آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہمیں بتایا گیا ہے کہ حافظ سعید کو اینٹی ٹیررسٹ ایکٹ کے تحت نظر بند کیاگیا ہے ۔ اُنہیں اس وقت نظر بند کرنے کی کیا وجہ تھی ؟ کیااس کی وجہ یواین سیکورٹی کونسل کی قرارداد 1267 ہے؟کیااس کا تعلق صدر ٹرمپ کی طرف سے سات مسلم ریاستوں کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی سے ہے؟ اُن کے چیف آف اسٹاف کے مطابق پاکستان بھی اس پابندی کی زد میں آسکتا ہے ۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ وجوہ نہیں ہیں۔ اس کی بجائے ریاست نے یہ فیصلہ ’’قومی مفاد ‘‘ میں کیا ہے۔اسٹیبلشمنٹ کااصرار ہے کہ اس کا تعلق غیر ملکی دبائو سے ہرگز نہیں ہے ۔
اس سے پہلے حافظ سعید کو 2001 ء میں اُس وقت نظر بند کیا گیا جب بھارت نے شور مچایا کہ حافظ سعید اُن کی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث ہیں۔ وہ چند ماہ تک حراست میں رہے ۔ اس کے بعد 2006 ء میں ممبئی ٹرین حملے کے بعد اُنہیں گھر میں نظر بند کردیا گیا، لیکن جب ریاست اُن کی حراست کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہی تو اُنہیں لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ 2008 ء کے ممبئی حملوں کے بعد یواین سیکورٹی کونسل نے انڈیا کی درخواست پر (قرار داد 1267 کے تحت) اُنہیں’’ دہشت گردی سے روابط رکھنے والے افراد‘‘ کی فہرست میں شامل کرلیا۔ جب یواین سیکورٹی کونسل نے اس دعوے کو تسلیم کرلیا کہ جماعت الدعوۃ دراصل لشکر ِ طیبہ کا ہی تبدیل شدہ

نام ہے ،نیز یہ تنظیم اور اس کی قیادت دہشت گردی میں کسی نہ کسی حد تک ملوث ہے تو حافظ سعید کو ایک بار پھر حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ 2009 ء میں لاہور ہائی کورٹ نے رولنگ دیتے ہوئےکہ یہ نظربندی آئین کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی ہے ، اُن کی رہائی کا حکم دیا۔ اس دوران امریکہ نے یواین سیکورٹی کونسل کی پوزیشن کی حمایت کرتے ہوئے لشکر ِ طیبہ اور جماعت الدعوۃ کو ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں‘‘ کی فہرست میں شامل کردیا، اور ممبئی حملوں میںمبینہ ملوث ہونے کی پاداش میں 2012 ء میں حافظ سعید کے سرکی قیمت دس ملین ڈالر لگادی ۔
جیش ِ محمد کے مسعود اظہر کی بھی ایسی ہی کہانی ہے ۔ وہ اُس وقت مشہور ہوئے جب 1999 ء میںبھارتی طیارہ اغواکرکے قندھار لے جایا گیا اور اُنہیں بھارتی قیدسے چھڑایا گیا۔ رہاہونے پر وہ فاتحانہ طور پر پاکستان آئے اور بڑی بڑی عوامی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کو آزاد کرانے کا عہد کیا ۔ اُنہیں 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد گرفتار کرلیا گیا، لیکن 2002 ء میں عدالت نے اُنہیں بھی رہاکرنے کا حکم دیا۔ حال ہی میں، 2016 ء میں پٹھان کوٹ حملے کے بعد اُنہیں حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ بھارت کا دعویٰ تھا کہ مسعود اظہر اور جیش ِ محمد پٹھان کوٹ حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
دنیا کو اس بات پر کوئی شبہ نہیں کہ مسعود اظہر اور حافظ سعید اوراس طرح کے دیگر افراد دہشت گردی کے سرپرست ہیں۔ یواین سینکشن کمیٹی(The UN Sanctions Committee) نے حافظ سعید کو اس میں باضابطہ طور پر شامل کرلیا ہے ، جبکہ مسعود اظہر کا نام اس میں شامل نہیں کیا جاسکا۔ اس کی وجہ ہمارا اچھا ہمسایہ ملک چین ہے جس نے دوبھارتی درخواستوں کو ویٹو کردیا۔ اس طرح چین نے ایسے چند ایک موقع پر پاکستان کی حمایت کی ہے ، لیکن دیکھنا پڑے گا کہ کب تک ہمارا بوجھ اٹھاتا ہے ۔ اس مسئلے پر پاکستان کی پوزیشن یہ ہے کہ دنیا کو ان شرفا کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے ، یہ معزز شہری دراصل بھارتی سازش کا شکار ہیں، نیز ہم صرف انٹر نیشنل ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے اُنہیں تحویل میں لیتے ہیں۔ تاہم چین کے علاوہ کوئی ملک بھی ہمارے اس موقف پر یقین نہیں کرتا۔ چونکہ ہماری ریاست ان مقامی جہادیوں، جنہیںیواین دہشت گردقرار دیتی ہے، کو اپنی گرد ن پر سوار کیے ہوئے ہے، اس لئے عالمی برادری کو یہ تاثر جاتا ہے کہ پاکستان بھی دہشت گردی میں ملوث ہے ۔ اُسامہ بن لادن کے ہماری سرزمین پر ملنے کے بعد ہم نے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے دنیا کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہم دہشت گردی میں ملوث نہیں، اس سے نمٹنے میں نااہل ہیں۔ دنیانے کسی حد تک ہماری بات پر یقین کرلیا ، لیکن کیا ہم مسعود اظہر اور حافظ سعید سے نمٹنے میں بھی نااہل ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں؟
ہم جہادیوں اور انتہا پسند وںکو اس طرح تحویل میں لینے اور رہاکرنے کا کھیل کب تک کھیلتے رہیں گے ؟اگر دوعشروں کی چھان بین کے بعد ریاست اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ وہ بے گنا ہ ہیں تو پھر وہ عالمی برادری کو قائل کیوں نہیں کرپارہی ؟اگر ایسا نہیں ہے تو پاکستان اُن کی پشت پناہی کا الزام کیوں برداشت کررہا ہے ؟کیا وہ ابھی بھی نیشنل سیکورٹی ڈاکٹرائن کا حصہ ہیں ؟کیا ریاست اس بات پر قائل ہے کہ اب نظریاتی بنیادوں پر متحرک غیر ریاستی عناصر کے بارے میں عالمی برادری کا ٹھوس موقف تحلیل ہونے کے قریب ہے ، چنانچہ ان کے دوبارہ استعمال کا موقع آرہا ہے ۔
پاکستان نے آر می پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد دہشت گردی کے خلاف کمال کی جنگ لڑی ہے۔ ہم اس کامیابی کی کہانی دنیا کو سناتے نہیں تھکتے، اور ہمیں سنانی چاہئے ۔ تاہم اس سے حاصل ہونے والا اہم سبق یہ ہے کہ اگر ہماری ریاست چاہے تو وہ دہشت گردی کا خاتمہ کرسکتی ہے ۔ توپھر جب ہم پردہشت گردی کے سرپرست ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے تو ہم اس کے جواب میں یہ دلیل کس طرح دے سکتے ہیں کہ دنیا کی کسی ریاست نے ہم سے زیادہ دہشت گردوںکے ہاتھوں زک نہیں اٹھائی ؟ہم دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ایک ایسی کم عقل ریاست ہیں جو اپنے پچاس ہزار شہریوںاور سیکورٹی اہل کاروں کی انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بھی ان کی سرپرستی سے باز نہیں آئے ہیں۔
ہم کوئی کمزور دل ریاست نہیںہیں۔ آپ سنگدل کہہ لیں تو غلط نہیں ہوگا۔ ہم نے بہت کامیابی سے یہ بیانیہ ارزاں کیا ہے اور اس پر عمل کر کے دکھایاہے کہ قطعی مجرموں کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ ریاست ’’جنگی بنیادوں ‘‘پر ماورائے عدالت قتل کا بھی جواز رکھتی ہے۔ اسے ملک اسحاق اور بابا لاڈلا جیسے قاتلوں کو ختم کردینے کا کریڈٹ حاصل ہے ۔ یہ ضرورت محسوس ہونے پر شہریوں کی ’’گمشدگی ‘‘ کا بھی دفاع کرلیتی ہے ۔تو پھر اتنی توانا ریاست کے شہری اس خوف میں کیوں مبتلا رہتے ہیں کہ دنیا میں کہیںبھی دہشت گردی کی کارروائی ہوئی تو اس کے روابط پاکستان سے ملیں گے ؟یہاں مذہبی انتہا پسندی اور بڑھتے ہوئے تشدد کا کیا جواز ہے ؟
بات یہ ہے کہ جب دفاع اور سیکورٹی کی بات ہوتو پاکستان کوئی ناکام ریاست نہیں۔ اس کی فوج بہت مضبوط اور انٹیلی جنس نیٹ ورک بہت موثر ہے، اور جب اسے ضرورت محسوس ہوتو یہ انتہائی دلیرانہ کام بھی کرگزرتی ہے ۔ اس کے شہری بھی یہ بات جانتے ہیں اور دنیا بھی ۔ تو پھر کیا بات ہے جب حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے افراد ، جو ریاست کے خلاف جنگ تو نہیں کرتے لیکن جہاد کی برآمد میں ملوث ہیں تو پھر عالمی برادری پاکستان کی طرف انگشت نمائی کرتی ہے ۔ ابہام صرف یہ ہے کہ کیا ایسا ریاستی پالیسی کے طور پر ہوتا ہے یا اس میں کوتاہی اور نااہلی کا عمل دخل ہے ۔ یہ قانون ہائوس آف لارڈ میں Rylands v. Fletcher کے حوالے سے سامنے آیا ۔۔۔’’ایسا شخص جو اپنی زمین پر ایسی چیزیں رکھتا ہے جو قابو سے باہر ہوجانے پر نقصان کا باعث بنیں تو اسے دیگر افراد کو ان سے پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔‘‘غیر ریاستی عناصر کے بارے میں دنیا اسی منطق کو تسلیم کرتی ہے ۔ جو ریاست غیر ریاستی عناصر کی سرپرستی کرتی ہے ، اسے اور اس کے شہریوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا ۔
اسٹیبلشمنٹ کے جو بقراط یہ سوچتے ہیں کہ پاکستان خرگوش کا ساتھ بھی دے سکتا ہے اور اس کا تعاقب کرنے والے کتوں کا بھی ، تو اُنہیں اپنی سوچ پر نظر ِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ نائن الیون کے بعد ہمارا ہاتھ کس بیلن میں پھنسا ہوا ہے ؟ہم امریکی انتظامیہ کی پاکستان کے بارے میں سوچ کے بارے میں کیوں ہلکان ہوتے رہتے ہیں؟ترکی، ملائیشیا یا بنگلہ دیش کو یہ فکر کیوں لاحق نہیں؟ پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ دنیا میں سفر کرنا مشکل ترین کام کیوں بن چکا ہے؟ کیا دوسو ملین نفوس پر مشتمل یہ ملک غیر ریاستی عناصر کے سامنے بے بس ہے یا ان کے بارے میں کسی تذبذب کا شکار ہے؟ کیا ابھی بھی ہماری غلط فہمی دور ہونا باقی ہے؟



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں