آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ماضی قریب میں حصولِ تعلیم کتنا سادہ اور آسان معاملہ تھا اور اب کتنا پیچیدہ اور مشکل بنا دیا گیا ہے۔ کیا روح پرور تعلیمی ماحول تھا جو آج گرانبار ہو چکا ہے۔ کیسے فرشتہ شمائل اساتذہ ہوا کرتے تھے اور نہ جانے ان سانچوں کا کیا ہو ا جن میں ڈھل کے وہ ہمارا مقدر بنے تھے۔ اُن انجمنوں کا وجود کہاں اور کیونکر ناپید ہوا جن کے تحت ہر محلے میں ایک دو سرکاری یا انجمنوں کے اسکول ذریعۂ تعلیم ہوا کرتے تھے۔ تیزی سے بڑھتی آبادی کی ضروریات کے پیش نظر ایسے مزید تعلیمی اداروں کے عدمِ قیام کی کہانی ایک طرف، پرائمری تعلیم فراہم کرنے والے ان ا سکولوں کی جگہ اب پلازوں، فوڈ ا سٹریٹس اور رہائشی عمارتوں نے لے لی ہے۔ یہ پہلو کسی نوحہ سے کم نہیں ۔ ایسے اسکولوں کی بجائے ہر جانب کمرشل بنیادوں پر قائم پرائیویٹ استحصالی اسکول منہ کھولے پائے جاتے ہیں۔ سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک کے خوف سے والدین فرلانگ بھر فاصلے پر بھی رہتے ہوئے بچوں کو اسکول سواری کا انتظام کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ تعلیمی نظام اور اقدار کے حوالے سے موجودہ دور کو سامنے رکھتے ہوئے وہ گزرا زمانہ یاد کر کے دل سے آہ نکلتی ہے۔ جب ہم ابتدائی تعلیمی مراحل سے گزر رہے تھے۔ صبح سویرے تیار ہو کر کتابوں سے بھرے بستے کی پٹی سر سے گزار، بائیں شانے پر ڈال اور دائیں بغل میں بستہ لے کر

ٹولیوں کی صورت میں دو میل سفر کر کے ا سکول پہنچنا آج بھی یاد ہے۔ اسکول میں داخل ہوتے ہی پی ٹی ماسٹر صاحب کا ہم سب کو میدان میں اکٹھا کر کے دس منٹ تک جسمانی ورزش کے عمل سے گزارنا اور پھر ہمارا چیونٹیوں جیسی بے خلل قطار کی صورت میں اسکول کے صحن میں داخل ہونا جہاں پُروقار انداز میں کھڑے اور گہری نظروں سے دیکھتے ہیڈ ماسٹر افضل خاں صاحب کی نظر سے گزرنا۔ واللہ علم وہ اس وقت پچاس کے پیٹے میں ہوں گے یا ساٹھ کے، ہمیں تو ساری دُنیا کی بزرگی اُنہیں کی ذات میں سموئی ہوئی محسوس ہوتی تھی اور وہی ہمارے نزدیک علم و فضل کی علامت تھے۔ اسکول کے فرشِ صحن سے لے کر درودیوار اور کلاس روم تک صفائی کا وہ عالم کہ زورِ قلم تصویر کشی سے عاجز ۔ اسکول کو اپنے احاطے میں لئے خاموشی کا ایسا ماحول جسے انگریزی محاورے میں ’’پن ڈراپ سائلنس‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اور اس گہری خاموشی کا سینہ چیرتی ماسٹر خواجہ نواز صاحب کے لیکچر کی پاٹ دار آواز……قومی ہائی اسکول سیالکوٹ، ماہانہ فیس مبلغ 2 روپے 8آنے۔ ہر استاد جیسے خدا نے اُسے آسمان سے خصوصی طور پر تعلیم دینے ہی کی خاطر اُتارا ہو۔ دہلی اُجڑنے کے سبب خدائے سخن میر تقی میر نےؔلکھنؤ کی مہاجرت کے زمانے میں احباب کو یاد کر کے شعر کہا ہم یہاں اُن سے مستعار لیتے ہیں:
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
میرؔ صاحب کو اپنی دلّی واپسی پر وہ صورتیں دوبارہ نظر آ گئیں لیکن خاکسار تو اپنی جنم بھومی جا کر اُن اساتذہ کے نقش پا ہی ڈھونڈتا پھرتا ہے۔
کیا لوگ تھے جو راہِ جہاں سے گزر گئے
جی چاہتا ہے نقشِ قدم چومتے چلئے
تعلیم کے حوالے سے سامنے پھیلے منظر کو دیکھ کر دِل ویران خانے میں بدل جاتا ہے۔ کیپٹل ازم نے فرد کو معیارِ زندگی کے دائرے میں مقابلے اور مسابقت کی مجنونانہ دور میں لگا کر جہاں تمام شعبۂ ہائے زندگی میں انحطاط و زوال کی مہر ثبت کی ہے وہیں استاد کو اُستاد رہنے دیا ہے نہ تعلیم کو تعلیم۔ سب کمرشل ازم کے ہاتھوں مسخ ہو چکا، اُس پر طرئہ یہ کہ تعلیم کے سلسلے میں ریاست نے گویا اپنے ہاتھ کھڑے کر رکھے ہیں۔ اس ریاستی طرزِ عمل نے ا سکول مافیا، افسر شاہی اور گھوسٹ اساتذہ کو معاشرے میں کھل کھیلنے کا موقع فراہم کر رکھا ہے جس سے ان کی ملی بھگت کی بنا پر سرکاری اسکولوں کا نظام برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ گزشتہ تیس برسوں سے جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی آبادیوں میں اوّل تو سرکاری ا سکولوں کا وجود ہی ناپید ہے اور کہیں ہے بھی تو مویشی باندھنے کی حویلیوں کا نقشہ بن کر رہ گئے ہیںجبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ایسے ا سکولوں میں تعلیم و معلم کے سلسلے جاری دکھائی جاتے ہیں اور ہر ماہ حکومتی خزانے سے عملے کی تنخواہیں باقاعدگی سے جاری ہوتی ہیں جو اُس علاقے کے صوبائی اور قومی سطح پر نمائندوں کے کوٹہ پر بھرتی ہوئے گھوسٹ اساتذہ حاصل کرتے ہیںجس کا کچھ محکمہ تعلیم کے سرکاری افسران کی جیبوں میں بھی جاتا ہے۔ اس گھنائونے کھیل کے نتیجے میں خواندگی کی شرح خطرناک حد تک نیچے آ گئی ہے۔ غربت اور جہالت کی دلدل میں پھنسے انہی ناخواندہ لوگوں سے دہشت گردی کی بھٹی بھڑکانے والوں کو ایندھن حاصل ہو رہا ہے۔
تعلیم کے شعبہ سے ریاست کی عدم توجہی دراصل عوام کے آئینی حقوق کے سراسر منافی ہے کیونکہ آئین کا آرٹیکل نمبر9 ریاست کے ہر فرد کو زندگی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ فرد کی زندگی حیوانی اور انسانی دو پہلوئوں کا مرکب ہے لہٰذا ریاست جہاں فرد کی حیوانی زندگی کے تحفظ کی ذمہ دار ہے وہیں اُس کی ذات کے انسانی پہلوئوں کے سلسلے میں بھی مکمل جواب دہ ہے یعنی فرد کو انسان کے شایانِ شان زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اس ضمن میں چونکہ تعلیم ہی وہ بنیادی عنصر ہے جس سے انسان اپنے روحانی دائرے میں ترقی کے زینے طے کرتا ہے اور اُس کی شخصیت پروان چڑھتی ہے۔ بہتر معاشرے کا دارومدار بہتر فرد پر ہوتا ہے۔ جرمن فلسفی ہیگل کا کہنابالکل درست ہے کہ تعلیم ہی وہ اولین شرط ہے جو انسانی اور حیوانی متضاد پہلوئوں کے مجموعہ انسان کو اچھے فرد میں تبدیل کرنے کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔
ہمارے ملک میں ناقص اور استحصالی نظامِ تعلیم کی وجہ سے متوسط اور انتہائی کم آمدنی والے خاندانوں کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کر پائیں جس کے باعث ہر سال لاکھوں معصوم بچےا سکول جانے کی عمر کو پہنچ جانے کے باوجود سرکاری ا سکولوں کی کمیابی اور زبوںحالی نیز پرائیویٹ اسکولوں کی بھاری فیسیں ادا نہ کرپانے کے باعث اسکول جانے سے قاصر رہ جاتے ہیں، جس سے ناخواندہ بچوں کی تعداد اب مملکت خداداد پاکستان میں کروڑوں کے ہندسے چھو رہی ہے۔ ٹھٹھرتی سردی اور گرم موسموں کے حبس اور لُو میں اشاروں پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے اور غبارے بیچتے بچے دیکھ کر دھیان بیدل حیدری کے ان اشعار کی طرف پھر جاتا ہے۔
بھوک چہروں پہ لئے چاند سے پیارےبچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
ان فضائوں سے تو بارود کی بُو آتی ہے
ان فضائوں میں تو مر جائیں گے سارے بچے



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں