آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے سے سیاسی اور عملی پیش گوئیاں کوئی نئی بات یا خلاف معمول حرکت نہیں۔ پاکستانی تاریخ کی زبان میں اسے عمومی قومی وقوعہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ قیام پاکستان کے پہلے عشرے کے بعد ہی سیاست اور سیاستدانوں کو بھیانک سوالیہ نشان بنانے کی منفی مہم پوری شدومد سے شروع کر دی گئی تھی!
البتہ پاکستان پیپلز پارٹی کو قومی سیاست اور قومی سیاستدانوں کے خلاف اس منفی مہم جوئی کی عوام دشمن تاریخ میں منفرد ترین واقعات سے دوچار ہونا پڑا اور بعض قومی محاذوں پر اس نے ایسا منفرد اعزاز حاصل کر لیا جسے چھیننا یا دھندلانا ناممکنات میں سے ہے!
پاکستان کو ایٹمی قوت کے مدار میں لے جانا اس پارٹی کی سب سے بڑی قومی خدمت ہے جس کے سبب عالمی برادری یا ہمسائے میں موجود کسی جارح عنصر کی جارحیت کے اندیشے یا زیادتی کے امکانات ہمیشہ کیلئے ختم ہو گئے، ہاں! سازشوں اور کارستانیوں کے دروازے ضرور کھلے رہیں گے، ان سازشوں اور کارستانیوں کو ہمیشہ ہمارے اندرونی فساد اور انتشار نے طاقت بخشی ۔ (مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بن جانا) اسی کا ایک شاخسانہ تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی سو فیصد اسی صورتحال کا اطلاق ہوتا ہے۔ 1967ء میں اپنے یوم تاسیس سے لے کر بی بی کی شہادت تک یہ جماعت اپنے قد کے ساتھ ہر طرح قد آور رہی، انصاف کے قتل

سے لیکر تشدد کے سرخ انگاروں سے بھری بھٹیوں تک اسے نہ کوتاہ قد کیا جا سکا نہ یہ کسی کنفیوژن کے ہاتھوں ضعف کا شکار ہوئی۔ 2013ء کے عام قومی انتخابات نے اس کے سیاسی باطن میں پہلی بار ’’منفرد ترین نقب لگائی‘‘ یعنی پارٹی کی مرکزی قیادت ہی متنازع، مشکوک اور کم نگاہی کی مثلث میں مقید کر دی گئی، آج پاکستانی پیپلز پارٹی خود اپنے وجود میں اپنی مرکزی قیادت سے سوال کنندہ ہے اور خود مرکزی قیادت وقت سے لاتعلقی کو اپنے سیاسی وژن کی عظمت سمجھنے لگی ہے!
15؍ ستمبر 2015کی صبح جیو ٹی وی کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں برادر سلیم صافی سے نواب زادہ غضنفر علی کی شائع شدہ گفتگو کوپی پی پی کے اس باطنی المیے کا ایک فیصلہ کن اظہار ہی کہا جانا چاہئے! پاکستان پیپلز پارٹی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، بلاول بھٹو کے سینئر مشیر نواب زادہ غضنفر علی کی ’’جرگہ‘‘ میں یہ گفتگو میں نے براہ راست بھی سنی، میں اس کا اصولی خلاصہ اخبار میں رپورٹ شدہ تفصیلات کی شمولیت کے ساتھ قارئین کی توجہ کیلئے پیش کرتا ہوں۔ نوابزادہ نے پی پی پی کے باطنی سیاسی المیے کی نوحہ گری کے طور پر اپنی آہ و فغاں کو ان خطوط سے فریم کیا۔
1)) بلاول یرغمال ہے۔
2))بلاول اگر آصف زرداری کے سائے میں رہا تو نہ پارٹی بچے گی نہ بلاول بھٹو۔
(3)چوہدری برادران کو ساتھ ملا کر آصف زرداری نے بی بی کے خون کیساتھ بے وفائی کی۔
(4)پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو کی لاش پر پانچ سال حکومت کی، پارٹی کی تباہی کے ذمہ دار آصف زرداری ہیں۔
(5)آصف زرداری بے نظیر بھٹو کے خون کے صدقے میں صدر بنے۔
(6)یرغمالی بلاول بھٹو میں آگے آنے کی تڑپ ہے لیکن وہ ڈرا اور سہما ہوا ہے۔
(7)بلاول جسمانی طور پر آصف زرداری کا بیٹا ہے لیکن نظریاتی طور پر بھٹو کا نواسہ اور بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہے۔
(8)اگر پیپلز پارٹی کو بچانا ہے تو آصف زرداری کو بلاول کو آگے آنے کیلئے راستہ دینا ہو گا۔ آصف زرداری، دونوں وزرائے اعظم اور کابینہ کے ارکان ہاتھ جوڑ کر بی بی کے خون سے اور قوم سے معافی مانگیں۔
(9)بلاول کو تربیت کی ضرورت نہیں، شاہینوں کے بچے اڑنا سیکھنےکیلئے فلائنگ اسکول نہیں جاتے۔
(10) بلاول بھٹو خاندان کی سیاسی وراثت کا امین ہے، بے نظیر بھٹو کی وصیت جعلی نہیں تھی، وصیت میں ہینڈ رائٹنگ انہی کی تھی، وصیت کے مطابق آصف زرداری کی پارٹی ذمہ داری کا عبوری دور ختم ہو گیا ہے۔
(11)مجھے کوئی غلط نہ سمجھے، میں جو کہہ رہا ہوں یہ بغاوت نہیں ہے، میں اگر غلط ہوتا تو کب کا فساد کرا چکا ہوتا، بے نظیر بھٹو کیساتھ میرا حلف ہے کہ مقتل تک آپ کیساتھ رہوں گا۔ افسوس ہے کہ وہ مر گئیں اور ہم بے غیرتی کیلئے زندہ ہیں۔
(12)آصف زرداری سے بارہا کہا آپ کی کابینہ ڈیلیور نہیں کر رہی، ان کا جواب تھا ’’یہ ٹرم ڈیلیور کرنے کی نہیں!‘‘
(13)پیپلز پارٹی پر کرپشن کا پیوند لگ گیا ہے جسے میڈیا نے مہمیز دی!
پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ رہنما نواب زادہ غضنفر علی کے نقطہ ہائے نظر سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں، مجھے بھی انکے نظریاتی ڈھانچے کے بعض پہلوئوں سے اتفاق نہیں ہے، سب کچھ ٹھیک کہنا البتہ قطعی مناسب، منصفانہ اور دیانت دارانہ نہیں ہو گا۔
مثلاً گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں میں جناب آصف علی زرداری سے یہ جملہ کس نے منسوب کیا؟ کیوں ESTABLISHہوا ’’میرے باپ کو ضیاءالحق نے پھانسی نہیں دی، نہ میں چوہدریوں کے باپ کے قاتلوں میں شامل ہوں، میرا اعجاز الحق یا چوہدری شجاعت سے کیا اختلاف ہو سکتا ہے؟‘‘ حد درجہ مقتدر اور ہمدرد دانشور اس مرحلے پر مکالمہ کیوں کرنے لگے ہیں جس کا تعلق بلاول کو ’’سیاسی بغاوت‘‘ پر اکسانے سے ہے یعنی والد آزاد نہیں کرتا، تم خود سیاسی آزادی کا اعلان کر دو، اسلئے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جڑت عوام سے ہے، سندھ میں چاہے نہ سہی، پنجاب میں اس کی جڑت کا قبرستان اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا گیا؟ کیا سابق ’’صدر‘‘ اس سوال کا جواب مرحمت فرمائیں گے جس کا تعلق ان کے اس قول سے ہے جب انہوں نے فرمایا ’’پنجاب میں منظور وٹو بہترین چوائس ہیں؟‘‘ کیا پاکستان پیپلز پارٹی کی نظریاتی اور عملی تصویر کے کسی رنگ میں کبھی بھی اس ’’شریف آدمی‘‘ کو ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے چاہے ’’پوتر‘‘ سیاسی پانیوں کا تیراک ہی کیوں نہ رہا ہو؟ اور اگر معاملہ ہزار فیصد برعکس ہو (جیسا کہ ہے) تب پھر آپ اپنے وژن کو لاکھوں عوام اور کارکنوں کی نظریاتی عزت پر فوقیت کس طرح دے سکتے ہیں؟ پنجاب میں چار بندے آپ کے اردگردنہ ہوں تب خود آپ کس حیثیت کے مالک رہ جاتے ہیں؟ درست ہے تاریخی تناظر میں ’’آئینی مدت‘‘ پوری کرنا سیاسی لحاظ سے لخت لخت اس قوم کی سب سے بڑی خدمت اور مشن تھا جس کی تکمیلی عظمت آپ کے مقدر میں تھی، قوم 64برس بعد آئینی راستے پر چل پڑی، جمہور دشمن کمزور ہوئے مگر رواں دواں زندگی میں اسلام آباد کےCARPET BEGGARS کے اعمال سے صرف نظر کس سائنسی فارمولے کے تحت کیا؟ کیا زندگی جم گئی تھی یا نعوذ باللہ جب آپ اجازت دیتے تب عوام ایسے لوگوں کے بارے میں سوچتے، پہلے ’’آئینی مدت‘‘ پوری کرنے کے سائنسی سیاسی تقاضوں تک ہی محدود رہتے؟ پاکستان پیپلز پارٹی؟ سوال کنندہ رہے گی جب تک جواب نہیں ملتا۔ یہی پوچھا ہے نواب زادہ نے آپ سے اور یہی کہا ہے نواب زادہ نے عزیز محترم بلاول سے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں