آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جس دن جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو ان کے مدرسہ جامعہ القادسیہ میں نظر بند کیا گیا اُسی سہ پہر لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں انہوں نے چند صحافی اور کالم نگاروں سے ایک نشست رکھی تھی اس موقع پر انہوں نے کشمیر کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار تفصیل سے کیا۔ حافظ سعید نے بتایا کہ 8 جولائی 2016ء سے لیکر اب تک 117نہتے کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جبکہ 1390کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے ہیں ان میں بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ پیلٹ گن سے زخمی افراد کی تعداد 7500 ہے مجموعی طور پر 16ہزار 700کشمیریوں کو تشدد اور فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اور تقریباً 11ہزار7سو 62کشمیری مسلمان پابند سلاسل کیے جا چکے ہیں۔پی ایس اے قانون کے تحت 961کشمیریوں کو نظر بند کیا گیا ہے جن میں 90سالہ بزرگ اور 5سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ 65090کشمیری مسلمانوں کی املاک جلا دی گئی ہیں یا انہیں نیست ونابود کر دیا گیا ہے۔51اسکولز مکمل طور پر نذر آتش کیے گئے جبکہ 3561کشمیری خواتین سے بدسلوکی اور بدتمیزی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری مجاہد برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں جنگ آزادی نے شدت اختیار کی اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برہان وانی کی شہادت نے تمام کشمیریوں کو اس بات پر متفق کر دیا ہے کہ ہم نہ

صرف بھارت سے آزادی چاہتے ہیں بلکہ الحاقِ پاکستان بھی چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر کی قیادت میں دو طرح کا مؤقف پایا جاتا تھا ایک کشمیری قیادت بھارت سے آزادی کے بعد پاکستان سے الحاق کی خواہاں تھی جبکہ کچھ کشمیری رہنمائوں کا خیال تھا کہ وہ صرف خود مختار کشمیر چاہتے ہیں مگر برہان وانی کی شہادت کے بعد جموں و کشمیر میں آزادی کی تحریک میں جو تیزی آئی اس میں تمام کشمیری قائدین کا مؤقف ایک ہو گیا کہ وہ نہ صرف بھارت سے آزادی حاصل کریں گے بلکہ پاکستان کا حصہ بھی بن کر رہیں گے۔ حافظ سعید نے بتایا کہ اس کی بڑی وجہ ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری آزادی تحریک کا علم وہاں کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے یہی وجہ ہے کہ اب تمام کشمیری قیادت میں کوئی اختلاف نہیں اور اگر کوئی کرے گا تو اسکی کوئی حیثیت نہ ہو گی۔ کشمیری نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ یا تو وہ پاکستان کے ساتھ رہے گا یا موت کی آغوش میں جانا قبول کر ے گا۔ یہ بھی پہلی مرتبہ دیکھا گیا کہ سخت کرفیو کے باوجود کشمیری ناصرف آزادی کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر ہیں بلکہ ان کے سینے کے ساتھ پاکستانی پرچم کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔ آج ان کی تحریک کا محور اور مقصد صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ الحاق ہے۔ جو کشمیری شہید ہو رہا ہے اس کی میت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کیا جا رہا ہے۔ خوش آئند امر یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بھی کشمیر کے مسئلہ پر تمام سیاسی قیادت متحد ہے۔ حافظ سعید کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر ایشو پر جن خیالات کا اظہار کیا درحقیقت وہی پورے پاکستان کا اصل مؤقف ہونا چاہئے اور اگر پاکستان اپنے اسی عزم پر مضبوطی سے ڈٹ جائے تو نہ صرف کشمیریوں کو اس سے اطمینان حاصل ہوگا بلکہ انہیں اپنی تحریک آزاد ی کو بھرپور انداز میں جاری رکھنے کا حوصلہ ملے گا اور یہ میرے ایمان کا حصہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ہی مقبوضہ جموں وکشمیر کو آزاد ہوتا دیکھیں گے۔ حافظ سعید جو کشمیر کے حوالے سے کھلا اور واضح مؤقف رکھتے ہیں ان کی کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر ہے وہ اس ایشو پر بھارت کے خلاف کھل کر بات کرتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت کیلئے وہ سب سے ناپسندیدہ پاکستانی ہیں۔ حافظ سعید کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بتائے گئے حقائق اپنی جگہ لیکن میں یہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ حکومت وقت کو کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک پر مکمل نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ بھارت کو اب اس بات کا اندازہ ہو چلا ہے کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب کشمیر میں رائے شماری ہو سکتی ہے لہٰذا بھارت نے مشرقی پنجاب والی پالیسیوں کا آغاز کشمیر میں بھی کر دیا ہے۔ 1984ء کے بعد جب مشرقی پنجاب میں خالصہ تحریک شروع ہوئی جس میں سکھوں نے بھارتی پنجاب کو الگ ملک بنانے کا مطالبہ کیا تھا اس دوران بھارتی حکومت نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بہار کے لوگوں کی پنجاب میں تیزی سے آباد کاری شروع کر دی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر بھارت کو مشرقی پنجاب میں رائے شماری کروانا پڑی تو فیصلہ اس کے حق میں آئے۔ اس دوران ایک پالیسی کے تحت بہار سے کوئی بھی ہندو مشرقی پنجاب میں رہائش کے لئے جاتاتو اِس کو نا صرف نوکری اور چھوٹے موٹے کاروبار کے لئے قرضے دیئے جاتے بلکہ ان کا فوری طور پر راشن کارڈ بنادیا جاتا تا کہ ان کو ووٹ کا حق مل سکے۔ اسی پالیسی کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر میں پنڈتوں کی بھاری تعداد کی آباد کاری کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس حوالے سے اسرائیل کی طرز پر کالونیاں بنانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر جموں میں تو اس منصوبے پر کام شروع بھی کر دیا گیا ہے۔ایک اندازے کے مطابق 7 لاکھ کے قریب بھارتی پنڈتوں کو جموں میں بنائی جانے والی ان کالونیوں میں رہائش فراہم کی جائے گی۔ اسی طرح فوج سے ریٹائرڈ افرادکو بھی مقبوضہ کشمیر کے مستقل رہائشی بنانے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔یہ وہ ریٹائرڈ فوجی ہیں جو برسہا برس سے کشمیر میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ جموں میں بھی پناہ گزینوں کے بھیس میں اب تک 7 لاکھ سے زائد ہندوئوں کو آباد کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جموں میں ہی بھارتی انتہا پسند تنظیمیں جن میں شیو سینا، بجرنگ دل، وی ایچ پی، آر ایس ایس شامل ہیں ان تنظیموں کے ناصرف دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں بلکہ ان کی تربیت گاہیں بھی بنائی جا رہی ہیں جہاں ہندوئوں کو عسکری ٹریننگ دی جائے گی تاکہ یہ مسلح گروپ مسلم آبادیوں پر حملے کر سکیں اور بھارت اقوام عالم کو یہ باور کرا سکے کہ معصوم شہریوں پر یہ حملے مجاہدین کر رہے ہیں۔بھارت کی ان تمام سازشوں اور منصوبہ بندی کو بے نقاب کرنے کیلئے مؤثر انداز اختیار کرتے ہوئے دنیا کو حقائق بتانا انتہائی ضروری ہے۔ اس حوالےسے پاکستانی دفتر خارجہ کو مکمل اورجامع حکمت عملی اپنانا ہوگی تا کہ بھارت کے یہ ناپاک عزائم اور منصوبے دنیا کے سامنے رکھے جا سکیں۔حکومت پاکستان سمیت ہماری تمام سیاسی قوتوں کا یہ فرض ہے کہ کشمیر میںجاری حالیہ تحریک آزاد ی کی لہر کو تقویت دینے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اس آزاد ی کی بھرپور اخلاقی حمایت کریں۔حکومت پاکستان کو مؤثر خارجہ پالیسی کے تحت اقوام عالم کو یہ باور کروانا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ انتہائی سنجیدہ اور اہم ہے۔کشمیر ی عوام کی خواہشات کے مطابق اس مسئلہ کو جلد حل ہونا چاہئے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں