آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ رجب المرجب 1440ھ 23؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ومی معاملات کو طے کرتے وقت جذباتیت کو دوررکھ کر صرف دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے طے کیا جاتا ہے ۔ وطن عزیز کے گردوپیش میں جگہ جگہ بے یقینی کی موجودگی ہمارے خارجہ معاملات کو براہ راست متاثر کرنے کا آغاز کرچکی ہے ۔ اور اس صورت حال کو اپنے لئے عمومی سطح پر رکھنا پاکستان کے سامنے درپیش چیلنج ہے ۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کا دورہ بھارت اور اس کے بعد جاری شدہ اعلامیے کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے ۔
سردست یہ معاملہ کچے برتن کی مانند ہے مگر اس کچے برتن کو بھارت پکا کر کوئی نہ کوئی نیا ناٹک ضرور رچائے گا ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ برتن پکائی سے کتنا نزدیک ہے اور ہم کہاں کہاں اپنے برتن پکا سکتے ہیں ۔ عرب ملکوں میں گزشتہ چند برسوں سے پے درپے ایسے حالات منصہ شہود پر آتے چلے گئے کہ جن کے سدباب کی غرض سے پاکستان کی جانب دیکھنا شروع کر دیا گیا۔ پاکستان نے بجا طور پر اپنی حکمت عملی میں توازن قائم رکھا اور اسی توازن کے سبب سے ایک خلیجی ملک کے وزیر کا " نتائج" کے حوالے سے نامناسب بیان بھی سامنے آیا ۔ نریندرمودی کے 2015کے دورہ متحدہ عرب امارات کا مقصد بھارت کے لئے موجودہ صورت حال میں نئے مفادات کو تلاش کرنا تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ صاحبان ادراک جانتے ہیں کہ بھارت اپنے مفادات کو تو بڑھا سکتا ہے مگر ان کے مفادات کو بوجہ

پورا کرنا بھارت کے بس میں نہیں ہوگا لیکن اس سے قطعی نظر گزشتہ سال فروری میں متحدہ عرب امارات کے ایک شہزادے نے بھارت کا دورہ کیا اور موجودہ دورہ انہی معاملات کا تسلسل قرار پاتا ہے ۔
14اہم ترین نوعیت کے منصوبوں پر گفت وشنید کی جن میں Strategic Partnershipبھی شامل تھی ، خلیج میں بھارتی اثرورسوخ کی امکانی بڑھوتری کاسبب امریکہ میں آنے والے گزشتہ کچھ عرصے کے سیاسی واقعات بھی ہیں ۔ ایران سے امریکہ اور دیگر ممالک کے جوہری معاہدے نے خفگی کی صورتحال کو بڑھاوا دیا پھر امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مشرق وسطی کے حوالے سے جس نوعیت کے بیانات دیئے ان بیانات نے پریشانی کو مزید گہرا کر دیا۔ راقم نے 14 نومبر 2016کے مضمون " ٹرمپ کی خارجہ پالیسی"میں تحریر کیا تھا کہ Transtlantic Partnershipمعدوم ہو جائے گی اور ٹرمپ نے کردی ۔ لہذا وہ مشرق وسطی کے حوالے سے بھی کچھ کر سکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ ترکی، مصراور اسرائیل کی بنسبت خلیجی ریاستوں کے اعلیٰ حکام ماضی کی مانند امریکی صدر کی حلف برداری کی تقریب میں موجود نہیں تھے ۔ کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ روس اور چین سے براہ راست گفت وشنید کرکے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتی ہے ان کا یہ اندازہ درست ہے کہ ٹرمپ کی حکومت از سر نو ایران کے حوالے سے جارحانہ رویہ امریکہ حکمت عملی میں شامل کر دے گی مگر دوسری طرف یہ واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ امریکہ اور روس شام کے معاملے پر کسی حکمت عملی پر اتفاق کرنے کی جانب بڑھ سکتے ہیں ۔ اور روس ایسا اتفاق صرف اسی صورت میں کرے گا کہ بشارالاسدمنصب صدارت پر براجمان رہے اور یہ ایران کی بہت بڑی کامیابی ہو گی ۔ اسلئے مشرق وسطی میں قائم مملکت اپنے خارجہ تعلقات کو وسعت دے رہی ہے اور نظر بہرحال بار بار بھارت کی جانب بھی اُٹھ رہی ہے مگر بھارت شاید کوئی بہت بڑا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہے امریکہ کی کیفیت دوسری ہے وہ سرد جنگ کے بعد سے اکلوتی سپر پاور ہونے کے مزے لوٹ رہا ہے اور اسی طاقت کے نشے میں چور کچھ بھی کر گزرتا ہے ۔ مگر بھارت ایسے کسی امتیاز سے خواب میں بھی خالی ہے ۔ اور عرب میں عرب قومیت تصور کو بھی سلامتی سے جڑے معاملات میں بھارت کی فیصلہ کن حیثیت قطعاً قبول نہیں ہو گی۔ اگر خلیجی مملکتیں اس جانب بڑھیں تو داخلی طور پر نئے سنگین معاملات وہاں پر سر اٹھالینگے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو ان حالات میں کن اقدامات پر تکیہ کرنا چاہئے ۔ یہ معاملہ بالکل واضح ہے کہ مشرق وسطی میں سعودی عرب سے زیادہ اہمیت کا حامل کوئی دوسرا ملک موجود نہیں ہے سعودی عرب کی حیثیت مقامات مقدسہ کی موجودگی کے سبب سے مزید دوچند ہو جاتی ہے اور پاکستان کے سعودیہ عرب سے تعلقات بھی بہت گہرے ہیں ۔
پاکستان کی پارلیمنٹ سے گزشتہ کچھ عرصے سے یہ صدا بار بار گونج رہی ہے کہ اگر سعودی عرب کی قومی سلامتی کو کوئی خطرہ درپیش ہو ا تو پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے گریز نہیں کرے گا ۔ مشرق وسطی میں اپنی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لئے یہ بالکل درست حکمت عملی ہے لیکن یہ معاملہ صرف بیانات کی حد تک نہیں ہونا چاہئے بلکہ پاکستان کو اس حوالے سے سعودی عرب سے بات چیت شروع کر دینی چاہئے اور ایک جامع سلامتی کے معاہدے کے نکات کو طے کر کے اس پر دستخط کردینے چاہئیں۔
برادرعرب ملک پاکستان کی بنسبت بہت بڑا دفاعی بجٹ رکھتا ہے اگر وہ اس معاہدے کی صورت میں پاکستان میں کل دفاعی بجٹ سے دوگنا بھی ادا کرنے پر راضی ہو جائے تو دونوں کی مشکلات رفع ہو سکتی ہیں ۔ اگر پاکستان برادر ملک سے کسی باقاعدہ سلامتی کے معاہدے میں آجاتا ہے تو ایسی صورت میں مشرق وسطی بالخصوص خلیج کی دیگر ریاستوں کے لئے کسی اور ملک سے پاکستان کی قیمت پر پینگیں بڑھانے کی خواہش رکھنا عبث ہو جائے گا۔ اور ہم کسی بدمزگی سے بچتے ہوئے اپنے دشمن کو دور کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے ۔



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں