آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
1980 ءکے وسط میں روس افغانستان پر اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کی کوشش میں تھا۔ روسی افواج کی تعداد اور اسلحے کی مقدار روز افزوں تھی۔ جارحیت سے متاثر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان اور ایران کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ جوں جوں افغانستان میں روسی افواج میں اضافہ ہو رہا تھا اسی رفتار سے ان کے خلاف افغان مجاہدین کی مزاحمت بھی بڑھتی جارہی تھی۔ یورپ ابھی تک سکتے میں تھا۔ امریکی صدر جمی کارٹر کی بزدلانہ عاقبت نااندیشی آخری حدوں پر تھی۔ روس کی فوج کشی کے جواب میں صدر کارٹر دھمکی دے رہے تھے کہ اگرروس نے اپنی فوجیں افغانستان سے واپس نہ بلائیں تو ماسکو میں ہونے والے اولمپک کھیلوں کا بائیکاٹ کردیا جائے گا۔ پاکستان کی فوج اورصدر جنرل ضیاالحق افغانستان میں روس کے خلاف مزاحمت کافیصلہ کرچکے تھے۔ پاکستانی عوام کو بھی روس کی ہمسائیگی پر تشویش ہونے لگی تھی۔ یہ جولائی یا اگست 1980ءکی ایک رات تھی جب راقم سمیت چنداحباب ’’آرمی ہائوس راولپنڈی‘‘ میں ضیا الحق کے ہاں کھانے میںشریک تھے۔ ڈاکٹر بشار ت الٰہی جو جنرل ضیاالحق کے ماموں زادبھائی ، برادر ِ نسبتی اور بے تکلف دوست بھی تھے، انہوں نے روس کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور وسیع ہوتی جارحیت پر تشویش کااظہار کیاتو ضیا الحق بولے ’’ڈاکٹر صاحب! زیادہ پریشان نہ ہوں۔ کیا

آپ کو علم نہیں ایک مسلمان دس کافروں پر بھاری ہے؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے کہا ’’خدا کا خوف کریں و ہ مسلمان حضرت حمزہؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایسے لوگ تھے۔ اب وہ مسلمان کہاں جو دس پر بھاری ہوں؟‘‘ ضیا الحق نے اپنے مخصوص لہجے میں جواب دیا ’’بھائی ان کے مقابلے میں بھی ابوجہل اورعقبہ جیسے کافرتھے اب ہمارا ایمان کمزور ان کا کفر کمزور اس لئے بات تب بھی ایک اور دس کی تھی اب بھی ایک اور دس کی رہے گی۔اپنا یقین پکا رکھنا چاہئے‘‘
پاکستان میں یہی حال فوجی آمروں اور جمہوری حکمرانوں کا ہے۔ نہ مشرق وسطیٰ اور کمیونسٹ ملکوں جیسے آمر آئے نہ یورپ اورامریکہ جیسی جمہوریت دیکھی۔ ہماری جمہوریت ڈکٹیٹروں کا دبدبہ اوراختیار چاہتی ہے اور ہماری آمریت قانونی جواز اور عوام میں پذیرائی کی فکر میں ہلکان ہوتی ہے۔ یہاں آمریت طاقت ور نہ جمہوریت ذمہ دار.... قائداعظم اور ان کے ساتھیوں کے بعد اب تک دو لیڈر کامیاب سیاستدان کہے جاسکتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو دوسرے میاں نوازشریف۔ دونوں کامیاب سیاستدان ناکام حکمران بھی ہیں۔ دونوں نے فوجی ڈکٹیٹروں کے سایہ عاطفت میں پرورش پائی۔ ان کےاقتدارکو سیڑھی بنا کر حکومت میں شامل ہوئے۔ دونوں کی قسمت نے یاوری کی اور عوام میں مقبولیت حاصل کرکے اپنی بنائی ہوئی جماعتوں کی وساطت سے اعلیٰ ترین سیاسی اور حکومتی مناصب تک جا پہنچے۔ دونوں پر عوام نے بھروسہ کیا۔ دونوں نے مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا۔ ان کے ادوار میں قومی پیداوار اور ملک کی ترقی اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ دونوں فوجی حکمرانوں کی مہربانی سے نامور ہوئے پھر ان ہی کے ہاتھوں مصائب کا سامناکرنا پڑا۔ دونوں لیڈروں کی ذہنی سطح، سماجی مرتبہ، سیاسی فلسفہ، علم، عقل، دانش، ماحول سب کچھ الگ ہے لیکن دونوں کی زندگی میں کافی مماثلت بھی پائی جاتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو شیشے میں اتارنا قدم جم جانے کے بعد ان کے مخالف ہونے کا تاثر دے کر عوام میں مقبولیت حاصل کرنا، عملیت پسندی و بیدار مغزی کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری طرف جلد بازی، ہوس اقتدار اور اختیارات کےارتکاز کی خواہش ان کے کامیاب حکمران بننے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ ان کے ادوار میں پاکستان کی صنعت، تجارت اور معیشت کوغیرمعمولی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں حکمرانوں کے دور میں پیداوار میں کمی، غیرپیداواری اخراجات میں اضافہ ہوا، تجارتی خسارہ ، روپے کی قدر میں کمی، بجٹ کا خسارہ، قرضوں کا حجم غیرمعمولی حد تک پہنچ گیا۔ صحت، تعلیم، پینے کے پانی مفاد ِ عامہ کےکاموں، روزگار کے مواقع پیداکرنےکی بجائے نمائشی منصوبوں اورزوردار پروپیگنڈہ کے ذریعہ طویل عرصہ تک عوام کو بہلائے رکھنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ بہرحال فوجی آمریت تھی یا جمہوری تماشہ دونوں کی قانونی حیثیت اور اخلاقی بنیادیں کمزور تھیں لیکن کارکردگی میں آمریت جمہوری حکمرانوں سے بہتر ثابت ہوئی۔ 1947 سے 1957ءتک جب پاکستان کی صنعت ، تجارت، زراعت ابھی ابتدائی مرحلے میں تھی تب پاکستانی روپے کی قدر ڈالر کے برابرتھی یعنی امریکی ڈالر کی قیمت ایک روپے کے برابر تھی اور سالانہ قومی بجٹ منافع کا بجٹ تھا اور کوئی قرضہ پاکستان کے ذمے نہیں تھا۔ شروع دن سے زراعت میں کپاس اور صنعت میں ٹیکسٹائل روزگار کی فراہمی اور زرمبادلہ کمانے کا واحد ذریعہ تھا۔ ہماری 80 فیصد برآمد ٹیکسٹائل سے متعلق تھیں اب بھی 66فیصد اسی مد میں ہیں۔ ایوب خان کے زمانے میں ایک ڈالر کی قیمت تین روپے تھی اور ٹیکسٹائل برآمدات 71فیصد جبکہ انڈیاکی ایک فیصد سے بھی کم تھی۔ یحییٰ کے زمانے میں جب ملک بھارتی جارحیت اور خانہ جنگی کا شکاربنا تب بھی ڈالر کی قیمت پانچ روپے ٹیکسٹائل برآمدات 70 فیصد انڈیا کی ایک فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔بھٹو کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی پاکستانی روپے کی قدر سوفیصد کم ہوگئی اوربرآمد بڑھنے کی بجائے ستر فی صد سے کم ہو کر 33فیصد پر آگئیں۔ یہی زمانہ تھا جب پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کو ٹیکسٹائل میں مقابلے کا موقع ملا۔ ضیا الحق کے زمانے میں یہ برآمد 70اور 75 فیصد کے درمیان تھیں۔ ضیا الحق کے بعد بینظیر اور نوازشریف کے ادوار میں انڈیا ہمارے مقابلے میں آیا اور اس کی برآمد میں بتدریج اضافہ ہوتا چلاگیا۔ آخری ڈکٹیٹر کے زمانے میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول 100ڈالر فی بیرل تھا تو پاکستانیوں کو 37روپے میں دستیاب تھا ۔ جب عالمی مارکیٹ میں قیمت نصف ہوگئی یعنی 50 ڈالر فی بیرل اورپاکستان میں 100روپیہ فی لیٹر مل رہا ہے۔ آج انڈیا کی ٹیکسٹائل برآمدات پاکستان کے مقابلے میں پانچ گنا ہوگئی ہیں حتیٰ کہ بنگلہ دیش جہاں کپاس کا ایک پودا بھی پیدا نہیں ہوتا وہ بھی ہمار ےمقابل آگیا ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں کس کی حکمرانی بری اور کارکردگی زیادہ خراب ہے اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں