہ کم سے کم کیا جاسکے۔ اس کے جواب میں حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے حکومت کے پاس وسائل نہیں ہیں لیکن کوئی ذی ہوش شخص حکومتی منصوبہ سازوں کا یہ مؤقف تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ حکومت کے پاس وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات بے ترتیب ہیں۔ ان حالات میں ملک کی پہلی ترجیح امن قائم کرنا اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، میٹرو بس سروس پر اربوں روپے خرچ کرنا نہیں۔ اگر راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان صرف 14کلومیٹر کی میٹرو بس سروس پر 50ارب روپے سے زائد رقم ضائع کرتے ہوئے وسائل کی کمی کا احساس نہیں ہوا تو پولیس فورس کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے جائز اخراجات کرتے ہوئے وسائل کی کمی کیوں آڑے آ رہی ہے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق صرف 20ارب روپے کی لاگت سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے دونوں شہروں جن کا شمار بلاشبہ ملک کے حساس ترین علاقوں میں ہوتا ہے کو مکمل طور پر محفوظ کرنے کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ترین آلات سے مزین کیا جاسکتا ہے لیکن شائد یہ حکومت کی ترجیح نہیں ہے۔حکومت کی بے ترتیب ترجیحات میں تھانہ کلچر کے خاتمے کا منصوبہ دفتری فائلوں میں کہیں دب کر رہ گیا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ تھانہ کلچر حکومتوں اور سیاستدانوں کیلئے موافق ہے تھانہ کلچر کا خاتمہ اصل میں ان پیشہ ور سیاستدانوں کی سیاست کا خاتمہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پولیس کی تنزلی کا عمل قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا لیکن پولیس کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ کہتے ہیں ایوب خان کے دور میں ایک کوشش کی گئی تھی جب مغربی پاکستان کے مضبوط ترین گورنر نواب امیر محمد خان آف کالاباغ کے سامنے پولیس اصلاحات کیلئے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے علاوہ فورس کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے سفارشات پیش کی گئیں لیکن گورنر نے انہیں مسترد کردیا اور فائل پر اپنامنفی موقف تحریر کردیا۔ یہ پہلی اور آخری سنجیدہ کوشش تھی جس کے مثبت نتائج حاصل کئے جاسکتے تھے اس کے بعد کسی حکومت نے نہ تو پولیس کی حیثیت کو تسلیم کیا اور نہ ہی اس کی اصلاح کیلئے ٹھوس اقدامات کئے اور پولیس کی اصلاح حکومتوں کی ترجیحات سے خارج ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ کسی حکومت میں پولیس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔ پنجاب پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق پنجاب میں 700تھانوں میں سے 400خستہ حال عمارتوں اور غیر مستقل مقامات پر قائم ہیں۔ یہ تھانے یا تو کسی عمارت پر قبضہ کرکے قائم کئے گئے یا پھر کرائے کے پرانے گھروں میں پولیسنگ کا نظام چلایاجا رہا ہے جو پولیس کی جانب حکومتی عدم توجہی کی ایک برُی مثال ہے۔حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ پولیس کو بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا ہوتا ہے نامساعد حالات میں بھی مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے جن میں دہشت گردی اور Organised Crimeکا مقابلہ اولین حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس فرنٹ لائن فورس کو اب تک 1861ء کے قانون کے تحت ہی چلایا جا رہا ہے اور توقع یہ کی جاتی ہے یہ اکیسیویں صدی کے تقاضوں کو ڈیڑھ سو سال پہلے کے وسائل میں رہتے ہوئے پورا کرے اور دہشت گردی اور منظم جرائم کا مقابلہ کرے۔ امن و امان کے بدترین حالات میں بھی پنجاب میں ایک تھانے کو روزانہ 2گاڑیاں اور 20لٹر پٹرول دیا جاتا ہے۔ ان وسائل میں دن رات پٹرولنگ اور مجرموں کا تعاقب ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یہیں سے کرپشن کاآغاز ہوتا ہے۔ جب اعلیٰ حکام پٹرول کا خرچہ پورا کرنے کے نام پر رشوت کو جائز قرار دیتے ہوئے اس کی اجازت دے دیتے ہیں۔ وہ پولیس جو پٹرولنگ کیلئے رشوت کی تلاش میں رہتی ہو ٗکیسے دہشت گردوں اور مجرموں کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ جبکہ وقت کی ضرورت اور حکومت کی توقعات پولیس کی استطاعت کار سے کہیں زیادہ ہیں، جس کیلئے سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میںTransparent Investigation پولیس کیلئے سنگین مسئلہ ہے۔ غیر معیاری اور غیر پیشہ ورانہ انداز میںکی گئی تفتیش مجرم کو فائدہ اور جرم کو بڑھاوا دیتی ہے۔ دہشتگردی اور اغواء برائے تاوان سمیت منظم جرائم کی تفتیش کرنا اس نحیف پولیس کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے، پیشہ ور اور باقاعدہ تربیت یافتہ Investigatorsکا فقدان پولیس کے انتظامی اور عملی مسائل اور مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ کئی تفتیشی دہشت گردوں اور جرائم کے منظم گروہوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس کے سد باب کیلئے ہمارے ملک میں کوئی قابل عمل قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جبکہ انگلینڈ سمیت کئی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں دہشتگردی اور سنگین جرائم کی تحقیقات کرنے کیلئے علیحدہOrganized Crime Units قائم کیے گئے ہیں۔ جس میںInvestigatorsکی شناخت کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں Investigatorsکو تفتیش کے دوران دہشتگرد تنظیموں یا سنگین جرائم کے منظم گروہوں کی جانب سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ ان کے بچوں کے قتل یا اغواء کی دھمکیوں کے اثر کے باعث تفتیش کا عمل متاثر ہوتا ہے اور Investigatorsجان بوجھ کر دہشتگرد تنظیموں کے خوف سے دہشتگردی سمیت سنگین الزامات میں ملوث ملزموں کیخلاف تحقیقات میں ایسی واضح جھول چھوڑ دیتے ہیں جس کا فائدہ انہیں عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے دوران ہوتا ہے اور وہ کمزور تفتیش کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ Intelligence collection sharing موجودہ حالات سے نمٹنے کیلئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے لیکن پولیس کیلئے یہ مسئلہ بھی سنگین صورت اختیار کر تا جارہا ہے کیونکہ خفیہ ادارے پولیس پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اور پولیس کے ساتھ بروقت خفیہ معلومات Shareنہیں کرتے۔ تاہم آخری مراحل میں یہ خفیہ معلومات مہیا کر دی جاتی ہیں جس کا فائدہ نہ پولیس کو ہوتا ہے اور نہ ہی نظام کو۔ اس پیچیدہ مسئلہ کے حل کیلئے اگرچہ حکومت نے کاغذی کارروائیاں تو بہت کی ہیںاور Intelegence collection sharingکا ایک نظام قائم کرنے کا اعادہ کیا ہے اورJoint Setupوضع کرنے کی بات کی ہے۔ لیکن پولیس کے متعلقہ حکام کو شکایت ہے کہ خفیہ ادارے اپنی معلومات پولیس کومہیا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں وہ نتائج حاصل کرنے میں دشواری ہوگی جو حکومت کا مطمح نظر ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں