آپ آف لائن ہیں
اتوار 5؍شعبان المعظم 1439ھ 22؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
کراچی(اسٹاف رپورٹر)لاپتا افراد کے مقدمات کی تفتیش کرنے والے افسران نے عدالت کو بتایا ہے کہ ایف آئی ائے اور پولیس کو مقدمات میں مطلوب ملزمان گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے ہیں اور ان کے اہلخانہ بازیابی کی درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں  لہذا مقدمات کی تفتیش جاری ہے،بدھ کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلھپوٹو کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بنچ نے کی، دوران سماعت درخشاں کے علاقے سے لاپتا ہونے والے ہارون رشید کے مقدمہ کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ صنم ہارون کی مدعیت میں ہارون رشید کے اغوا کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کہ ایف آئی اے حکام نے ہارون رشید کے خلاف 39 مقدمات درج کیے ہوئے ہیں اور ضمانتیں حاصل کرنے کے بعد ایف آئی اے کے ساتھ بھی تعاون نہیں کیا  تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ پولیس نے مغوی کے والد سے رابط کیا تو  والد کو بیٹے کے اغوا ہونے سے کوئی پریشانی نہیں  اور مغوی کی بیوی کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر ہارون رشید کے پاس ڈھیر ساری سمیں موجود تھیں جو کہ استعمال کرنے کے بعد پھینک دیتا تھا تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ مغوی کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا  بظاہر لگتا ہے کہ خود سے روپوش ہے لہذا تفتیش جاری ہے جبکہ مغوی کی اہلیہ نے بازیابی کی درخواست دائر کی ہوئی ہے،لیاقت آباد سے لاپتا ہونے والے مشتاق  کے

x
Advertisement

مقدمہ کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مغوی قتل، اقدام قتل اور دیگر مقدمات میں ملوث ہے جو کہ گرفتاری کے خوف سے روپوش ہے لہذا تفتیش جاری ہےجبکہ مغوی کی اہلیہ نے بازیابی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں