آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پشاور(جنرل رپورٹر) ملک بھر کےسرکاری سکولوں میں ریاضی اور سائنس کےمضامین کے سیکھنے کا معیارناقابل یقین حد تک پست ہے، جوملک میں تعلیم کے شعبے میں بہتری کے دعوئوں کی نفی کرتا ہے، تعلیم کا معیار بہتربنائے بغیر پاکستان معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکتا، پاکستان الائنس فار میتھس اینڈ سائنس کی ایک رپورٹ کے مطابق نیشنل ایجوکیشن اسسمنٹ سسٹم (این ای اے ایس) کے تحت 2014ءمیں ہونے والے امتحان کے نتائج کے مطابق آٹھویں جماعت کے بچوں کا ریاضی میں اوسط سکور کل 1000میں سے 461رہا جبکہ چوتھی جماعت کے بچوں کا ریاضی میں اوسط سکور 422رہا۔ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن پی ای سی کے 2016ءکے امتحان کے نتائج کے مطابق پنجاب میں پانچویں جماعت کے بچوں کا ریاضی میں اوسط سکور 53فیصدجبکہ سائنس میں 49فیصد ہے، سندھ کے سٹینڈرڈائزڈ اچیومنٹ ٹیسٹ کے امتحان کے نتائج کے مطابق سندھ میں پانچویں جماعت کے بچوں کا ریاضی میں سکور 24فیصد جبکہ سائنس میں 24فیصد رہا۔ 2014ءاین ای اے ایس کے سالانہ نتائج کے مطابق ریاضی میں خیبرپختونخوا کے بچوں کا اوسط سکور 423جبکہ سائنس میں 441ہے۔پاکستان الائنس فار میتھس اینڈ سائنس کے مطابق ریاضی اور سائنس کےمضامین میں بچوں کی ناقص کارکردگی کی وجوہات میں ریاضی وسائنس کی تعلیم کے سیاسی اور معاشی پہلو پاکستانی بچوں کی ترقی وبہبود

کی بجائے مختلف گروہوں کے مفادات تک محدودہونا،فرسودہ نظام تعلیم، ریاضی وسائنس کے مضامن میں معیاری تعلیم دینے کیلئے درکارسہولیات وآلات کاموجودنہ ہونااور ایسے اساتذہ کی کمی جو بچوں کو ان مضامین کی تعلیم دینے کی قابلیت رکھتے ہوں، بھی شامل ہیں۔  

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں