آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
17اگست1988کی سہ پہر بستی شاہ کمال بہاولپور میں صدر جنرل ضیاء الحق کی (جنرل اختر عبدالرحمن سمیت بعض سینئر فوجی رفقا کے ساتھ )شہادت نے سارا سیاسی منظر بدل دیا تھا۔ فروری 1985کے انتخابات کے بعد دسمبر میں جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاء اُٹھا لیا تھا۔ 8ویں ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ اور حکومتوں کی برطرفی اور ملٹری چیفس اور صوبائی گورنروں کے تقررکے صدارتی اختیارات کے سوا، امورِ مملکت چلانے کے جملہ اختیارات وزیراعظم کے پاس تھے۔ ضیاءالحق کی ’’درخواست‘‘ پر پیر صاحب پگارا نے مسلم لیگ کی صدارت بھی مریدِ سادہ کو سونپ دی تھی اور جونیجو صاحب چیف ایگزیکٹو کے طور پر behave کرنے لگے تھے۔
ڈھائی تین سال کی (خودساختہ) جلاوطنی کے بعد بے نظیر بھٹو صاحبہ 10اپریل 86 کو وطن واپس آگئیں۔ لاہور میں اِن کا استقبال فقیدالمثال تھا۔ پھر گرد بیٹھنے لگی۔ برسرِ اقتدار مسلم لیگ ایک مؤثر سیاسی طاقت کے طور پر مستحکم ہورہی تھی۔ ’’خزاں میں انتخابات‘‘ کے لئے مہم کی ناکامی کے بعد، بے نظیر صاحبہ 1990 میں انتخابات کے انعقاد کو ذہنی طور پر قبول کر چکی تھیں۔ ادھر پریذیڈنٹ ہاؤس اور پرائم منسٹر ہاؤس میں کشمکش بڑھ رہی تھی۔ افغانستان کے حوالے سے معاہدۂ جنیوا پر اختلافات نے صدر اور وزیراعظم کے مابین خلیج کو وسیع تر کردیاتھا۔ اوجڑی کیمپ کی تحقیقات

اور جرنیلوں کے خلاف دفاع کے وزیرمملکت رانا نعیم جیسے HAWKS کی غیر محتاط گفتگو جلتی پر تیل کا کام دے رہی تھی۔ یہاں تک کہ صدر کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور اُنہوں نے 28مئی 1988 کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں (اور اسمبلیوں ) کو رُخصت کردیا۔ یہ پیپلزپارٹی کے لئے نعمت غیر مترقبہ تھا۔
صدر ضیاءالحق نے پیپلز پارٹی کے متبادل بڑی محنت سے تیار ہونے والا سیاسی انتظام خود ہی مسمار کردیا تھا۔ رہی سہی کسر مسلم لیگ میں نئی دھڑے بندی نے پوری کردی۔ 16نومبر کو نئے انتخابات کی تاریخ خود صدر ضیاءالحق دے چکے تھے ، البتہ اِن کے جماعتی یا غیر جماعتی ہونے کا فیصلہ ابھی معلق تھا کہ 17اگست کا حادثہ ہوگیا۔ جنرل اسلم بیگ وائس آف آرمی چیف سے آرمی چیف ہوگئے۔ 17اگست کی شام اِن کی زیر صدارت عسکری قیادت نے ملک میں آئینی نظام کو جاری رکھنے اور ضیاءالحق کی اعلان کردہ تاریخ کے مطابق انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خاں اب آئینی طور پر صدرِ مملکت تھے لیکن وہ اپنی رہائش پر دم سادھے ، عسکری قیادت کے فیصلے کے منتظر تھے جس کے بعد اُنہوں نے صدرِ مملکت کا منصب سنبھال لیا۔
اینٹی پیپلزپارٹی سیاسی عناصر کے سوا، اسٹیبلشمنٹ بھی اندیشوں سے دوچار تھی۔ پیپلزپارٹی برسرِ اقتدار آگئی تو اس کا رویہ کیا ہوگا؟ تب اِسے کٹ ٹو سائز کرنے کا فیصلہ ہوا۔ تجزیہ یہ طے تھا کہ پیپلزپارٹی کو اصل فائدہ اس کے سیاسی مخالفین کے انتشار سے پہنچتا ہے۔ 1970 کے انتخابات میں بھی پیپلزپارٹی کے ووٹ 38% تھے لیکن اس کے مخالف 62% ووٹ تقسیم ہوگئے۔ چنانچہ اب حکمتِ عملی پیپلزپارٹی کے مخالف ووٹوں کو یکجا کرنے کی تھی۔یہ ٹاسک جنرل حمید گل کے سپرد ہوا، جسے اُنہوں نے ’’خوش اسلوبی‘‘ سے انجام دیا اور 9جماعتیں آئی جے آئی کے پلیٹ فارم پر جمع ہوگئیں۔ مولانا نورانی اور ایئر مارشل اصغر خاں اس اتحاد میں شامل نہیں تھے۔ ان کے بغیربھی ملک میں 1977 والی سیاسی صف بندی ہوگئی تھی۔ پیپلزپارٹی کے سہ رنگے جھنڈے کے مقابل ، وہی سبز رنگ کا پرچم اور اس پر اُسی طرح نو ستارے.....آئی جے آئی کی قیادت نوازشریف کے نہیں، جناب غلام مصطفی جتوئی کے سپردہوئی تھی۔ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کا اپنا فلسفہ تھا۔ 5جولائی 1977 کو پرائم منسٹر ہاؤس سے بے دخل کئے جانے اور 4اپریل 1979 کو پھانسی پانے والے ذوالفقار علی بھٹو سندھی تھے، پیپلزپارٹی کا ’’سندھ کارڈ‘‘ غیر مؤثر بنانے کے لئے ضروری تھا کہ متبادل قیادت سندھ ہی سے لائی جائے۔ چنانچہ 1985کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد، جونیجو صاحب کی صورت میں سندھی وزیراعظم لایا گیا۔ جتوئی صاحب کے لئے ، اسٹیبلشمنٹ کے ہاں نرم گوشہ ہمیشہ موجود رہا تھا۔ جونیجو صاحب کی برطرفی کے بعد، ضیاءالحق کچھ عرصہ وزیراعظم کے بغیر نگران کابینہ سے کام چلاتے رہے، آئینی ماہرین نے انہیں آئینی تقاضے کا احساس دلایا تو نگران وزیراعظم کے لئے اِن کا انتخاب جتوئی صاحب ہی تھے۔ وہ اسلام آباد آگئے تھے۔ کہا جاتا ہے، 17اگست کا سانحہ نہ ہوتا تو ایک دو روز بعد وہ نگران وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھانے والے تھے۔
نئے سیٹ اپ کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی چوائس جتوئی صاحب ہی تھے۔ آئی جے آئی کی سربراہی اسی لئے ان کے سپرد ہوئی۔
3نومبر کو ایک جلسے میں انہیں یہ دعویٰ کرنے میں کوئی عار نہ تھی کہ وہ دن دور نہیں جب وہ ملک کے آئندہ وزیراعظم ہوں گے۔ جونیجو صاحب بھی خود کو سندھ سے وزارتِ عظمیٰ کا مضبوط اُمیدوار سمجھتے تھے، چنانچہ وہ جتوئی صاحب کے اس دعوے پر اظہارِ ناپسندیدگی کئے بغیر نہ رہے۔ لیکن سندھ میں ان دونوں کو، خود اپنے اپنے حلقوں کی پڑی ہوئی تھی۔ انتخابی مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کا کہنا تھا،’’ محمد خاں جونیجو اپنے حلقے میں محدود ہیں، جتوئی بھی ملکی سطح پر ابھی دورے شروع نہیں کرسکے چنانچہ اتحاد کی انتخابی مہم میں نوازشریف ایک مضبوط شخصیت کے طور پر اُبھر رہے ہیں‘‘۔ اتحاد کے سیکرٹری جنرل پروفیسر غفوراحمد نے اپنی کتاب’’وزیراعظم بے نظیر بھٹو نامزدگی سے برطرفی تک‘‘ میں لکھا: نوازشریف کے پاس اسلامی اتحادکا کوئی مرکزی عہدہ نہیں تھا لیکن انتخابی مہم میں انہیں مرکزی کردار کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اخباری اشتہارات اور جلسوں میں یہی نعرہ گونج رہا تھاـ:’’پشاور تا چترال ۔ ایک ہی اعلان۔ نوازشریف ہمارا ترجمان‘‘(ص 104)
سندھ میں پیپلز پارٹی کے حق میں طوفان اتنا زوردار تھا کہ پیر صاحب پگارا ، محمد خاں جونیجو ، غلام مصطفی جتوئی ، اِلٰہی بخش سومرواور غوث علی شاہ سمیت آئی جے آئی کے تمام اُمیدوار ہارگئے۔ جناب جونیجو ، جتوئی صاحب اور غوث علی شاہ کو پنجاب کے ضمنی انتخابات میں جتوا کر قومی اسمبلی میں پہنچایا گیا۔ نوازشریف نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر، پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سنبھالی(یہ ان کی دوسری ٹرم تھی)۔ بے نظیر صاحبہ کو لیشن بنا کر وزیراعظم بنیں، توقائدِ حزبِ اختلاف کا منصب قومی اسمبلی میں دوسری اکثریتی جماعت کی حیثیت سے مسلم لیگ کے غلام حیدر وائیں نے سنبھالا۔ جتوئی صاحب قومی اسمبلی کے ممبر بنے، تو وائیں کی جگہ انہیں قائدِ حزبِ اختلاف بنادیا گیا۔ لیکن اسمبلی سے باہر قائد حزب اختلاف کا اصل کردار نوازشریف ادا کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے علاوہ اب آئی جے آئی کے سربراہ کے طور پر بھی وہ محترمہ کو ٹف ٹائم دے رہے تھے۔ 6اگست 1990 میں محترمہ کی برطرفی کے بعد نگران وزارتِ عظمیٰ کا منصب بابائے اسٹیبلشمنٹ نے جتوئی صاحب کو سونپا۔ یہ عام انتخابات کے بعداُن کے مستقل وزیراعظم بننے کا اشارہ تھا لیکن ملک گیر انتخابی مہم کی قیادت نوازشریف کر رہے تھے۔آئی جے آئی نے الیکشن جیت لیا تو وزارتِ عظمیٰ کے لئے ’’فیصلہ سازوں‘‘ کی چوائس جتوئی صاحب ہی تھے لیکن الیکشن کا مینڈیٹ نوازشریف کے لئے تھا چنانچہ عوام کا فیصلہ غالب رہا۔ حق بحقداررسید۔ اور نوازشریف وزیراعظم بن گئے۔
یادوں کے اس ہجوم میں ایک اور یاد، بے نظیر صاحبہ نے دسمبر 92میں نوازشریف حکومت کے خلاف ٹرین مارچ کیا، تو جتوئی صاحب ان کے ہمسفر تھے۔ لاہور میں قیام کے دوران خورشید قصوری صاحب نے اِن کے لئے عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔ وہاں صوفے پر جناب جتوئی بھی محترمہ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ اخبار نویسوں سے گفتگو میں محترمہ کا کہنا تھا کہ ان کی یہ مہم الیکشن میں دھاندلیوں کے خلاف ہے۔ اس پر حاضر جواب اشرف ممتاز کا کہنا تھا، اس صورت میں تو آپ کو یہ مہم جتوئی صاحب کے خلاف چلانی چاہیے جن کی نگران حکومت نے یہ انتخابات کرائے تھے۔ تب قصوری صاحب مدد کو آئے، ’’حضرات! تشریف لایئے، کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے۔‘‘

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں