آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
(ایک ٹپڑی واس قسم کے کالم کی پھر سے جنگ کے ادارتی صفحات پر واپسی اس اُمید پر کہ قارئین شرفِ قبولیت فرمائیں گے۔
جی ہاں! ’’عقل کی ناداری‘‘ کی بھارتی سفارتکار کی پھبتی کافی برجستہ تو تھی، لیکن یک طرفہ۔ برصغیر میں اپنے باہمی جھگڑوں کو اُلجھانے میں ہر دو اطراف نے کیا کوئی کسر کبھی چھوڑی ہے۔ غالباً وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے پاکستان میں بھارتی گڑبڑ کے حوالے سے عقل سے رجوع کی استدعا، بھارتی جواب کا ذائقہ خراب کرنے کا سبب بنی۔ وگرنہ جس نئی ’’امن پہل قدمی‘‘ کے جن چار نکات کا ذکر وزیراعظم نے کیا، اُس پر عقل کے ناخن لئے ہوتے تو اتنا بھنانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ’’عقل کی ناداری‘‘ کی بات چلی ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جس لب و لہجے میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے بہت اچھی باتیں کیں وہ بھارتی سفارت کاروں کے دماغوں کا فیتہ اُڑانے کیلئے کافی تھیں۔ لہٰذا، جو جواب آیا کفن پھاڑ کر آیا۔ میاں صاحب اقوامِ متحدہ گئے تو دل سے امن کی فاختہ اُڑانے، تو پھر کشمیر پر بھاٹی گیٹ والی گرج برس کی اتنی ضرورت کیوں آن پڑی۔ مدمقابل کو منہ توڑ جواب دینے کی لایعنی منطق سے مضبوط پوزیشن کا اظہار ہوتا ہے نہ ڈپلومیسی کا۔ آپ نے ہماری دوست محترمہ ملیحہ لودھی کے چہرے پر عقابانہ مسکراہٹ نوٹ کی ہو گی جب وہ یو این سیکرٹری جنرل کو

بھارت کی پاکستان میں مبینہ حرکتوں کی ایک نہیں تین فائلیں پیش کر رہی تھیں۔
حکمتِ عملی کا سوال یہ تھا کہ آپ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس بار کرنے کیا گئے تھے؟ کشمیر پر قراردادوں کے مردہ تن میں جان ڈلوانے اور بھارت کے سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کو سر کے بل کھڑا کر کے بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کا پٹارا کھولنے۔ فضا کو مزید مکدر کرنا مقصد تھا یا بہتر بنانا؟ یا پھر ہماری دہشت گردی کے خلاف جاری کلیدی جنگ اور افغانستان اور اس سے ملحق ہمارے سرحدی علاقوں میں ہونیوالے خوفناک خلفشار کو ختم کرنے کیلئے عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنا ہمارا بڑا مقصد ہونا چاہئے تھا۔ اس تناظر میں اگر بھارت اور ’’را‘‘ کی جانب سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ سے توجہ ہٹانے کیلئے مشرقی محاذ کو گرم کرنے کی بات کی جاتی تو پھر عالمی برادری کی جانب سے اخلاقی و سیاسی امداد کی توقع کی جا سکتی تھی۔ کشمیر پر ہمارے اور بھارت کے کرم خوردہ موقف سُن سُن کر دُنیا ہمیں یہی کہتی ہے جائو اور آپس میں طے کرو۔ عالمی برادری اور بڑی طاقتیں بشمول چین ہمیں بھارت کیساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پُرامن حل کی تلقین کر کر کے ہلکان ہو چکے۔ اور آج جب ہم دہشت گردی سے نبرد آزما ہیں اور ہماری شمال مغربی سرحدوں پر گڑبڑ ہی گڑبڑ ہے تو بھارت کو کہیں سے بھی حمایت کی خیرات نہ ملتی۔
پاک بھارت مناقشے طربیاتی بھی ہیں اور المیاتی بھی۔ یہ ٹام اور جیری کے مشہور کارٹون سلسلے کی یاد دلاتے ہیں۔ جو مسئلے اپنے قومی مفاد میں سلجھائے جا سکتے ہیں، اُنہیں سلجھایا جانا چاہئے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ وزیراعظم مودی سے بات چیت مشکل ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ کیا ہماری قومی سلامتی کے مفاد میں یہ نہیں کہ (جب ہم شمال مغربی محاذ پر گردن گردن دھنسے ہیں) بھارت مشرقی محاذ گرم نہ کر پائے۔ افغانستان میں ہماری اور بھارت کی خفیہ جنگ افغانستان میں جلتی پر تیل کا کام نہ کرے۔ اس معاملے میں ہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور شنگھائی تعاون کی تنظیم کو بیچ میں ڈال سکتے ہیں اور خیر کی اُمید بھی رکھ سکتے ہیں۔دہشت گردی کے ناطے سے ہم بد سے زیادہ بدنام رہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی حکمتِ عملیوں کے باعث ہم دہشت گردوں کو اپنے قیمتی اثاثے سمجھتے رہے، جو آستین کا سانپ ثابت ہوئے۔ ہماری یہ دلیل کہ ہم دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری قربانیاں سب سے زیادہ ہیں، آزاد دُنیا اب یہ تو ماننے لگی ہے لیکن اس طنز کے ساتھ کہ یہ آپ کے گناہوں کا پھل ہی تو ہیں، یہ بھولتے ہوئے کہ وہ بھی تو شریکِ جرم رہی۔ چونکہ پاکستان کے قومی اتفاقِ رائے کی روشنی میں جنرل راحیل شریف نے ہر طرح اور ہر جواز کی دہشت گردی کے خلاف صف آراء ہو کر پاکستان کو محفوظ کرنے اور دُنیا کو موہ لینے کا راستہ اختیار کیا ہے، عالمی دبائو اس حوالے سے کافی کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن کچھ گروہوں کے حوالے سے ابھی بھی سنجیدہ تحفظات ہیں جس کا اظہار بھارت اور امریکہ کے حالیہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ سے بھی واشگاف ہے۔ ایک طرف وزیراعظم جب کشمیر کے ناطے یو این پر برس رہے تھے تو دوسری جانب جنرل راحیل شریف جرمنی اور لندن میں دُنیا کو ببانگِ دہل یقین دلا رہے تھے کہ پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی طرح کی پراکسی جنگ یا دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی نئے یا کسی بھی طرح کے دہشت گردوں کو اُبھرنے دیا جائے گا۔اس سے قطع نظر کہ کس طرح شریمتی سشما سوراج نے وزیراعظم کی چار نکاتی تجویز کو یہ کہہ کر ہوا میں اُڑا دیا کہ ’’دہشت گردی بند کرو اور بیٹھ کر ہر مُدے پر بات کرو۔‘‘ وزیراعظم کی تقریر میں اُن کی اپنی سوچ کے بہت ہی مثبت اصول مترشح تھے۔ کیا اچھی بات تھی جو اُنہوں نے نہیں کہی۔ ’’پاک بھارت عہد کریں کہ کسی بھی طرح کے حالات میں طاقت کا استعمال یا دھمکی نہیں دینگے… جنوبی ایشیا میں اسٹرٹیجک استحکام کیلئے سنجیدہ بات چیت چاہئے۔‘‘ شریمتی سوراج کم سن نہیں کہ اتنی بڑی تجویز اُن کے سر سے گزر گئی۔ وزیراعظم پاکستان کی تجویز ’’جنگ نہ کرنے‘‘ کے معاہدے کی تھی، جس میں ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگ، دہشت گردی کی پشت پناہی سے اجتناب کی شق بھی ڈالی جا سکتی ہے۔ اور بھارت کا تو مدا ہی دہشت گردی ہے۔ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ واجپائی مشرف اور من موہن مشرف کی کامیاب بات چیت شروع ہی تب ہوئی جب 6 جنوری 2006ء کو اسلام آباد میں دونوں ملکوں نے طے کیا کہ سرحد کے آر پار گڑبڑ نہیں ہوگی۔ ممبئی دہشت گردی کے بعد بھارت کی کوئی حکومت سرحد پار مبینہ دہشت گردی کے خاتمے کی یقین دہانی کے بغیر بات چیت شروع نہیں کر سکے گی۔ اب جب ہماری ریاستی پالیسی واضح طور پر ہر طرح کی دہشت گردی کے خاتمے پر منتج ہوگئی ہے تو پھر امر مانع کیا ہے۔
وزیراعظم کے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے معاہدے کی پاسداری کی تجدید دونوں اطراف کے رینجرز حکام کر چکے۔ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن عملدرآمد کیلئے قابلِ اعتماد نظام وضع کر سکتے ہیں جس کی توثیق دونوں ملکوں کے سپہ سالار کر دیں۔ روز روز کی سرحدوں پر جھڑپیں رُک جائیں گی۔ سیاچن سے فوجوں کی واپسی کا معاہدہ تو 1989ء میں راجیو گاندھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو میں طے پا گیا تھا۔ من موہن کی امن گلیشیر کی تجویز پر کیوں عمل نہیں ہو سکتا، اگر ہم گلیشیر کے پگھل جانے سے کچھ بچنا چاہتے ہیں۔ رہی بات کشمیر کو غیرفوجی علاقہ بنانے اور اسکے قابلِ قبول حل کی بات تو میاں نواز شریف کو جنرل مشرف کے چار نکاتی فارمولے کی کڑوی گولی کھانے کی ہمت کرنا ہوگی۔ یہ اسی بیک چینل کی برکت تھی کہ حریت کے لیڈر صبح شام آ جا رہے تھے۔ وہ مفاہمت ختم ہو گئی تو حریت والوں سے ملاقات کون کرنے دیگا؟ برصغیر میں ڈپلومیسی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میچ بن چکی۔ اسے پسِ پردہ رہنے دیں تو سب کا بھلا ہے۔ کیوں نہ قومی سلامتی کے مشیر کہیں چھپ چھپا کر ملیں اور کمپوزٹ ڈائیلاگ شروع ہو۔ بات سے ہی بات بنے گی، پھوکے اور حقیقی فائروں سے نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں