آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آپ ایک سیاسی نظام میں رویوںکو کیسے تبدیل کرتے ہیںجب حکمران اشرافیہ تمام اختیارات کو اپنے بس میں کرتے ہوئے جمہوری اقدار کی قیمت پر محض اپنے مفادات کے تعاقب میں ہو؟ شریف برادران کو کیسے قائل کیا جائے کہ وہ اس انداز میں حکمرانی کریں کہ جمہوریت اور آمریت کے درمیان فرق ڈالنے والی لکیر گڈ مڈ نہ ہونے پائے ؟ ہماری جمہوری تاریخ کے داغدار ہونے کی ایک وضاحت یہ ہے کہ منتخب شدہ حکومتوں کے روا رکھے جانے والے اصول جمہوریت اور آمریت کو ناقابل ِ امتیاز بنا دیتے ہیں۔ جمہوریت کے ثمرات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوتے ، منتخب شدہ حکومتیں عوام کو بااختیار بنانے میںکوئی دلچسپی نہیں رکھتیں، اور نہ ہی عوام کے وسائل کی نگرانی کرنے اور عوام کی ہی حمایت سے طاقت اور اختیار حاصل کرنے والوںکے احتساب کے لئے کوئی بامعانی اور فعال نظام قائم کرتی ہیں۔ اگر اشرافیہ کے ایک محدود گروہ نے ہی حکومت کرنی ہے تو، چاہے وہ منتخب شدہ ہو یا غیر منتخب شدہ، کیا عوام کی جمہوریت سے وابستگی بڑھے گی؟
کیا تیسری مدت کے لئے اقتدار پر فائز موجودہ وزیرِاعظم اپنی 90 کی دہائی کی دوسری یا پہلی مدت سے مختلف ہیں؟90 کی دہائی میں پی ایم ایل (ن) اور پی پی پی متعددبار ایک دوسرے کوزک پہنچانے کے بعد تیرہویں ترمیم پر متفق ہوگئیں اور آرٹیکل 58(2)(b) ( جو صدر کو اسمبلی

تحلیل کرنے کا اختیار دیتا تھا)کو ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد چودہویں آئینی ترمیم آئی، جسے پارلیمنٹ نے منظور کیا جس میں پی ایم ایل (ن) کو دوتہائی اکثریت حاصل تھی۔ اس ترمیم نے ارکان ِ پارلیمنٹ کے ہاتھ باندھ دئیے ۔ وہ پارٹی لائن سے ہٹ کر اپنے نظریات اور ضمیر کے مطابق ووٹ نہیں دے سکتے تھے ۔ اس ترمیم نے ارکان کو ایک طرح سے زنجیروں میں جکڑ لیا۔ اس ترمیم کا آج کے معروضی حالات میں جائزہ لیں۔ فرض کریںپی ایم ایل (ن) کے ارکان ِ اسمبلی کی اکثریت سمجھتی ہے کہ پاناما اسکینڈل پر اُن کے قائد نوازشریف کی وضاحت محض ایک جھوٹ ہے (چاہے عدالت اُنہیں سزانہ بھی دے)، لیکن وہ نواز شریف صاحب کو کچھ نہیں کہہ سکتے ، سوائے اس کے کہ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کرتے ہوئے وہ اپنی نشستوںسے مستعفی ہوجائیں۔ اگر نواز شریف بطور ایم این اے اور وزیر ِاعظم کے عہدے کے لئے نااہل ہوبھی جائیں تو بھی وہ پارٹی کے قائد رہیں گے ، چنانچہ پی ایم ایل (ن) سے تعلق رکھنے والے ارکان ِ قومی اسمبلی موجودہ مدت کے دوران اُن کے تابع ہوںگے ۔ صرف یہی نہیں، 2018 ء کے عام انتخابات کے لئے پارٹی ٹکٹ بھی اُنہی کی منشا سے جاری ہوں گے۔
اس کے بعد جلدی سے مشرف دور کے بعد کا صفحہ پلٹیں۔ تمام پارٹی سربراہان اس بات پر متفق تھے کہ سیاسی جماعتوں میں جمہوری اقدار (جو اصل جمہوریت کی روح ہیں)اٹھارویں ترمیم کے طے شدہ درجے کو نہ چھونے پائیں۔ چنانچہ سیاسی جماعتیں فرد ِ واحد کے گرد ہی گھومتی ہیں۔ قانون ارکان ِ پارلیمنٹ کو پارٹی لائن سے ہٹنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے باوجود شاید ہی کوئی ایسی قانون سازی ہوجس کے لئے آرڈیننس کا سہارا نہ لیا جائے اور پھر اسے بغیر کسی بحث کے پارلیمنٹ سے منظور کرالیا جائے ۔ کیا پارلیمنٹ کے وجود کا مقصد قانون سازی کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے ؟اٹھاوریں ترمیم کے بعد آئین کا آرٹیکل 140A صوبوں کو مقامی حکومت کے قیام اور ’’سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار منتخب شدہ نمائندوں کے سپرد کرنے ‘‘ کا پابندبناتاہے ۔ درحقیقت یہ بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے ڈالا گیا مسلسل دبائو تھا جس کی وجہ سے تمام صوبوں، بشمول پنجاب، کو مقامی حکومتوں کے لئے بادل ِ ناخواستہ قانون سازی کرنا پڑی ۔ اور عین جس وقت مقامی حکومتیں اختیار سنبھالنے والی تھیں، پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے پنجاب سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس 2016 ء کے ذریعے واپسی کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے کمشنری نظام کو بحال کردیا ۔ مقامی حکومت کا کوئی قانون بھی مقامی حکومتوںکو سیاسی ، انتظامی یا مالی اختیار تفویض نہیں کرتا۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بجائے ان قوانین کے تحت وضع کیے گئے ضابطوں کو صوبائی حکومتیں استعمال کرتے ہوئے مزید اختیار ات اپنے تصرف میں لے رہی ہیں۔ تاہم پنجاب میں سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس کو استعمال کرتے ہوئے پی ایم ایل (ن) اس بات کا بھی تکلف نہیں کررہی۔ اس نے مالی اور انتظامی اختیارات ڈی سی اور کمشنروں کے سپر د کردئیے ہیں، جو اضلاع اور ڈویژنز کی نگرانی کریں گے جبکہ منتخب شدہ مقامی حکومتیں کلبوں یا احاطوںمیں بیٹھ کر بے مقصد بحث مباحثوں میں مصروف رہیں گی ۔
ایک اور پیش رفت جو ظاہر کرتی ہے کہ 90 کی دہائی کے شریف حکمران واپس آچکے ہیں، وہ رولز آف بزنس میں کی جانے والی حالیہ تبدیلی ہے ۔ اس تبدیلی کی پی ایم ایل (ن) کے وزرا جو بھی بے سروپاوضاحتیں دیتے رہیں، نواز شریف صاحب نے کم از کم اُن صحافیوں کو کھل کر بتادیا جو اُن کے ساتھ حالیہ دنوں بوسینا کے دورے پر گئے تھے کہ یہ ریگولیٹرز صرف نجی شعبے کوریگولیٹ کرنے کے لئے تھے لیکن اُنھوںنے حکومت کو بھی ریگولیٹ کرنا شروع کردیا۔ چنانچہ ان کے پر کاٹنا ضروری ہوگیا تھا ۔ تو پارلیمنٹ کو غیر اہم بنانے، مقامی حکومتوںکو بے اثر اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے پر کاٹنے والے اقدامات کا تمام اختیارات اپنے ہاتھ رکھنے والی اشرافیہ پر کیا اثر ہوگا؟ یقینا ان کے اختیار میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ اگر انسان حکمران طبقے کی بابت حسن ِ ظن رکھتے ہوئے ان اقدامات کو منفی نہ سمجھے تو بھی یہ ضرور دکھائی دیتا ہے کہ یہ 2018 ء کے عام انتخابات سے پہلے تمام اختیارات کو اپنی مٹھی میں لینے کی ایک کوشش ہے ۔
اب اس دلیل پر غور کریں کہ جب طاقت اور اختیار بدعنوانی اور زیادہ اختیار زیادہ بدعنوانی کا موجب بنتا ہو تو کیا جمہوریت کی بہترین خدمت اختیار کی تقسیم نہیں ؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ بشری خامیوں پر قابو پانے کے لئے افراد اپنے اختیارات اداروں کو منتقل کردیں؟ دوسرے الفاظ میں جمہوریت انتہائی باصلاحیت اور فوج کی طرح منظم نظام کا وعدہ نہیں کرتی ، لیکن یہ اتفاق ِرائے سے فیصلہ سازی، شفافیت، احتساب اور قانون سازی کو یقینی بناتی ہے ۔ لیکن جب جمہوریت کے چیمپئن آمریت کو حاصل اختیارات کے لئے باہم دست وگریبان دکھائی دیں تو پھر عوام کے سامنے کیا راستہ ہے ؟اس وقت شریف برادران ایسی ہی جمہوریت کے چیمپئن بن کر میدان میں ہیں۔ پاکستانی عوام نے انہیں پانچ سال تک حکومت کرنے کاا ختیار دیا تھا ۔
توکیا ان پانچ برسوں میں وہ ریاستی اختیار اور وسائل استعمال میں لانے کے لئے آزاد ہوں ، اور کوئی طاقت اُن کاہاتھ نہ روکے؟ پانچ سال بعد پھر عوام کے پا س حق ہوگا کہ وہ انہیں ووٹ دیتے یا نہیں ۔ اگر عوام کو شریف برادران کا طرز ِعمل اورانداز ِحکمرانی پسند نہیں تو وہ کسی اورکو ووٹ دے سکتے ہیں۔ درست، توکیا پاکستانی جمہوریت پانچ سال تک بلاخوف خطر کھیلنے اور لوٹ مار کرنے کااختیار حاصل کرنے کا نام ہے؟ کیا عوام پانچ سال تک سوتے رہیں کہ اُنھوںنے ووٹ دے دیا ہے اور اب وہ عام انتخابات کے موقع پر اپنا حق استعمال کریں گے ؟
دراصل ہمارے ہاں رائج شخصی جمہوریت کا یہ تصور قانون کی حکمرانی، آئین کی بالا دستی اورافراد کی بجائے اداروں اور نچلی سطح تک اختیارات کی تقسیم کو یقینی بنانے والی جمہوریت کے برعکس ہے ۔ 2013 ء میں پی ایم ایل (ن) کو مرکز، پنجاب اور بلوچستان میں ووٹ ملے ۔ اس طرح انہیں دوصوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کو قائم کرنے اور عوام کو بااختیار بنانے کا حقیقی موقع ملا۔لیکن اس کی بجائے اُنھوں نے مقامی حکومتوں کے تصور کو سبوتاژ کرنے کے حربے سوچنا شروع کردئیے ۔ موجودہ حربہ، پنجاب سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس اس بات کو یقینی بنائے گا کہ 2018 ء کے عام انتخابات کے وقت تمام اضلاع ڈی سی اوز کے کنٹرول میں ہوں، جو خود سی ایم آفس کے کنٹرول میں ہوں۔ پی ایم ایل (ن) کے پاس ریگولیٹری باڈیزمیں ماہرین کو تعینات کرنے اور ان کی کارکردگی بڑھانے اور عوام کو فائدہ پہنچانے کا موقع تھالیکن اُنھوںنے ان باڈیز کی فعالیت پر ہی قلم پھیر دیا۔ کیا اس کے بعد بھی کسی کے پاس حسن ِظن رکھنے کا جواز باقی ہے کہ شریف برادران اداروں اورجمہوریت کو تقویت دینا چاہتے ہیں؟ کیا وہ اداروں کی بجائے افراد کو مضبوط نہیں کررہے ؟کیا یہ آمرانہ رویے مزید مفاد ات سمیٹنے کے لئے ہیں؟ایسا لگتا ہے کہ 90 کی دہائی میں جو تجربات حاصل ہوئے تھے ، اختیار اُن پر تیزی سے پانی پھیر رہا ہے۔ تو کیا ہماری جمہوریت لے دے کے یہی رہ گئی ہے کہ تنزلی کی دوڑ میں کون آگے نکلتا ہے؟


.

ادارتی صفحہ سے مزید