آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
’’1750، آغاز ِ بہار کے دن تھے، جب مغربی افریقہ کے ملک گیمبیا کے ساحل سے چاردن کی مسافت پر واقع گائوں میں عمورو اور بنتاکنتے کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا‘‘ افریقیوں کی روایات بتاتی ہیں کہ ’’پہلا بچہ لڑکا ہو تو یہ نہ صرف والدین بلکہ پورے خاندان کے لئے عظیم برکتوں کا حامل ہوتا ہے اور یہ احساس بڑا مسحور کن تھا کہ اس سے کنتے کے نام کو افتخار اور دوام حاصل ہوگا..... عمورو ننھے کنتا کو اپنے مضبوط بازوئوں میں اٹھائے گائوں کی سرحد تک گیا، بچے کو آسمان کی طرف بلند کیا اور آہستگی سے کہا ’’دیکھو! تمہارے علاوہ دوسری واحد عظیم شے!‘‘
پھر اس بچے کا نام رکھنے کے لئے، پیدائش کے آٹھویں روز کی صبح تمام گائوں والے عمورو اور بنتا کے جھونپڑے کے سامنے اکٹھے ہوئے ..... جیسا کہ آٹھویں دن کا معمول تھا، سب سے پہلے بچے کے سر کے بال اتارے گئے۔ بنتا فخریہ انداز میں نومولود کو اٹھائے ہوئے تھی۔ دوسری تمام عورتوں نے بچے کی ساخت اور نین نقش کی تعریف کی، جب جلیبا (تقریب کا ایک شریک کردار) نے ڈھول بجانا شروع کیا تو تمام عورتیں خاموش ہوگئیں، پھر امام صاحب نے لسی کے برتنوں اور میٹھے لڈوئوں پر دعا مانگنا شروع کی۔ دوران دعا ہر عورت مرد نے برتن کو اپنے داہنے ہاتھ سے چھوا، جو رزق کے احترام کی علامت تھا۔ پھر امام دعا کے لئے بچے کی طرف پلٹا اور

اللہ سے لمبی عمر اور اس کے خاندان ، گائوں اور قبیلے کے لئے بہت سے بچوں نے دعا کی اور آخر میں ا س کے رکھے جانے والے نام میں برکت اور قوت کے لئے اللہ سے استدعا کی.... ڈھول پھر بجنا شروع ہوا۔ اب عمورو نے بنتا کے کان میں نام کی سرگوشی کی۔ بنتا خوشی او ر فخر سےمسکرائی، پھر عمورو نےاستاد کے کان میں بچے کا نام بتایا جو نام سنکر گائوں والوں کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ ’’عمورو اور بنتا کنتے کے پہلے بچے کا نام کنتا ہے۔‘‘ بریما سبیسے (استاد) نے اعلان کیا۔
دوصدیاں اور بیس برس تک کنتا کی روح اپنی نسل کے ایک وارث سے آگاہ نہیں تھی تاآنکہ اس وارث ’’ایلکس ہیلی‘‘ ، نے اپنے پرکھوں،اپنے آبائواجداد، اپنی دھرتی کے سوتوں، اس کے آسمانوں کے تلے جنم شدہ تاریخ کی وادیوں کے بارے میں علم کا عَلم لہرایا، ’’اساس‘‘ (Roots) کے نام سے ایک شہرہ ٔ آفاق ناول کا نام عالمی ادب کے ایوان میں وقار و شہرت کے ساتھ کندہ ہوا۔او ر یہ محض ایک سنسنی خیز ’’اتفاق‘ ‘ ہے جب تقریباً چار پانچ ہفتے قبل معروف اینکرپرسن سہیل وڑائچ نے اپنے پروگرام ’’میرے مطابق‘‘ میں اس ناول کا تعارف کراتے ہوئے ’’اپنوں کی تلاش‘‘ کے وژن کی نشاندہی کی۔ "Roots" تو پہلے ہی دل و دماغ میں اپنے اپنے ’’ڈی این ایز‘‘ کے ساتھ انسانی جڑت کی شاہکار کیفیتیں طاری کئے ہوئے تھا، سہیل وڑائچ کی نشاندہی نےاس میں طلب و سرشاری کے تقاضوں کا اضافہ کر دیا۔ ناول گوانگریزی میں ہے مگرمستند مترجم عمران الحق چوہان کے ترجمے نےاردو تنقید کے اس نقطہ نظر پر مہرتصدیق ثبت کردی جس کے تحت ’’ترجمہ تخلیق ہی کا دوسرا چہرہ ہے، ترجمہ دراصل تخلیق ہی ہے‘‘گو ماضی کے زمانوں میں پوشیدہ ، صدائے بازگشت کے ایسے اثرآفریں ناولوں کے تسلسل میں آبشاروں سی روانی اور جھرنوں جیسی مدھر آوازوں کا تال میل کسی سکتے یا اٹک کا باعث نہیں بننا چاہئے، تاہم پروف کی غلطیوں نے، گو آٹے میں نمک کے برابر، اس تال میل کی حسین پھنگ پر الجھن کا دبائو ضرور ڈال دیا ہے!
سو "Roots" (جڑوں) کی تلاش اس سیاہ فام ایلکس ہیلی کا اپنی ذاتی شناخت ’’ہم کون ہیں؟‘‘ کے سفردرسفر کی کہانی ہے۔ ایلکس کے لفظوں میں ’’میرے خدایا!
بارہ سال کی جستجو میں، میں نے کوئی آدھ ملین میل سفر کیا ہوگا۔ تلاش، چھان پھٹک، تصدیق، مزید تصدیق، مزید تلاش، ان لوگوں کے متعلق جن کی زبانی بیان کردہ تاریخ نہ صرف صحیح نکلی بلکہ سمندر کے دونوں کناروں سے جڑی ہوئی بھی تھی۔ آخر میں نے تلاش کا کام روک کر خود کو یہ کتاب لکھنے پر آمادہ کیا۔ کنتا کا لڑکپن اور نوجوانی لکھنے میں مجھے بہت وقت لگا۔ اس سے اچھی طرح مانوس ہوجانے پرمجھے اس کی گرفتاری کی اذیت سےگزرنا پڑا اور جب اس کی یا تمام غلام جہازوں کی بپتا لکھنے کاوقت آیا تو میں پھرافریقہ گیاتاکہ کسی ایسے کارگو جہاز پر سفرکی اجازت حاصل کرسکوں جوسیاہ افریقہ سےبراہ راست امریکہ جاتا ہو۔ وہ جہاز فیری لائنز کا افریقن سٹار تھا۔سفرشروع کرنے کے بعد میں نےانہیں اپنااصل مقصد بتایا کہ میں اپنے جدامجدکےسمندر پار جانے کی کہانی لکھنا چاہتا ہوں۔ ہر رات کھانے کے بعدآہنی سیڑھی کے ذریعے گہرے، بالکل اندھیرے اور ٹھنڈے گودام میں اترجاتا۔زیرجامہ کے علاوہ سارے کپڑے اتار کر کسی تختے پر چت لیٹ جاتا۔ پوری دس راتیں میں نے ایسا ہی کیا کہ کنتاکیا دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا، سونگھتا اور چکھتا ہوگا اور سب سے اہم یہ کہ وہ کیا سوچتا ہوگا؟‘‘
اور ایلکس ہیلی کو بتایاجاسکتا ہے ’’کنتا کیا دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا، سونگھتا اور چکھتا ہوگا‘‘یہ کہ ’’ہم افریقی مسلمان یورپ کی منڈیوں میں نیلام ہونےوالی اشیاءمیں سب سے زیادہ مطلوب شے تھے۔سفید فام لٹیرے افریقی حکمرانوں کے تعاون سے سیاہ فاموں کو اغواکرکے جہازوں میں بھرتے اورامریکہ و یورپ کی انسانی منڈیوں میں غلام بنا کر فروخت کیا کرتے تھے۔‘‘ یہیں سے اس قصے کی جڑیں شروع ہوتی ہیں جس نے ان افریقی مسلمانوں کے کنتا ہی نہیں اس خطے کے سیاہ فام باشندوں کی کھوج میں ایلکس ہیلی کے بارہ برس لگوادیئے۔ ایک ذہنی رو کے دوش پرعجیب کرب انگیز پیچیدہ سی ہنسی کا اچانک سامنا کرنا پڑ رہا ہے یعنی ’’سفید فام لٹیرے‘‘ہمیشہ، ہر لمحے، خوش نصیب ہی رہے۔ افریقی براعظم میں اپنے سیاہ فام مسلمان باشندوں کی ’’خرید‘‘کے لئے ان لٹیروں کو وہاں کے مسلم افریقی حکمران دستیاب تھے۔
1750 کی صبح کنتا نے دنیا میں آنکھ کھولی، پھر 220 برس بیت گئے۔ ان دو صدیوں اور بیس برسوں کے بعد، اس کی نسل کے ایلکس ہیلی نے آنکھ کھولی۔ وہ کون سا لمحہ تھا جب اس نے آنکھیں موندیں، خواب دیکھے، سوال ابھرے، ہم کون ہیں؟ ہماری دھرتی کیسی تھی؟ ہمارے آبائو اجداد کے ساز و آلات، لباس، تراش خراش، گیت اورماہئے، بزرگوں کی سیانپ، جوانوں اور جوانیوں کی الہڑپن، ہمارے جانور، ہماری بارشوں کےکالے سیاہ بادلوں کے گھٹاٹوپ اندھیرے، ان اندھیروں سے چمکتی دمکتی، کلکاریاں بھرتی زندگی کی جولانیاں۔ ایلکس ہیلی کسی طور اپنے اضطراب پر قابو نہ پاسکا اور دو سو بیس برس بعد، کنتا کے اس جانے کتنے ’’سوویں‘‘ وارث نے اپنے پرکھوں، اپنی زمین، اپنی فضائوں، اپنے اوپر تنے ہوئے آسمانوں سے دنیا کو آگاہ کرنےکاخود سے عہد باندھا، پوچھا جائے، آخر کیوں؟ درد کا کون سا پیمانہ ایلکس ہیلی کے قلب میں تیر بن کے پیوست ہوا۔ وہی پیمانہ، اپنی ذات کی تلاش، مجھے ایلکس ہیلی کا نام جنہوں نے دیا، وہ کون تھے؟ وہ کہاں تھے؟ پھر کدھر چلے گئے؟ ان کے ساتھ طاقتوروں نے کیا کیا اور ان کے کمزور کیسے قسطوں میں جیتے اور قسطوں میں مرتے رہے؟
چنانچہ وہ 1750کی دو صدیوں اور بیس برس بعد (1970میں) ساری عالمی برادری کو آگاہی دے رہا یعنی اس نے اپنی تلاش کا اعلامیہ جاری کردیا۔ کہتا ہے ’’ان دو سو بیس برسوں کے بعد آخر میں اپنی ساتوں نسلوں کو باہم جوڑنے میں کامیاب ہو گیا جو کتابی شکل "Roots" میں آپ کے ہاتھ میں ہے۔ دوران تحریر میں نے کئی بار (مختلف مواقع پر) سامعین کو ’’اساس‘‘ لکھنے کی وجہ بتائی ہے۔ پھر بھی کبھی نہ کبھی، کوئی نہ کوئی پوچھ ہی لیتا ہے ’’اساس کتنی حقیقت اور کتنا افسانہ ہے؟‘‘ میرے علم اور میری محنت کے مطابق خاندانی پس منظرکے حوالے سے ہر بات میرے افریقی یا امریکی خاندان میں محفوظ زبانی تاریخ سے لی گئی ہے۔ جس میں زیادہ دستاویز کی میں نے ترکی سے تصدیق کی ہے۔ رہن سہن، ثقافتی تاریخ اور وہ سب تفصیلات جو اساس کا گوشت پوست ہیں، میری پچاس لائبریریوں، آرکائیوز اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کانتیجہ ہیں جو تین براعظموں پرپھیلی ہوئی تھیں!‘‘
لکھا گیا ہے، ایک کسان کاقول جس نےکہا تھا ’’میں اس تمام زمین پر قابض ہونا چاہتا ہوں جس کے ڈانڈے میری زمین سے ملے ہوئے ہیں، بوناپارٹ نے جو اسی طرح کا ہوس پرست تھا، پورے بحیرہ ٔ روم کو ایک فرانسیسی جھیل بنانے کی ٹھانی تھی۔ زار سکندرتو اس سے بھی آگےنکل گیاتھا، وہ بحر اوقیانوس کو ’’میرا سمندر‘‘ کہنے پرتلا ہوا تھا۔‘‘ ..... لیکن خود شناختی کا ایسا داخلی احساس اقتدار و تغلب کی نفسانی آتش کا شعلہ جوالا تھا، ایلکس ہیلی کی خودشناختی کا سفر در سفر، انسان کے قدرتی حسب نسب کے حلال پن کی ناگزیریت سے متعلق ہے۔ دنیا میں جب شعور کی توانائی کا پہلا ذرہ انسانی دماغ کی زینت بنا، اس کی حرکت سے ایک ہی بات منسوب ہوئی، اپنے حسب نسب کے حلال کی نشاندہی کبھی نہ بھولنا، ’’اساس‘‘ "Roots" اس ذرے سے تعمیرکردہ پہاڑ جیسی تخلیق ہے!