آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ شوال المکرم 1440ھ 19؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اقوام متحدہ کے تقریباً 193 رکن ممالک کے فرائض میں دنیا کے شورش زدہ علاقوں میں امن قائم کرنا بھی شامل ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان باہمی اختلافات اور تنازعات کو ختم کرانے میں کردار ادا کرنے کے علاوہ اندرونی طور پر نسلی اور مذہبی جھگڑوں کا سدباب کرنا بھی اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ 1994/95 میں سابقہ یوگو سلاویہ اور روانڈا میں نسل کشی کو روکنے میں ناکامی کے بعد مختلف اصلاحات کی گئیں اور اکیسویں صدی کے آغاز میں مشرقی تیمور، بوسنیا، سوڈان اور دیگر افریقی ممالک میں نسلی اور مذہبی جھگڑوں کو ختم کرنے میں اس نے ناصرف بھرپور کردار ادا کیا بلکہ ان ممالک کی پولیس سروس، عدلیہ اور دیگر اداروں کو مضبوط کرنے کی بنیاد رکھی۔
عالمی سطح پر یہ بات تسلیم کی گئی کہ اقوام متحدہ کو اکیسویں صدی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں میں پاکستان آرمی اور پاکستانی پولیس کا واضح کردار ہے اور پاکستان آرمی اس وقت 10ہزار سے زائد تعداد کے ساتھ دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے پہلے نمبر کی فورس کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے امن مشن میں فرائض سرانجام دے رہی ہے جبکہ پاکستانی پولیس 2012ء میں کارکردگی کے اعتبار سے پہلے نمبر پر رہی۔
پاکستان کیلئے یہ فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل مشتاق احمد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عسکری مشیر کی

حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور امن مشن پر مامور وہ دنیا بھر کے ملٹری ٹروپس کے سربراہ ہیں جبکہ پاکستانی پولیس کا شمار دو سال قبل تک امن مشن کی بہترین فورسز میں ہوتا رہا۔
پاکستانی پولیس نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں نسلی اور مذہبی فسادات کے خاتمے اور امن قائم کرنے کے علاوہ شورش زدہ علاقوں میں مقامی پولیس کی تربیت اور پولیس اداروں کی اصلاح میں اہم کردار ادا کیا اور عالمی سطح پر داد حاصل کی لیکن موجودہ حکومت میں پولیس کی اقوام متحدہ کے امن مشن میں شمولیت کے حوالے سے حوصلہ شکنی کی گئی اور پاکستانی پولیس کی امن مشن میں تعداد کے حوالے سے گراف بتدریج گرتا چلا گیا اور اب یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وزارت داخلہ نے گزشتہ 2سالوں سے پولیس فورس کو اقوام متحدہ کے امن مشن میں بھیجنے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ وزارت داخلہ کا یہ مؤقف ہے کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور پولیس افسروں کو امن مشن پر بھیجنا ممکن نہیں کیونکہ پاکستان خود امن قائم کرنے کیلئے کوششیں کررہا ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے متعلقہ شعبہ کا خیال ہے کہ پاکستان سے بلائے جانے والے پولیس اہلکاروں کی کل تعداد صرف 500 کے قریب ہے۔ جن میں 400 پولیس اہلکار اے ایس آئی سے ڈی ایس پی کے درمیان کے عہدوں کے ہیں اور تقریباً 20 سے 30 کے درمیان پولیس سروس آف پاکستان کے ایس پی سے ڈی آئی جی کے عہدوں کے آفیسرز ہیں۔ ان میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی پولیس کے آفیسرز شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں جانے والے پولیس آفیسرز تین سال کیلئے جاتے ہیں اور یہ مدت قابل توسیع ہوتی ہے۔امن مشن پر اقوام متحدہ جانے والے پولیس افسروں کیلئے ایک مثبت پہلو یہ ہوتا ہے کہ ان کی معاشی حالت بہتر ہونے کے علاوہ وہ بہتر جسمانی، ذہنی اور پیشہ ورانہ تربیت جدید ترین عالمی تقاضوں کے مطابق حاصل کرتے تھے اور تفتیش کے بہتر طریقے سیکھتے اور واپس آکر ان کی کارکردگی میں بہتری دکھائی دیتی بلکہ مشاہدے میں آیا ہے کہ وہ ایمانداری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ امن مشن پر جانے والے پولیس افسروں کی تعداد میں تناسب کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی پولیس کی کل تعداد 4 لاکھ کے قریب ہے جس میں سے صرف 500 امن مشن پر جاتے ہیں جو کل تعداد کا تقریباً 0.12 بنتا ہے، اتنی بڑی تعداد میں امن مشن پر جانے والوں کا تناسب صفر سے کچھ زیادہ فیصد ہے۔اس موقع پر جب ہمارا ملک حالت جنگ میں ہے، وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کی جانے والی منطق قابل بحث ہوسکتی ہے لیکن قابل قبول ہرگز نہیں کیونکہ اس فیصلے سے پاکستان کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ کئی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جس کے دوررس نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ پہلا اور اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے امن مشن پر پولیس کے دستے بھیجنے سے انکار پر پاکستان کے حصے میں آنے والی پوسٹیں انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک میں تقسیم ہورہی ہیں اور پاکستان کی نمائندگی کا تناسب بتدریج کم ہو رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ ضابطے کے مطابق پاکستان امن مشن میں شامل ہونے اور اپنی پولیس فورس بھیجنے کا پابند ہے، اس کے علاوہ اس سلسلے میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سے کئی مراسلے جاری ہو چکے ہیں جن میں پاکستان کی حکومت پر پولیس کے دستے بھیجنے پر زور دیا گیا ہے۔ادھر ماہرین کا خیال ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی وزارت داخلہ کا صوبائی اور جغرافیائی پولیس پر براہ راست عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے لیکن وزارت داخلہ بدستور صوبائی اور جغرافیائی پولیس کے معاملات میں مداخلت کررہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ وزارت داخلہ اقوام متحدہ کیلئے Focal Point ہے اس لئے امن مشن میں تمام صوبوں، وفاقی اور جغرافیائی پولیس کی پوسٹوں کے حوالے سے خط وکتابت وزارت داخلہ کے متعلقہ شعبے کے ساتھ کی جاتی ہے لیکن متعلقہ سیکشن آفیسر صوبائی، وفاقی اور جغرافیائی پولیس کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے بجائے مراسلے داخل دفتر کردیتا ہے جو اس کی صوابدید نہیں ہے۔ اس مرحلے پر وزیر داخلہ کو قومی مفادات کے پیش نظر معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ پاکستان کی پوسٹیں بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا کو تقسیم کی جاتی رہیں گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں