آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ16؍ ذیقعد 1440 ھ 20؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ اتحاد مسلم امہ کے لئے کس قدر ناگزیر ہے؟ اس پر تبصرے اور تجزیے سے قبل یہ جانیں کہ 15؍ دسمبر 2015ء کو سعودی عرب نے 34 رکنی فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا۔ اس فوجی اتحاد کے قیام کا مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف بھرپورطریقے سے نمٹنا اور مقابلہ کرنا ہے۔ اس اتحاد میں سعودی عرب کے علاوہ مصر، بحرین، اردن، کویت، لبنان، لیبیا، ملائشیا، اومان، پاکستان، فلسطین، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات، یمن، بنگلہ دیش، بینن، چاڈ، کوموروس، ایوری کوسٹ، جبوتی، اریٹیریا، گبون، گونیا، مالدیپ، مالی، موریطانیہ، مراکو، نائیجر، نائیجریا، سینیگال، سیری لیون، صومالیہ، سوڈان، ٹوگو اورتونسیا شامل ہیں۔انڈونیشیاسمیت دیگر دس مزید ممالک اس اتحاد میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔ اب تک 39ممالک اس اتحاد میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگر یہ الائنس عملی طور پر تشکیل پاجاتا ہے تو یہ اسلامی دنیا کا سب سے بڑا اتحاد ہوگا جس میں 39ممالک شامل ہوں گے۔اسلامی دنیا کے سربراہ ملک سعودی عرب کی اس کاوش کو سنہری حروف میں لکھا جانا چاہیے کہ ایک ایسے وقت میں جب امت مسلمہ باری باری کفار کا ہدف ٹھہرچکی ہے۔ جب اختلافات، انتشار اور فساد نے پوری امت کو تتربتر کر کے رکھ دیا ہے ان حالات میں سعودی عرب کا 39 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد تشکیل دینا باعث فخر بھی ہے

اور وقت کی ضرورت بھی۔ اس اسلامی فوجی اتحاد کی اہمیت اور ضرورت سے کسی مسلم کوانکار ممکن نہیں کہ موریطانیہ سے لے کر انڈونیشیا تک اور ترکی سے لے کراومان اور قازقستان تک دہشت گردی اور انتہا پسندی نے امت محمدی کو غمناک کر رکھا ہے حتیٰ کہ مرکز اسلام سعودی عرب تک اس دہشت و بربریت سے محفوظ نہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف اس فوجی اتحاد میں پاکستان کا کردار سب سے اہم ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ، پاکستان گزشتہ 26 برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستان نے اس جنگ میں ایک لاکھ سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاک فوج کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اچھا خاصا تجربہ ہے۔ آپریشن کلین اپ سے لے کر آپریشن خیبر، آپریشن راہ نجات، آپریشن، آپریشن امید نو اور آپریشن ضرب عضب کے ذریعے پاک فوج نے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ یہ دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشت گردی جیسی مشکل جنگ میں مثالی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ دنیا میں سب سے مشکل جنگ دہشت گردی کے خلاف جنگ کہلاتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں دشمن سامنے نہیں ہوتا، یہ چھپ کر وار کرتا ہے۔ یہ کسی مخصوص علاقے تک بھی محدود نہیں ہوتی۔ دہشت گردوں کا کوئی مخصوص علاقہ نہیں ہوتا۔ یہ پورے ملک میں پھیلے ہوتے ہیں۔ یہ عام آدمی کے روپ میں حملہ آور ہوتے ہیں اور ریاستی اداروں کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا یہ خود کش بمبار کس طرح حملہ کرتے ہیں؟ آپ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے ایک شخص بارود سے بھری جیکٹ زیب تن کیے حملہ کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ پہلے سے مرنے کے لئے تیار ہے۔ آپ اس کو کیسے روک سکتے ہیں؟ دنیا میں موت سے بڑھ کر کوئی خوف نہیں اور جو شخص جان ہتھیلی پر رکھ کر حملے کے لئے تیار ہو جائے، آپ اس کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ لیکن پاک فوج نے ان خود کش بمباروں اور ان کے سہولت کاروں کونہ صرف ناکوں چنے چبوادئیے، بلکہ ان کا قلع قمع کردیا۔یہ دنیا میں کسی بھی فوج کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ دوسری وجہ، پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فوج پاکستان کی ہے۔ دنیا کے سب سے مشکل محاذ پر جنگی کامیابیوں کا سہرا بھی اسی پاک فوج کے سر ہے، لہٰذا یہ دو بڑی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے 39ملکی اس اسلامی اتحاد میں پاکستان کی اہمیت دوچند ہے۔ آپ کی معلومات کے لئے عرض ہے گزشتہ 26 برسوں میں عالم کفر کے 22 فوجی اتحاد سامنے آئے۔ 1990ء کی خلیج جنگ میں کویت کو بچانے اور عراق کو ملیا میٹ کرنے کے لئے 32ممالک کا اتحاد بنا۔ 1992ء میں کروشیا کی جنگ آزادی میں 42 ممالک پر مشتمل اتحاد تشکیل پایا۔ 1995ء میں کروشیا کی بحالی کے لئے اقوام متحدہ کا 20رکنی اتحاد عمل میں آیا۔1992ء میں بوسنیا کی جنگ میں اقوام متحدہ کی پروٹیکشن فورس کے نام پر 42 ممالک کا اتحاد دیکھا گیا۔ 1993ء میں بوسنیا ہرزگوینا میں آپریشن ڈینی فلائٹ کے نام پر 13ممالک کا اتحاد سامنے آیا۔ 1995ء میں اسی بوسنیا ہرزگوینا میں آپریشن ڈی لبیریٹ کے نام پر 14ممالک کا اتحاد عمل میں آیا۔ 1996ء میں اسی بوسنیا ہرزگوینا کے خلاف 32ممالک کی ایمپلی مینٹیشن فورس تشکیل پائی اور 1996ء میں اسی بوسنیا ہرز گوینا کے خلاف 39ممالک پر مشتمل سٹیبلائزیشن فورس وجود پذیر ہوئی۔ 1996ء میں ہی شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن نامی 21رکنی تنظیم عمل میںآئی۔ یہ سیاسی، اقتصادی اور ملٹری الائنس تھا، یہ آج بھی برقرار ہے اور اس میں بھارت اور پاکستان حال میں شامل ہوئے ہیں۔ 2004ء میں ایک بار پھر بوسنیا ہرز گوینا میں یورپی یونین فورس التھیا تشکیل پائی۔ اس میں 26ممالک شامل تھے۔آپریشن میکڈونیا میں 42رکنی اقوام متحدہ پروٹیکشن فورس کا اتحاد سامنے آیا۔ پھر 1995ء میں مقدونیا میں ہی اقوام متحدہ کی پریوینیٹو ڈپلائمنٹ فورس کا قیام ہوا اور اس میں 27ممالک شامل تھے۔ 2001ء میں اسی مقدونیا میں آپریشن اسینشل ہار ویسٹ کے نام پر 28رکنی اتحاد بنا اور 2001ء میں ہی آپریشن امبر فوکس کے نام پر نیٹو اتحاد حرکت میں آ گیا۔ 2003ء میں مقدونیا میں آپریشن الائیڈ ہارمنی کے نام پر پھر نیٹو اتحاد سامنے آیا۔ 2003ء میں ہی مقدونیا میں سیکورٹی کے نام پر یورپی یونین فورس کا اتحاد دیکھنے میں آیا۔ 1998ء میں کوسوو جنگ میں یوگوسلاویہ کے خلاف 18رکنی نیٹو اتحاد بنا۔ 1999ء میں کوسوو فورس کے نام پر نیٹو کا 48 رکنی اتحاد تشکیل پایا۔ 2001ء میں افغان جنگ میں ایساف کا 52ممالک پر مشتمل اتحاد دنیا نے دیکھا۔ سیکورٹی کے نام پر نیٹو ممالک کا گٹھ جوڑ آج بھی قائم ہے۔ 2004ء سے 2011ء کے دوران عراق میں نیٹو ٹریننگ مشن کے نام پر 29 رکنی اتحاد بنا۔ 2003سے 2014ء کے دوران اقوام متحدہ کا 12رکنی اسسٹنٹ مشن نامی اتحاد رہا اور 2014ء میں اسلامک اسٹیٹ آف عراق وشام کے خلاف 26 ممالک پر مشتمل اتحاد عمل میں آیا۔ یہ ہے عالم کفر کے اتحاد اور ان میں سے ایک الائنس بھی ایسا نہیں جس میں مسلمان ممالک شامل نہ رہے ہوں۔ یہ بڑی عجیب بات ہے اگر کوئی اسلامی ملک اتنا بڑا قدم اٹھانے کی جسارت کر ہی بیٹھا ہے تو امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں اس اتحاد کو متنازع بنانے کی سازش کیوں کی جارہی ہے؟ کیا اس اتحاد کو عملی شکل سے محروم رکھنے کے پیچھے سامراجی قوتیں تو متحرک نہیں؟ ہم اس اتحاد اور اس کے سربراہ پر انگلی اٹھا کر اپنے ہی پائوں پر کلہاڑا چلا رہے ہیں۔ میرے خیال میں سی پیک منصوبہ اور یہ اتحاد پاکستان اور مسلم امہ کی قسمت بدل دے گا۔



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں