آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اُس دن میں جائے حادثہ پر موجود تھا ۔ انتہائی المنا0ک حادثہ تھا ۔ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رات کے وقت پہاڑ سے مٹی کا تودہ جھونپڑیوں پر گرا ۔ اس حادثے میں 3 بچوں اور7 خواتین سمیت 13 افراد جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے ۔ جب میں وہاں پہنچا تو لاشوں اور زخمیوں کو نکالا جا چکا تھا ۔امدادی کارکن لاشوں کو غسل اور کفن کرانے کے لیے لے گئے تھے۔ اجڑے ہوئے خاندانوں کے بچ جانے والے افراد غم سے نڈھال تھے ۔ بہت درد ناک مناظر تھے ۔ جائے حادثہ پر کھڑے ہوئے مجھے پاکستانی ریاست ، سماج اور سیاست کے وہ پہلو زیادہ نمایاں نظر آنے لگے ، جن پر ہم بوجوہ بات نہیں حادثات رونما ہوتے ہیں اور ان میں اموات بھی ہوتی ہیں لیکن کچھ لوگوں کی موت پر نہیں ، ان کی مظلومیت پر رونا آتا ہے ۔ مرنے والے لوگوں کا تعلق جنوبی پنجاب کے سرائیکی علاقے سے تھا ۔ یہ اس دھرتی کے لوگ ہیں ، جسے تاریخ میں ’’ سپت سندھو ‘‘ یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے ۔ یہاں کے لوگ عظیم تہذیب کے وارث ہیں ۔ کسی سرائیکی شاعر نے اس خطے کا اس طرح احاطہ کیا ہے ۔ ’’ اس سے تعلق رکھتے ہیں روہی ، تھل ، دامان ۔۔۔ اس سے پہچانی جاتی ہے سندھو کی ہر جھوک ‘‘ ۔ یہ خطہ وادی سندھ کی شناخت ہے ۔ پاکستان بننے سے پہلے سرائیکی زبان وادی سندھ کی رابطہ زبان تھی ۔ آج بھی یہ زبان ملک

کے چاروں صوبوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ سرائیکی زبان کی مٹھاس کو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے ۔ اردو زبان کے ایک شاعر نے اپنے محبوب کی تعریف یوں کی ’’ اس سے بہتر مثال کیا دوں میں ۔۔۔ تو سرائیکی زبان جیسا ہے ۔ ‘‘ سرائیکی لوگوں کا خطہ وسائل سے مالا مال ہے ۔ یہاں سب سے زیادہ اناج پیدا ہوتا ہے ۔ یہاں سب سے زیادہ کپاس پیدا ہوتی ہے لیکن بھوک کی وجہ سے سب سے زیادہ ہجرت اسی علاقے سے ہوتی ہے اور تار تار لباس کے لوگ سب سے زیادہ یہاں نظر آتے ہیں ۔ سرائیکی علاقے کے لوگ روزگار کے لیے سندھ اور بلوچستان جا کر محنت مزدوری کرتے ہیں ۔ بلوچستان میں پنجابی سمجھ کر ان کا قتل عام کیا جاتا ہے ۔ کراچی میں دہشت گردی اور حادثات کا شکار سب سے زیادہ یہی لوگ ہوتے ہیں ۔ پنجاب میں انہیں پنجابی تسلیم نہیں کیا جاتا جبکہ دوسرے صوبوں میں انہیں پنجاب کی بالادستی کا خراج اپنے خون سے ادا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے قوم پرستی کے نام پر نہ تو اپنے علاقوں میں کسی پر ظلم کیے اور نہ ہی پنجاب میں رہ کریادیگر صوبوں میں جا کر وسائل اور زمینوں پر قبضے کیے ۔ ان لوگوں نے کراچی کو بنانے میں اپنا خون پسینہ شامل کیا لیکن اس شہر میں بھی یہ لوگ خالی ہاتھ رہے ، جہاں تاریخ انسانی کی سب سے زیادہ لوٹ مار ہوئی ہے اور اب تک ہو رہی ہے ۔ محلات کے درمیان بھی یہ لوگ ’’پکھی واس‘‘ بن کر رہتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر اشو لال فقیر ’’ بھانویں ہووے کیچ پنل دا، بھانویں تخت ہزارا۔۔۔۔ نہ کوئی ماڑی ساڈے نانویں، نہ کوئی محل منارا۔۔۔ ‘‘12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب ان لوگوں پر جو پہاڑ ٹوٹ کر گرا ، وہ حقیقت کے ساتھ ایک استعارہ بھی ہے ۔ کراچی میں ان لوگوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں ۔ آئے دن یہ خبریں آتی ہیں کہ جھونپڑیوں میں اچانک آگ لگنے سے معصوم بچوں سمیت کئی افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے ۔ نیو کراچی میں جھونپڑیوں میں لگنے والی آگ کا وہ واقعہ کبھی نہیں بھلایا جا سکتا ، جس میں 43 افراد بھسم ہو گئے تھے ۔ اس واقعہ کو بھی حادثہ قرار دیا گیا تھا لیکن یہ حادثے والی آگ نہیں تھی ۔ ایک ماں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی اور اسی حالت میں ماں اور بچے کی جھلسی ہوئی لاشیں ملیں ۔ آگ نے یہ حالت تبدیل کرنے کی مہلت بھی نہیں دی ۔ یہ وہ لاوارث لوگ ہیں ، جو کچھ سیاسی ایشوز سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے کراچی میں ایک ’’ بڑے حادثے ‘‘ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ان لوگوں کی موت پر نہیں ، مظلومیت پر رونا آتا ہے ۔ چند باتیں اور کہنی ہیں ۔ جائے حادثہ پر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے ۔ زیادہ تر لوگوں کے چہروں پر وہ تاثرات نہیں تھے ، جو مقام المیہ پر کھڑے ہوئے لوگوں کے چہروں پر ہونے چاہئیں ۔ مجھے کچھ عرصہ قبل کے وہ اجتماع یاد آنے لگے ، جو قربانی کے جانور دیکھنے کے لیے کراچی میں جگہ جگہ ہوتے تھے ۔ ہم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ۔ ہمیں دجال کی ان مکھیوں نے ڈس لیا ہے ، جن کا تذکرہ ژاں پال سارتر کے ناول ’’ پریم نگر ‘‘ میں ہے ۔ دجال کہتا ہے کہ ’’ میرے ارد گرد جو مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں ، اگر یہ کسی کو ڈس لیں تو اس کے کان درد ناک نغمے نہیں سن سکیں گے ۔ ‘‘ جائے حادثہ پر موجود لوگوں نے کچھ باتیں ایسی بتائیں ، جن کا تذکرہ نہ کرنا بددیانتی کے زمرے میں آئے گا ۔ ریسکیو ٹیمیں 3 گھنٹے بعد پہنچیں ۔ میڈیا کی ڈی ایس این جی گاڑیوں نے راستے بند کیے ہوئے تھے اور ریسکیو ٹیموں کو جائے حادثہ پر پہنچنے میں مزید تاخیر ہو گئی ۔ لائیو کوریج کی مقابلہ بازی تھی اور امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی ۔ ٹی وی چینلز پر ہر کوئی یہ بتا رہا تھا کہ مرنے والوں کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے حالانکہ مرنے والے تمام بچے کراچی میں ہی پیدا ہوئے ۔ ایک آخری بات ۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی طرف سے جس ریسپانس کی توقع کی جا رہی تھی ، وہ نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی وفاقی سیاسی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن ’’ جنوبی پنجاب ‘‘ کے متاثرین پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی توجہ حاصل نہ کر سکے ۔ جائے حادثہ پر کھڑے ہوئے یہ بات واردات کی طرح محسوس ہوئی کہ پیپلز پارٹی سندھی قوم پرستوں کے مائنڈ سیٹ اور بیانیہ ( Narrative ) کو قبول کر چکی ہے ۔ یہ واردات بھی ایسے ہوئی ، جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو ۔ ملبے تلے دبی ہوئی جھونپڑیوں ، مٹی اور خون میں رندھی ہوئی پرانی رلیوں اور اپنی بے کسی پر روتے ہوئے بچوں پر نظر پڑی تو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش عظیم سرائیکی مرثیہ گو شاعر غلام سکندر غلام کی کتاب ’’ لیر کتیراں خیمے ‘‘ ( تار تار خیمے ) ہاتھ میں ہوتی اور اس کتاب سے مرثیے پڑھ کر خوب رویا جاتا اور دل کا بوجھ ہلکا کیا جاتا ۔کرتے ہیں اوریہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں