بھلا میں وضاحتوں کے چکر میں کیوں پڑا رہتا ہوں؟ اول تو اس لئے کہ یہ بابائے قوم کے احترام کا تقاضا ہے کہ اگر کوئی ان کے بارے میں یا ان کے حوالے سے غلط بات کرے یا بے بنیاد بات لکھے تو اس کی تصحیح اور وضاحت کی جائے۔ تاریخ کو مسخ ہونے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ تحقیق کے تقاضے پورے کئے جائیں اور سنی سنائی اڑانے کی بجائے شواہد کی بنیاد پر بات کی جائے۔ دوم میرا اس حوالے سے تجربہ سبق آموز ہے۔ وہ یہ کہ آج جو کچھ چھپ رہا ہے وہ دہائیوں اور برسوں بعد محققین اور مورخین کے لئے حوالے کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اور اس طرح نہ صرف غلط بیانی تاریخ بن جاتی ہے بلکہ بعض اوقات کسی تاریخی شخصیت کا حلیہ بھی بگڑ جاتا ہے۔
قائد اعظم کے یوم وفات پر اخباری مضامین اور کالم پڑھ کر میں سوچتا رہا کہ بعض بے بنیاد اور غلط باتیں اس طرح تواتر سے دہرائی گئی ہیں کہ وہ غلط العام بن کر سچائی کا روپ دھار چکی ہیں۔ ہمارے لکھاری تحقیق کی زحمت کرنے کی بجائے سنسی خیز بیانات اور سنی سنائی حکایات پر یقین کرکے انہیں اپنی تحریروں میں سجا لیتے ہیں اور پھر’’چل سو چل‘‘ کہ ہر کوئی اسی لکیر کا فقیر بن جاتا ہے۔ جھوٹ کے اس شراب خانے میں سچائی کے طوطی کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ قائد اعظم کی وفات کو 67برس گزرے،اگر آج ہماری آنکھوں کے سامنے ان کے بارے میں شوشے چھوڑ کر تاریخ کے باطن میں جھوٹ کا مواد داخل کردیا گیا ہے تو ایک صدی بعد کیا ہوگا؟ آج عینی شاہدین کے بیانات، مشاہدات اور یادیں دستیاب ہیں اس کے باوجود ہم انہیں پڑھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے تو مستقبل میں کیا ہوگا؟ دانشور کہتے ہیں تاریخ کو مسخ کردیا گیا ہے پھر وہ ہندوستان کی صدیوں پرانی تاریخ، فاتحین اور آٹھ صدیوں پر محیط مسلمانوں کے دور حکومت سے مثالیں دیتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ اس دور میں تاریخ نویسی کوئی پختہ ادارہ نہیںتھا۔ ہندوئوں نے تاریخ اپنے نقطہ نظر سے لکھی، شاہی اور درباری لکھاریوں نے اپنی مرضی سے لکھی اور مسلمان لکھاریوں نے اپنے انداز سے لکھی۔ ان میں واضح تضادات ہیں، چنانچہ ہمارے وہ مورخین جو ہندو ذرائع پر بھروسہ کرتے ہیں مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں جبکہ مسلمان ذرائع پر اعتماد کرنے والے مخالفین کو متعصب سمجھتے ہیں۔ اس طرح تاریخ کے مسخ ہونے کا نوحہ جاری ہے۔
بدقسمتی سے قائد اعظم کی زندگی کے آخری چند ماہ کے بارے میں بہت سی غلط باتیں مشہور کردی گئی ہیں۔ اے کاش! کوئی ان افواہوں اور غلط بیانیوں کے سمندر کے سامنے بند باندھے۔ ایک بات تو یہ مشہور کردی گئی ہے کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان ملاقات طے کئے بغیر اچانک زیارت میں آن دھمکے جہاں قائداعظم بستر مرگ پر پڑے تھے۔ اس کہانی میں رنگ بھرنے کے لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم کو شدید علالت میں دیکھ کر ان کے چہرے پر ذرا بھی ملال کے آثار نہیں تھے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ لیاقت علی خان اور قائد اعظم کے تعلقات کشیدہ تھے۔ اس جھوٹ کو اس قدر دہرایا گیا کہ خدا کی پناہ اور وہ یہ کہ جب قائد اعظم اپنی زندگی کے آخری دن کراچی پہنچے تو لیاقت علی خان ائر پورٹ پر نہیں آئے۔ کچھ ظالم لکھاری بار بار جھوٹ بولتے ہیں کہ قائد اعظم کو قتل کیا گیا اور قتل ان معنوں میں کہ جان بوجھ کر کھٹارہ ایمبولینس بھیجی گئی جو خراب ہوگئی۔ یہ حضرات اتنا بھی نہیں سوچتے کہ قائد اعظم کی نازک حالت اور اکھڑتے سانس دیکھ کر کرنل الٰہی بخش نے انہیں گیارہ ستمبر کو کراچی شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ، جو شخص زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا اسے مارنے کے لئے کسی سازش کی کیا ضرورت تھی؟ اور وہ شخص بھی کوئی معمولی شہری نہیں تھا بلکہ بابائے قوم اور تاریخ ساز شخص تھا جو قوم کے دل کی دھڑکن بن چکا تھا۔
مرحوم بریگیڈیئر نورحسین اس وقت کیپٹن نورحسین تھے وہ خوش قسمت ہیں کہ قائد اعظم کے اے ڈی سی رہے اور اس حیثیت کے سبب تاریخ کا حصہ بن گئے۔ زیارت کے قیام کے دوران وہ دن رات قائد اعظم کے ساتھ رہے اور ایک ایک لمحے کے عینی شاہد ہیں۔ اس حوالے سے میری ان سے تفصیلی گفتگو کئی بار ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ گورنر جنرل کے انگریز ملٹری سیکرٹری کرنل نولز کراچی میں تھے مجھے ان کا پیغام آیا کہ وزیر اعظم اور سیکرٹری جنرل چودھری محمد علی قائد اعظم کی مزاج پرسی اور عیادت کے لئے زیارت آنا چاہتے ہیں، چنانچہ بطور اے ڈی سی میں نے اس کی اجازت قائد اعظم سے لی اور ملاقات طے کی۔ قائد اعظم نے اس ملاقات میں اس قدر دلچسپی لی کہ بیماری کے باوجود وزیر اعظم کے استقبال کے بارے میں استفسار کیا اور کھانے کے لئے مینو(MENU)منگوا کر منظور کیا۔ وزیر اعظم کو میں قائد اعظم کے کمرے میں لے کر گیا۔ نقاہت اور بیماری کے باوجود قائد اعظم نے لیٹے لیٹے ہاتھ اٹھا کر اور مسکرا کر مہمان کا ا ستقبال کیا۔ وزیر اعظم جب قائد اعظم سے مل کر آئے تو سیدھا اے ڈی سی کے کمرے میں آئے۔ وہ نہایت پریشان دکھائی دے رہے تھے ا ور انہوں نے قائداعظم کی علالت کے بارے میں کرنل الٰہی بخش سے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بیرون ملک برائے علاج لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اگر باہر جانا ممکن نہیں تو بیرون ملک سے کسی ماہر ڈاکٹر کو بلایا جائے لیکن مادر ملت نے کہا کہ قائد اعظم نہیں مانتے، نہ ہی وہ ملکی خزانے پر بوجھ ڈالنا چاہتے تھے۔ کرنل الٰہی بخش نے اپنی کتاب میں ان تمام حقائق کی تصدیق کی ہے۔ جناب منیر احمد منیر نے اپنی کتاب دی گریٹ لیڈر میں بریگیڈیئر نور حسین کا انٹرویو شامل کیا ہے جس میں ا نہوں نے وہی باتیں دہرائی ہیں جو مجھے بتائی تھیں البتہ میں نے ان سے کچھ مزید واقعات بھی سنے۔
قتل کی سازش اور تھیوری کے تانے بانے بننے والوں نے قائد اعظم کی زندگی کے آخری دن کے حوالے سے ایک جھوٹ اس قدر تسلسل سے بولا اور لکھا ہے کہ ہزار بار اس جھوٹ کا دامن چاک کرنے کے باوجود اس کا تاثر زائل نہیں ہوسکا۔ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان قائد اعظم کے استقبال کے لئے ائر پورٹ نہ آئے اور ایسی کھٹارہ ایمبولینس بھیجی گئی جو راستے میں ہی خراب ہوگئی۔ کچھ لکھاری اس غزل کا مقطع یوں لکھتے ہیں کہ قائد اعظم ایمبو لینس میں ہی وفات فرما گئے تھے۔ مبالغہ آرائی کے شہنشاہوں کے دونوں انکشافات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ اس سانحے کو سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کرنل الٰہی بخش نے دس ستمبر1948کو قائد اعظم کے ایکسرے دیکھنے اور معائنہ کے بعد فوراً کراچی جانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ وہ بالکل مایوس ہوچکے تھے۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے بار بار حکم دیا تھا کہ گورنر جنرل کی کراچی میں آمد کو پرائیویٹ رکھا جائے ۔ پرائیویٹ وزٹ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملٹری سیکرٹری یا ذاتی سٹاف کے علاوہ کوئی اور ائر پورٹ پر نہ آئے، چنانچہ قانون قاعدے کے پابند انگریز ملٹری سیکرٹری نولز نے قائد اعظم کی آمد کی اطلاع نہ وزیر اعظم کو دی اور نہ ہی کابینہ یا انتظامیہ کو۔ اس حقیقت کی تصدیق بہت سے ذرائع سے ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم کابینہ کی میٹنگ میں مصروف تھے جب انہیں قائد اعظم کی آمد کی اطلاع کسی طرح ملی اور وہ میٹنگ چھوڑ کر فوراً ائر پورٹ پہنچے، جب ان کی گاڑی ائر پورٹ پہنچی تو قائد اعظم کی ایمبولینس نکل رہی تھی۔ وہ بھی قافلے میں شامل ہوگئے اور جب ایمبولینس خراب ہوئی تو نئی ایمبولینس کے آنے تک لیاقت علی خان قائد اعظم کے پاس ہی موجود رہے ،چنانچہ یہ سراسر بہتان اور گمراہ کن پراپیگنڈہ ہے کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان قائد اعظم کے استقبال کے لئے ہوائی اڈے پر نہ پہنچے۔
اس اتفاق کو بدنیتی کا رنگ دینے کے لئے ہمارے دانشور لکھتے رہتے ہیں کہ جان بوجھ کر کھٹارہ قسم کی ایمبولینس بھجوائی گئی ۔ یہی تاریخ کا جبر ہے کہ بعض اوقات کوئی اتفاق سچائی پر پردہ ڈال دیتا ہے اور تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے۔یہ الزام دینے و الے بھول جاتے ہیں کہ1948کے کراچی میں فقط چار پانچ ایمبولینس تھیں۔ قائد اعظم کے ذاتی معالج کرنل رحمن کراچی میں تھے۔ وہ عام لوگوں کا علاج معالجہ بھی کرتے تھے اس لئے قائد اعظم انہیں کراچی میں ہی چھوڑ گئے تھے۔ بریگیڈئر نور حسین بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے اپنی آمد کی اطلاع ملٹری سیکرٹری کو دی تو اس نے ایمبولینس کا انتظام کرنے کے لئے کرنل رحمن سے رابطہ کیا۔ کرنل رحمن نے کراچی کی تمام ایمبولینسز کا معائنہ کیا اور ان میں جو سب سے اچھی تھی اسے ا ئر پورٹ پر بھیجا۔ ان حقائق کو مجھے بتانے کے علاوہ خود بریگیڈئر نور حسین نے ایک مضمون کی شکل میں بھی لکھا جو’’دی نیوز‘‘ میں23مارچ1995کو چھپا۔ اس مضمون کو محفوظ کرنے کے لئے میں نے اسے اپنی کتاب’’اقبال جناح اور پاکستان‘‘ میں بطور ضمیمے شامل کیا ہے۔ بریگیڈئر صاحب جب تک زندہ رہے وہ منظم جھوٹ کا پردہ چاک کرتے رہے لیکن افسوس کہ ان افسانوں کو بار بار دہرا کر تاریخ بنایا جارہا ہے۔ دوستو! تحقیق کی عادت ڈالو اور سچائی تک پہنچنے کی کوشش کیا کرو۔