آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بہت غم زدہ، بہت دلگرفتہ لگے عمران خان! نغمۂ شادی تو بہت دلپذیر ہوتا ہے، نغمۂ غم نہیں۔ میڈیا کی آنکھ کا تارا ہونا تو باعثِ طمانیت سہی، کبھی کبھی کافی گراں بھی گزرتا ہے۔ جب آپ ہیرو ہوں اور مقبول رہنما بھی تو چاہنے نہ چاہنے والے آپ کی ہر طرح کی خبرگیری کے ہمہ وقت خواہاں۔ اور عمران خان کی شخصیت تو اُن کی سیاست سے بھی بڑھ کر جاذبِ توجہ ہے۔ ایسے میں سیاست اور ذات کی حد مٹ جاتی ہے اور لوگوں کی موشگافیوں کی نذر۔ اُس کی شادیوں پہ کیا کم ڈونگرے برسے تھے کہ طلاقیں طلاطم کئے بغیر گزر جاتیں؟ کیا کیا قصے ہیں جو نہیں گھڑے گئے، تو پھر میڈیا منہ پہ چھینکا باندھ کر کیسے نچلا بیٹھ سکتا تھا؟ دلِ شکستہ خان کو دلجوئی کی ضرورت تھی اور ہیرو کی ٹریجڈی پر تو ہماری فلموں میں آنسو ہی بہائے جاتے ہیں۔ تیکھے سوال پر خان رپورٹر پر ایسا بپھرا کہ اُسے ’’اوقات‘‘ یاد دلا دی۔ پھر کیا تھا اُترے میدان میں ہر طرح کے نقارچی اور بات جا پہنچی طمانچوں اور مادر پدر آزادی کی درگت تک، یہ بھولتے ہوئے کہ لیڈروں کو جوتے اور گندے انڈے بھی کھانے پڑتے ہیں۔ میڈیا کے ردّعمل پہ عمران خان نے معذرت خواہ ہو کر اچھا کیا اور معاملہ ٹھنڈا پڑا۔ بات کا بتنگڑ بنانے کی بھلا کیا ضرورت؟ جب میاں بیوی طلاق پہ راضی تو کیا کرے گا قاضی؟ پھر اِس میں میڈیا سمیت کسی

کو ٹانگ اڑانے کا کیا حق!موضوع ہمارا ان کی گھریلو زندگی نہیں بلکہ عمران خان کی سحرانگیز شخصیت اور اُن کی سیاست ہے۔ عالمی اعزازات سے محروم ملک کیلئے ورلڈ کپ کی کامیابی کا خمار اب بھی تازہ ہے اور وہ ٹیم سے زیادہ کپتان سے منسوب۔ ایک ایسا وجیہہ مرد جس کی پرکشش جھلک پہ جانے کس کس کے دل دھڑکے بنا نہ رہتے ہوں۔ پھر وہ جس نے ایسے مسیحا کا روپ دھارا جو نکل پڑا کینسر کے علاج کیلئے۔ بچے بڑے، جواں اور بزرگ نے اُس پر یقین کیا اور شوکت خانم اسپتال وجود میں آیا۔ قومی ہیرو، رول ماڈل، مسیحا اور بڑھاپے کے آثار کے باوجود وجیہہ و توانا، ایک بھرپور کرشمہ ساز شخصیت ہونے کیلئے سبھی کچھ تو ہے اسکے پاس۔ لیکن سیاست کے میدان میں لگا کہ وہ شاید اس کا کھلاڑی نہیں۔ وہ خود کہتا ہے کہ اُسے اٹھارہ برس لگے عوامی قبولیت کی جھلک پانے کو۔ 2013ءکے عام انتخابات سے کچھ ہی قبل اُسے پہلی بار عوامی پذیرائی ملی۔ اور ملی تو کیوں؟ یہ سوال سیاسی تجزیہ کاروں کیلئے کسی گتھی سے کم نہیں۔
وہی عمران خان تھا جو کبھی جنرل پرویز مشرف کی طرف دیکھتا تھا اور اُس کی نظر میں آنے کو بیتاب، بمشکل اپنی ہی ایک سیٹ لے پایا اور بس۔ اور وہ بھی مشرف کے ہوائی ریفرنڈم کی حمایت کے طفیل۔ بحالیٔ جمہوریت اور جمہوری تحریکوں سے کبھی اس کا واسطہ نہ رہا، جب کہ وہ سیاست کے آسمان پہ اِک جست میں معراج پہ پہنچنے کیلئے بیتاب! پھر اچانک لاہور میں یادگارِ پاکستان پہ اُس نے جلسہ کر کے تہلکہ مچا دیا۔ اس اچانک سیاسی ہردلعزیزی کی پانچ چھ اہم وجوہات نظر آتی ہیں۔ اوّل: جمہوری عبور کے دور میں سیاسی قوتوں کی باہم مفاہمتی پالیسی نے گزرے وقت کی محاذ آرائی کی سیاست کیلئے جگہ چھوڑ دی۔ دوم: جمہوریت کی بحالی کے دور کی معروضی و موضوعی کمزوریوں نے عوامی توقعات پر اوس ڈال دی اور لوگ پرانے دور کی دونوں سیاسی جماعتوں اور آزمائی ہوئی قیادتوں سے نالاں ہوتے دکھائی دیئے۔ سوم: باوجود یہ کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دو ہردلعزیز جماعتیں ہیں، غیرسیاسی متوسط طبقوں کے بڑے حصے اور شہری نوجوان اُن کے دائرہ اثر سے باہر تھے جنہیں ایک نعم البدل کی تلاش تھی جو پرانے سیاسی قلعوں میں شگاف ڈال پائے۔ چہارم: طالبان نواز قومی بیانیے نے ملک کے وسیع تر حلقوں میں امریکہ مخالف جذبات کو اتنی مہمیز لگائی کہ دُنیا سے جڑے رہنے والی جماعتیں مغرب کی کاسہ لیس دکھائی دینے لگیں۔ پنجم: جمہوری بحالی کے ساتھ ہی مقتدرہ کو ایسے سیاسی محاذ کی ضرورت تھی جو دونوں بڑی جماعتوں پہ اک روک کا کام دے۔ ششم: پختونخوا میں ایک عام خیال کہ پختون دہشت کے خلاف جنگ کا لقمہ بن رہے ہیں اور اس سے باہر نکلنے کیلئے شاید پختون جرگہ کارگر ہو۔یہ وہ اسباب تھے جو عمران خان کے سیاسی اُبھار کے کام آئے۔ خان صاحب کا سارا زور ’’آزمائی ہوئی قیادتوں‘‘ کی ’’باریوں میں حکمرانی‘‘ اور ان کی حاکمیت کے ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے خاتمہ پر رہا۔ تبدیلی اور ’’اسٹیٹس کو‘‘ کو بدلنے کی بات کو اُنہوں نے مجرد ہی رکھا تاکہ خواص کی ضرورتوں کے حساب سے تبدیلی کے معنی ڈھونڈ نکالے جا سکیں۔ امریکہ مخالفت میں قوم پرستی کے جھنڈے لہراتے، عمران خان طالبان کیساتھ مفاہمت کے راستے پہ چل نکلے جس سے اُنہیں خیبرپختونخوا میں پذیرائی ملی۔ شہروں کے نوجوان جو اَب بڑھتی آبادی کا جمِ غفیر تھے اور جن کے سامنے مستقبل تھا اور نہ جن کا کوئی نظریہ، اُنہیں عمران خان میں اپنی غیرواضح امنگوں کی تشفی کا امکان نظر آنے لگا۔ لیکن جو بات ماہرین کیلئے ہنوز اِک معمہ ہے وہ یہ کہ ہماری شہری ہائی سوسائٹی کی خواتین کی بڑی تعداد تحریکِ انصاف کے پھریرے دیوانہ وار لہراتی نظر آئیں۔
بُرا ہو ہار نہ ماننے کی ضد کا، عمران خان آدھی شکست کو قبول نہ کر پائے۔ منزل اتنے قریب آ کر اتنی دُور ہو جانے پر عمران خان بڑے ہی آگ بگولا نظر آئے۔ اور وہ 2013 کے عوامی انتخاب کو تلپٹ کرنے کیلئےبے قرار ہو گئے۔ لیکن انہوں نے کچھ دیر کر دی۔ پھر بھی ’’دھاندلی دھاندلی‘‘ کی ایسی رٹ اُس نے لگائی کہ بہت سوں کو گماں ہوا کہ کہیں پھر سے تو انتخابی ہاتھ نہیں ہو گیا۔ پورے ڈیڑھ برس وہ اس کام پر لگے رہے۔ اور اس اُمید پر وہ ایک طویل دھرنے پہ بیٹھ گئے کہ شاید کہیں سے کوئی انگلی اُن کے حق میں اُٹھائے گا۔ لیکن اس سے پہلے نواز حکومت بمشکل پارلیمنٹ کے دستِ پناہ کی بدولت بچ گئی۔ یہ عمران خان کی عوامی مزاحمت کی بلندتر اُٹھان تھی جس کے بعد خود وہ اپنے ہی غلط قدم کے دام میں پھنستے چلے گئے۔ عدالتی کمیشن کے انتخابی شفافیت کے سوال پر فیصلے نے اُن کے دھاندلی کے دعوئوں کی قلعی کھول دی ۔ پھر حلقہ 122 میں زبردست مہم نے اگر کوئی بھرم رکھا بھی تو پنجاب اور سندھ کے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں تحریکِ انصاف کے صفائے نے عوامیت کے غبارے سے ہوا نکال دی۔
بُرا ہو پیپلز پارٹی کے پی ایچ ڈی شریک چیئرمین کا جنہوں نے پنجاب کے شہروں میں قدامت پسندی کی لہر کو بھانپتے ہوئے تحریکِ انصاف کو نواز لیگ کے خلاف ایک طرح کا واک اوور دے دیا۔
جس سے ایک بڑا خلا پیدا ہوا جسے کسی کو تو پُر ہی کرنا تھا۔ بدقسمتی کی بات یہ تھی کہ پنجاب میں جو بڑا معرکہ چلتا رہا وہ ایک ہی نظریئے کے ماننے والوں میں۔ دائیں بازو کی قدامت پسندی بمقابلہ بظاہر لبرل قدامت پسندی جس میں عوامی اُمنگوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ عمران خان کی مقبولیت شہری متوسط طبقوں تک محدود رہی اور اُن کی جماعت کی سماجی بنیاد وسیع تر عوام تک نہ پھیل سکی۔ عمران خان جس نظریاتی وکٹ پر کھیلے اُس کے پرانے اور آزمودہ کھلاڑی شریف برادران ہیں جو قومی اتحاد کی نظری تقسیم کو کبھی کے اپنے کھاتے میں لکھ چکے۔ پنجاب میں تمام تر مذہبی ووٹ اب نواز لیگ کو تو پڑتا ہے، مذہبی جماعتوں کو نہیں۔ اُس پر طرہ یہ کہ عمران خان کی رونق افروز زندگی صالحین کیلئے باعثِ اطمینان نہیں، جنہوں نے خواتین کی تحریکِ انصاف کے جلسوں میں زبردست شرکت اور گانے بجانے پہ خوب ناک بھوں چڑھائی۔
تحریکِ انصاف کی پنجاب اور سندھ میں شکست سے جو خلا سامنے آیا ہے وہ ہے وسطی بائیں بازو کی سیاست کے فقدان کا۔ ایسی عوامی جمہوری سیاست جو وسیع تر محنت کش عوام کی اُمنگوں کا احاطہ کر سکے۔ یہ عجب حقیقت نہیں ہے کہ غریب غرباابھی بھی بھٹوز کی مالا جپتے ہیں اور اُن کی سیاست کو ٹھوس صورت دینے والا کوئی نہیں۔ سیاست فقط دائیں بازو کا کھیل بن کر رہ گئی ہے یا پھر سکڑتی ہوئی عوامی سیاست کا ڈرائننگ روموں کی جانب رجوع۔ کون ہے جو عوامی سیاست اور عوامی منشائوں کی تسکین کیلئے سامنے آئے؟ وگرنہ یہ کھیل چلتا رہے گا کہ نعرہ تو تبدیلی کا ہے لیکن اُن لوگوں کیساتھ مل کر جنہیں خود تبدیلی کا نشانہ بننا چاہئے یا پھرجو تبدیلی کے راستے میں حائل ہیں۔ عمران خان کے انقلابی نعروں کی سچائی کا بھرم تو شرفا کی بڑے پیمانے پر تحریکِ انصاف میں شمولیت سے ختم ہونا ہی تھا۔ کاش! وہ اُن کی بجائے غریب عوام سے رجوع کرتے تو شاید اُنہیں شارٹ کٹ اور سازش کی بیساکھیوں کی ضرورت نہ پڑتی۔ نغمۂ شادی نہ سہی، (اب) نغمۂ غم ہی سہی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں