آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وزیر اعظم پاکستان۔پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال میں وزیراعظم پاکستان کو بہت سے اہم فیصلے کرنے ہیں۔ پاکستان بہت سے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی امید کی کرنیں ہر آنے والے دن کی روشنی میں اضافہ کرتی جارہی ہیں۔پاک چین راہداری ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔جب چینی صدرپاکستان آئے اور اس منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز کیا گیا اسی وقت سے ہماری سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اندازہ تھا کہ اسے روکنے کے لئے اندرونی اور بیرونی دبائو ڈالا جائے گا، اور پاکستان میں ہر طرح سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔سول اور فوجی قیادت پر ہمارے دشمن ہر طرح کا دبائو ڈالنے کی کوشش کریں گے جس کا اب آغاز بھی ہوچکا ہے۔پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے ڈومور کے لئے کہاجارہا ہے جبکہ پاکستان نے پہلے ہی ضرب عضب میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں،نہ صرف دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی بلکہ ان کے سہولت کاروں کا بھی خاتمہ ہونے والا ہے۔بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان پر دبائو بڑھارہا ہے،اس طرح بھارت جسے پاک چین راہداری کا منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھارہا اس نے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے سے روکنے کے لئے مشرقی بارڈر پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ

شروع کر رکھا ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیںکہ بھارت گلگت ،بلتستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی منصوبہ بندی کررہا ہے،بھارت ہر وہ اقدام اٹھائے گا جس سے پاک چین راہداری منصوبے کو روک سکے۔وزیراعظم اس تمام صورت حال سے بخوبی واقف ہیں اور انہیں اس سلسلے میں ایسے درست اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف ریاست مضبوط ہو بلکہ یہ منصوبہ بھی پایہء تکمیل تک پہنچے۔مجھے یاد ہے جب1998 میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے اس وقت مسلم لیگ ن کی دو تہائی اکثریت تھی اور بظاہر ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن ان دھماکوں کی پاداش میں میاں نواز شریف کو نہ صرف ان کے عہدے سے ہٹایا گیا بلکہ ان کی حکومت بھی برطرف کردی گئی کچھ عرصے جیل میں رکھنے کے بعد جلا وطن کردیا گیا،شاید میاں نوازشریف کو دھماکے کرتے وقت یہ اندازہ ہوگا کہ ان کی حکومت گرائی جاسکتی ہے اور اس کی سزا بھی مل سکتی ہے لیکن میاں نواز شریف نے تب بھی عوامی فیصلہ کیا۔آج پھر وہ وزیراعظم ہیں اور اب بھی اسی قسم کے حالات پیدا ہورہے ہیں کیونکہ پاکستان ایٹمی دھماکوں کے بعد معاشی دھماکوں کی پوزیشن میں ہے،ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان اس بار بھی عوام اور ملک کے مفاد میں فیصلہ کریں گے اور اپنی کرسی کو بچانے کی بجائے ہر عملی اقدام اٹھائیں گے کیونکہ چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ ہمارے اس عظیم منصوبے کے دشمن اپنے آلہ کاروں کے ذریعے پاکستان میں اپنی کارروائیاں شروع کرچکے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ اس طرح کے لوگ ہر شعبہ ہائے زندگی میں موجود ہیں اور وہ حکومت کو ہر طرح سے کاری ضرب لگانے کی کوشش کریں گے ۔پاکستان میں ایک بار پھر سیاسی بحران اور انتشار کی باتیں ہورہی ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے شاید حکومت نئے سال کا سورج نہ دیکھ سکے۔یہ افواہیں بھی گردش کررہی ہیں ایم کیو ایم،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اسمبلیوں سے باہر آجائیںگی اور ایسا سیاسی بحران پیدا کردیا جائے گا کہالیکشن ناگزیر ہوجائیں گے،میری اطلاعات کے مطابق اس صورت حال کا نہ صرف وزیر اعظم بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ادراک ہے اور اس سلسلے میں اقدامات بھی کئے جارہے ہیں،جو لوگ یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ سول اور ملٹری تعلقات کشیدہ ہیں وہ بالکل غلط ہیں کیونکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ،پاکستان میں اس وقت سول اور ملٹری تعلقات مثالی ہیں،خاص طور پر پاک چین راہداری منصوبے پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں مکمل ہم آہنگی ہے۔آپریشن ضرب عضب ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کے حوالے سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ آپریشن اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار اداکرے گا۔آخر میں توقع کروں گا کہ وزیر اعظم پاکستان اس عظیم منصوبے کی تکمیل کے لئے اپنی کرسی کی پروا کئے بغیر ثابت قدم رہیں گے۔
کپتان۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی حب الوطنی پر کسی کوشک نہیں ہونا چاہئے،وہ ایک سچے اور کھرے پاکستانی ہیں،انہوں نے سیاست میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جو پہلے اس طرف آنا پسند نہیں کرتے تھے،عمران خان ایک سیاسی حقیقت ہیں جسے سب تسلیم کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے انہیں بھی کرلینا چاہئے۔پاکستان میں حقیقی اپوزیشن کا کردار بھی پی ٹی آئی اداکررہی ہے۔میری کپتان سے درخواست ہے کہ کوئی ایساقدم نہ اٹھائیں جس سے پاک چین راہداری منصوبے کو نقصان پہنچ سکے۔اگر انہیں الیکشن2013 کے حوالے سے تحفظات ہیں تو اس بارے میںاپنی آواز ضرور بلند کریں مگر ایسے لوگوں کے مشورے پر عمل نہ کریں جو ملک میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہمارا دشمن بھی یہی چاہتا ہے کہ کسی طرح یہ منصوبہ مکمل نہ ہو،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اگر سمجھتے ہیں ان کے ساتھ الیکشن میں کوئی زیادتی ہوئی اور ان کا حق چھینا گیا تو پھر بھی ان باتوں کو بھول کر اس منصوبے کی خاطر حکومت کی مدد کرنی چاہئے ۔بلاول بھٹو زرداری۔بلاول بھٹو زرداری اس شخص کا نواسہ ہے جس نے اعلان کیا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے،اس عظیم ماں کا بیٹا ہے جس نے میزائل ٹیکنالوجی کے لئے ہر قسم کے دبائو کا سامنا کیا لیکن ملک پر آنچ نہ آنے دی۔بلاول بھٹو کی پاکستان سے وابستگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اب ان کا سیاسی امتحان بھی ہے کہ وہ کس طرح کی سیاست کرتے ہیں کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی شدید بحرانوں کا شکار ہے جس کے ذمہ دار ان کی سابقہ وفاقی اور موجودہ سندھ حکومت ہے ،میرے خیال میں بلاول کو اپنے والد کی پالیسی سے ہٹ کر سیاست کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں اپنے نانااور والدہ کی طرح پاور پالیٹکس کی بجائے عوامی سیاست کرنی چاہئے تاکہ پی پی پی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکے لیکن اس کے لئے ضرور ی ہے کہ اپنی جماعت سے کرپٹ اور گندی مچھلیوں کو باہر نکالنے کا فیصلہ کریں۔ اس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ عوام میں ان کی جڑیں مضبوط ہوں گی،بلاول بھٹوزرداری اور پی پی پی کی اہم قیادت سے درخواست ہے وہ بھی کوئی ایسا فیصلہ نہ کریں جس سے پاک چین راہداری منصوبے کو نقصان پہنچے۔عوام۔آخر میں میری ہر پاکستانی سے اپیل ہے کہ وہ ایسے سیاستدانوں اور سوسائٹی کے لوگوں پر نظر رکھیں جو اس منصوبے کے راستے میں روڑے اٹکانے کی سازش کررہے ہیں۔یہ منصوبہ کسی سرمایہ کار یا جاگیردار کے لئے نہیں ہے بلکہ پاکستانی عوام کے لئے ہے اس لئے اسکی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ پاک چین راہداری منصوبہ پاکستان کی شہ رگ بننے جارہا ہے۔