آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان میں مذہبی اور سیاسی فرقہ واریت پورے عروج پر ہے۔دونوں کی سوچ میں یکسانیت ہے۔دونوں مخالف نقطہ نظر سننے اور اپنی اصلاح پر یقین نہیں رکھتے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ صرف رب العزت کی ذات ہی غلطیوں سے پاک ہے، یہ تسلیم کرنے کےلیے تیار ہی نہیں ہیںکہ ان کی سوچ بھی غلط ہو سکتی ہے۔کوئی جماعت اپنی غلطیوں کو سنوارنے پر آمادہ نہیں ہے۔
مستحکم جمہوریت کےلیے برداشت کلیدی حیثیت رکھتا ہے، لیکن سیاسی فرقہ واریت کو پروان چڑھانے والے ان کے نظریات یا سوچ کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف ایسی مہم چلاتے ہیں کہ ان کی نسلیں یاد رکھتی ہیں۔ جمہوریت اور جمہوری اقدار قائم کرنے کا یہ نیا ڈھنگ ہے۔جس کے ذریعے غیر جمہوری طریقے سے عدم برداشت کی ترغیب دی جارہی ہے۔
بلاشبہ تحریک انصاف لوگوں کے دلوں پر راج کر رہی ہے ۔ان لوگوں میں تعلیم یافتہ اور نوجوان طبقہ شامل ہے جن کے ذریعے تحریک انصاف پورا نظام تبدیل کرنے کی استطاعت رکھتی ہے ۔لیکن قیادت اس تاریخی موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے پر صلاحیتوں کا زیاں کر رہی ہے۔پاکستان میں جدید سیاسی اقدار کے رواج اور صاف ستھری مغربی جمہوریت اور نظام انصاف پر یقین رکھنے والے اپنے ماننے والوں کو گمراہ کیوں کر رہے ہیں۔ مغرب کی

طرز سیاست کشادہ دلی سے شکست تسلیم کرکے جمہوری عمل کو مستحکم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔مخالفین کی تنقید برداشت کرکے اپنی اصلاح کے راستے تلاش کرتی ہے۔ لیکن جمہوریت پر یقین رکھنے والی سیاسی قیادت غیر جمہوری راستے اختیار کرکے کون سی طرز حکومت متعارف کروانا چاہتی ہے۔لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122پر ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ایسے الزامات کی بوچھاڑ کردی جنھیں منطقی طور پر تسلیم کرنا دشوار تھا۔الزامات کی فہرست میں یہاں تک کہا گیاکہ حکومت نے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے نادرا کے ذریعے ووٹر فہرستیں تبدیل کردیں اور اعلیٰ قیادت ٹھوس شواہد کے بغیر اپنے موقف پر ڈٹ گئی لیکن تحقیقات کے نتیجے میں یہ انجام بھی ثابت نہ ہو سکا۔تحریک انصاف کی قیادت شائد یہ نہیں سمجھتی کہ اس قسم کی حرکات سے وہ موجودہ حکومت کےلیے لوگوں کے دلوں میں ہمدردی پیدا کر رہی ہے اور تصادم کی پالیسی اختیارکرکے اپنی مقبولیت کا گراف خود گرارہی ہے۔کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ شکست کوکشادہ دلی سے قبول کرکے اپنی غلطیوں کا ازالہ کیا جاتااور مستقبل میں ایسی غلطیاں نہ دہرائی جاتی جن کا نتیجہ لاہور کے اہم ترین حلقہ میں شکست کو صورت میں سامنے آیا۔اس میں دو آرا نہیں ہیں کہ تحریک انصاف ایک طاقتور سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے۔کرپشن کے خلاف اور عدل کے حق میں اس کے مضبوط نظریات ہیں۔لیکن وہ کون سی طاقتیں ہیں جو تحریک انصاف کے اندر رہتے ہوئے اس کے اساس کو کمزور کر رہی ہیں۔قیام پاکستان سے اب تک ہمیشہ اقتدار میں رہنے پر ایمان رکھنے والا ایک طبقہ کسی نہ کسی صورت ہر بڑی سیاسی جماعتوں میں شامل ہو جاتا ہے۔یہی مفاد پرست طبقہ اپنے اپنے نظریات کے ذریعے اس سیاسی جماعت کے نظریاتی اساس کو گھن کی طرح چاٹ جاتا ہے۔اپنے نظریات کو چھوڑ کر مختلف سیاسی نظریات کا ملغوبہ بننے والی پیپلزپارٹی کا انجام سب کے سامنے ہے۔جو اقتدار پانے کی کوششوں میں اپنی اصل حیثیت کھو بیٹھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں