آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اپوزیشن کی توپیں تنقید کے گولے برسا رہی ہیں ۔ان کا یہ کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی خارجہ محاذپر کارکردگی صفر بٹا صفر ہے جو سوائے مخالفت برائے مخالفت کےاور کچھ نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف اس بیرونی محاذ پر پوری جاں فشانی کے ساتھ عوامی مفاد پر مبنی ایجنڈے کی تکمیل کی تگ و دو میں دن رات مصروف ہیں۔ایک طرف انھوں نےچین سےا قتصادی راہداری کا تاریخی معاہدہ کرکے نئی تاریخ رقم کی ہے تو دوسری طرف روس سے بھی تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مخاصمت پر مبنی پاک روس تعلقات کی برف کیونکر پگھلی ؟کونسے ایسے حالات تھے جن کی وجہ سے ماضی میں پاکستان کی بقا کا دشمن آج اس کا دوست بن گیا ہے۔اس کیلئے بھارت روس تعلقات کا جائزہ لینا ہوگا۔ اور یہ کہ روس کا پاکستان کی طرف جھکائو خوا ہ مخواہ ہرگزنہیں۔ ماہرین کو یقین ہے کہ خطے میں چین ،پاکستان دو اہم ترین پارٹنر ثابت ہوں گے کیونکہ دونوں کے درمیان دوستی اور اعتماد کا رشتہ انتہائی مضبوط ہے جس میں دراڑ ڈالنا ناممکن ہے۔خطے میں موجود دو بڑے طاقتور ممالک انڈیا اور روس پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک کے مابین تعلقات میں تیز ترین تبدیلی وقوع پذیرہورہی ہے۔گزشتہ تین دہائیوں سےسیاسی، سماجی،اقتصادی اور دفاعی میدان

میںروس نے بھارت کا خوب ساتھ دیااور یہ سلسلہ سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد بھی جاری رہا ۔ موجودہ صورتحال میںامریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے روس کی اقتصادی حالت بہت کمزور ہے۔ بھارت کو بھاری مقدار میںاسلحہ کی فروخت روس کی آمدنی کا بڑا حصہ تھی ۔ انڈیا نے جب مگ35ایم آئی26ہیلی کاپٹراور میزاٗئل سسٹم کو نظر انداز کیا اور جدید اسلحہ اور دفاعی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے یورپ اور امریکہ سے معاہدے کئے تو روسی حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی اور اسے شدید ترین سیاسی مایوسی اور اقتصادی جھٹکا لگا۔اگرچہ انڈین نیوی ابھی تک مجموعی طور پر روسی ٹیکنالوجی پر انحصار کررہی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتاہے کہ انڈیا مستقبل میں اس سے بھی چھٹکارا پالے گا۔ اشاریے بتا رہے ہیں کہ انڈیا روس اقتصادی میزانیہ کا حجم کمی کی طرف مائل ہے ۔ بھارت کے امریکہ اور یورپی یونین کی طرف جھکائو نے ہی روس کو اپنی خارجہ پالیسی بدلنے پر مجبور کیا۔اس لئے اس نے اپنے کارڈز دوبارہ ترتیب دئیے ہیں اور اس خطے کے سب سے اہم ترین اسٹیک ہولڈر پاکستان سے رجوع کرنے کا سوچا۔دوسری طرف پاکستانی حکومت کی طرف سے وسط ایشیائی ریاستوں سے کاروباری اور سیاسی تعلقات کے فروغ کیلئے سنجیدہ اور ٹھوس رابطوں سے بھی روس پر دبائو بڑھا اور وہ اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔اس کے بعد ہی روس اور پاکستان کے درمیان ایم آئی 35 ہیلی کاپٹروں کاسمجھوتہ بھی ہوا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے راستے کھل گئے ۔ روس کے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ روس پاکستان کو ایس یو 27 طیارے سمیت جوبھی دفاعی اسلحہ لینا چا ہے اسے مل جائیگا۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ روس جے ایف تھنڈر ائیر کرافٹ کے فلیٹ کو مکمل کرنے کیلئے براہ راست تعلقات بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔دونوں ممالک کے مابین دو ارب ڈالر لاگت کاگیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ بھی اسی پالیسی کے تحت ممکن ہوا ۔گیارہ سو کلومیٹر گیس پائپ لائن روسی گیس کو کراچی میں تعمیر کردہ ٹرمینلز سے لاہور تک منتقل کرے گی ۔ بعد ازاں چین بھی اس پروجیکٹ میں شامل ہوجائے گا۔یہ اتنا بڑا اقتصادی منصوبہ ہے کہ پنجاب کی صنعتی بیس میں انقلاب برپا ہو جائیگا ۔ اور یہ کام اس لئے ہورہا ہے کہ اس وقت وفاقی اور پنجاب کی سیاسی قیادت اس میگا پروجیکٹ پر کام کو آگے بڑھانے میںبہت سنجیدہ ہیں۔ پاکستان سے تعلقات پر نظر ثانی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اس خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے اورامریکی اثر گھٹانا چاہتا ہے ۔اگر روس سڑک یا ریل کے ذریعے کاشغر کواقتصادی راہداری سے جوڑنے میں کامیاب ہوگیا تو وہ بھی گوادر پورٹ کی نعمتوں سے فیضاب ہوسکے گا۔یعنی وہ بحر ہند اور بحیرہ عرب تک محفوظ رسائی حاصل کرپائے گا۔یہی وہ بڑا اور عظیم نقطہ تھا جس نے روس کو پاکستان کی طرف دوستانہ ہاتھ بڑھانے پر مجبو ر کردیا۔ایک اور پہلو جس پر روسی اقتصادی منیجرز کام کررہے ہیں کہ ایران اور افغانستان کو بھی اسلحہ فراہم کیا جائے تاکہ خطے میںاپنی موجودگی کو برقرار رکھا جاسکے۔پہلا موقع ہے کہ چین، پاکستان اور روس کے مابین ہونے والے تمام حالیہ معاہدوں پر کوئی کھلی مخالفت سامنے نہ آئی کیونکہ چین اور روس سپر پاور تو ہیں اور امریکہ بہر حال ان دونوں طاقتوں کی مخالفت بوجوہ مول نہیں لینا چاہتا ہے ۔البتہ دوسری طرف پاکستان اور روس کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے بھارت میں کھلبلی کا سا سماں ہے۔اقتصادی راہداری اور روس سے معاہدوں پر بھارت کی پریشانی تو قابل فہم ہے لیکن اقتصادی راہداری پر پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے مخالفت بالکل ہی بلاجواز اور بے محل ہے۔
ہر معاملے پر تحریک انصاف کی طرف سے یہ دعوے کرنا کہ ہم تحقیقات کے بعدکرپشن کے ثبوت پیش کریں گے۔ سچ بولنے کا وعدہ کرنے والے نے سیاسی غیر سیاسی اتنے جھوٹ بو لےکہ عوام نے انھیں جھوٹ بولنے اور الزام لگانے کا آسکر ایوارڈ دے دیا ہے۔لاہور اور اوکاڑہ میں شکست کے بعد عمران خان نے ایک بار پھر دھاندلی کا شور مچانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بلدیاتی انتخابات میں شکست فاش کے بعد تحریک انصاف کے غبارے میں سے ہوا نکل چکی ہے ۔لودھراں کے انتخاب میں بھی پی ٹی آئی کو شکست ہوگی۔انھیں یہ جان لینا چاہئے کہ عوام کو تبدیلی اور نئے پاکستان کے جھوٹے لولی پاپ دیکر مزید بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا ۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی شبانہ روز کاوش اورنج ٹرین بھی عوام کیلئے سہولت کا نیا دروازہ کھولے گی۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرپنجاب کی قیادت میاں محمد شہباز شریف نہ کررہے ہوتے تو کیا ایسا ہونا ممکن تھا؟بیک وقت روس اور چین کے ساتھ اشتراکی معاہدے کرنا بیرونی محاذ پر وفاقی حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔سیاسی قیادت اور عسکری قیادت نے ہرمحاذ پر ایک پیج پر رہتے ہوئے جو فیصلے کئے ہیں تاریخ میں انھیں سنہری الفاظ میں لکھا جائیگا۔ان معاہدوں کی تکمیل کے بعد یقینی طور پر عوام یہ دیکھ لیں گے کہ یہ ہے نیا پاکستان۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں